
از قلم: ڈاکٹر مریم خالد
موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں درجۂ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے جس کے نتیجے میں ہیٹ ویو شدید گرمی کی لہر ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں گرمی کی شدت ہر سال نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ یہ شدید گرمی صرف انسانوں ہی نہیں بلکہ جانوروں کی صحت پیداواری صلاحیت اور بقا کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ خاص طور پر دودھ دینے والے جانور بچھڑے بکریاں بھیڑیں اور پولٹری گرمی کے اثرات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں مویشی پال حضرات کی ذمہ داری ہے کہ وہ بروقت حفاظتی اقدامات اختیار کریں تاکہ جانوروں کو ہیٹ اسٹریس سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ہیٹ ویو کے دوران جانوروں میں سانس کی رفتار بڑھ جانا زیادہ ہانپنا خوراک میں کمی پانی کی ضرورت بڑھ جانا دودھ کی پیداوار میں واضح کمی جسمانی کمزوری اور شدید صورت میں بے ہوشی یا موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اس لیے احتیاط ہی بہترین علاج ہے۔
سب سے اہم حفاظتی اقدام جانوروں کو مناسب سایہ فراہم کرنا ہے۔ اگر جانور کھلے میدان میں رکھے جائیں تو ان کے لیے درختوں شیڈز یا سایہ دار جگہوں کا انتظام ضروری ہے۔ شیڈ اس انداز سے بنایا جائے کہ ہوا کی آمدورفت میں رکاوٹ نہ ہو اور اندر کا ماحول نسبتاً ٹھنڈا رہے۔
صاف ٹھنڈا اور وافر مقدار میں پانی ہر وقت جانوروں کی دسترس میں ہونا چاہیے۔ گرمی کے موسم میں جانور معمول سے زیادہ پانی پیتے ہیں اس لیے پانی کی کمی ہرگز نہ ہونے دی جائے۔ پانی کی ٹینکیوں اور برتنوں کی باقاعدگی سے صفائی بھی ضروری ہے تاکہ آلودہ پانی بیماریوں کا سبب نہ بنے۔
خوراک کے انتظام میں بھی خصوصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ جانوروں کو دن کے نسبتاً ٹھنڈے اوقات یعنی صبح سویرے یا شام کے وقت چارہ اور دانہ دیا جائے۔ خراب پھپھوندی زدہ یا باسی خوراک استعمال نہ کرائی جائے کیونکہ گرمی میں ایسی خوراک جلد خراب ہو کر جانوروں کی صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔ متوازن غذا جانوروں کی قوتِ مدافعت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
شدید گرمی کے دوران جانوروں پر دن کے وقت غیر ضروری بوجھ ڈالنے یا انہیں لمبے فاصلے تک چلانے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر نقل و حمل ضروری ہو تو صبح یا شام کے وقت کی جائے تاکہ گرمی کا دباؤ کم رہے۔
دودھ دینے والے جانوروں پر گرمی کے اثرات زیادہ نمایاں ہوتے ہیں اس لیے انہیں پنکھوں واٹر سپرنکلرز یا ہلکے پانی کے چھڑکاؤ کے ذریعے ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ خیال رکھا جائے کہ جانور زیادہ دیر تک گیلے نہ رہیں تاکہ جلدی بیماریوں کا خطرہ پیدا نہ ہو۔
مویشی فارموں میں صفائی کا خاص خیال رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔ گوبر اور گندگی کو روزانہ صاف کیا جائے تاکہ نمی بدبو اور بیماری پیدا کرنے والے جراثیم میں اضافہ نہ ہو۔ صاف ستھرا ماحول جانوروں کو گرمی کے منفی اثرات سے نمٹنے میں مدد دیتا ہے۔
اگر کسی جانور میں شدید ہانپنے کھڑے ہونے میں دشواری جسم کا غیر معمولی گرم ہونا یا بے ہوشی جیسی علامات ظاہر ہوں تو اسے فوری طور پر سایہ دار جگہ منتقل کیا جائے ٹھنڈا پانی فراہم کیا جائے اور جسم پر ہلکا پانی چھڑکا جائے۔ ایسی صورت میں فوری طور پر قریبی ویٹرنری ڈاکٹر یا لائیوسٹاک افسر سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ بروقت علاج ممکن ہو سکے۔
محکمہ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بھی ہر سال گرمی کے موسم میں آگاہی مہمات ویٹرنری کیمپس اور مفت مشاورتی خدمات کے ذریعے مویشی پال حضرات کی رہنمائی کرتا ہے۔ کسانوں کو چاہیے کہ وہ ان خدمات سے بھرپور استفادہ کریں اور ماہرین کی ہدایات پر عمل کریں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہیٹ ویو ایک قدرتی چیلنج ضرور ہے لیکن مناسب منصوبہ بندی بروقت احتیاط اور بہتر انتظام کے ذریعے اس کے مضر اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ جانور ہماری معیشت غذائی تحفظ اور دیہی زندگی کا اہم سرمایہ ہیں۔ ان کی صحت کا تحفظ نہ صرف ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری بلکہ قومی مفاد بھی ہے۔ اگر ہم آج مناسب حفاظتی اقدامات اختیار کریں تو نہ صرف جانوروں کی جانیں بچا سکتے ہیں بلکہ دودھ گوشت اور دیگر مویشی پیداوار میں ہونے والے معاشی نقصانات سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔