پاکستان سے چین اور خلیجی ممالک کو اونٹنی کے دودھ کی برآمدات میں اضافہ

پاکستان سے اونٹنی کے دودھ کی چین اور خلیجی ممالک کو برآمدات میں اضافہ

پاکستان کے نجی شعبے نے اونٹنی کے دودھ کے پاؤڈر اور اس سے تیار کردہ ڈیری مصنوعات کی چین اور خلیجی منڈیوں کو برآمدات تیز کر دی ہیں۔ دوسری جانب ملک کے اندر اونٹوں کی تعداد بڑھانے اور جدید ڈیری ویلیو چین تیار کرنے کے لیے بھی منظم کوششیں جاری ہیں۔

ای ایل سی بائیوٹیکنالوجی کے مینیجنگ ڈائریکٹر احتشام الحق نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی کمپنی نے سال 2023 میں چین کو کیمل ملک پاؤڈر کی ترسیل شروع کی تھی۔ اب اس کا دائرہ کار سعودی عرب، امریکا اور دیگر بین الاقوامی منڈیوں تک پھیل چکا ہے۔

عالمی معیار اور لیبارٹری ٹیسٹنگ

احتشام الحق کے مطابق پاکستان میں روایتی طور پر اونٹنی کے دودھ کی طلب مخصوص ذائقے کی وجہ سے محدود رہی ہے، تاہم چین اور خلیجی ریاستوں میں اس کے غذائی و طبی فوائد کے باعث مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی مصنوعات نے چین، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور امریکا کی فوڈ لیبارٹریز سے تصدیق اور کوالٹی سرٹیفیکیشن حاصل کر لی ہے۔ درآمد کنندگان صرف خالص دودھ قبول کرتے ہیں اور ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے جانچ کرتے ہیں، جس میں کسی دوسرے دودھ کی ملاوٹ پر پوری کھیپ مسترد کر دی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اونٹنی کا دودھ قدرتی طور پر انسولین جیسے پروٹینز پر مشتمل ہونے کے باعث ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔

ویلیو چین نیٹ ورک اور مقامی مارکیٹ کے منصوبے

کمپنی نے جنوبی پنجاب میں ملتان سے صادق آباد تک 22 جدید ملک کلیکشن سینٹرز قائم کیے ہیں۔ یہ نیٹ ورک کوآپریٹو ماڈل کے تحت کام کرتا ہے جہاں مقامی کسانوں سے روزانہ کی بنیاد پر دودھ جمع کیا جاتا ہے۔ ادارہ اس وقت یومیہ 15000 سے 20000 لیٹر دودھ اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کا ہدف سالانہ 500 سے 600 ٹن اونٹنی کے دودھ کا پاؤڈر برآمد کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، کمپنی ستمبر میں مخصوص بو ختم کر کے مقامی مارکیٹ میں بھی یہ دودھ پیش کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

حکومتی سرپرستی اور پالیسی تعاون

وفاقی وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ڈیری کنسلٹنٹ ڈاکٹر محمد جنید نے اس بات پر زور دیا کہ پنجاب اور وفاقی حکومت نجی شعبے کی معاونت کر کے اس شعبے کو وسعت دے سکتی ہے۔ حکومت کیمل فارمز کے لیے زمین اور چلنگ یونٹس کے لیے فنڈنگ فراہم کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق اونٹنی کے دودھ کی مصنوعات میں برآمدات بڑھانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔

پنجاب میں اونٹوں کی نسل کشی اور افزائش کے منصوبے

پنجاب لائیو اسٹاک ڈپارٹمنٹ مقامی نسلوں کے تحفظ اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی پروگرام چلا رہا ہے۔ ڈائریکٹر ڈاکٹر خالق شفیع نے بتایا کہ ضلع بھکر میں واقع رکھ مہنی ریسرچ اسٹیشن ماریچا نسل پر کام کر رہا ہے جبکہ اٹک کا فارم بَریرا نسل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

پنجاب میں اونٹوں کی تعداد 199000 سے بڑھ کر 252000 ہو چکی ہے جو 26 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ پنجاب پاکستان کی کل اونٹوں کی آبادی کے لگ بھگ 22 فیصد حصے پر مشتمل ہے۔ صوبے میں ایک کوہان والی پانچ نمایاں نسلیں مڑیچہ، باگڑی، بَریرا تھلوچی، کیمبلپوری اور کالا چٹا پائی جاتی ہیں۔ سرکاری فارمز کسانوں کو سخت موسمی حالات میں اونٹ بانی کے معاشی فوائد سے آگاہ کر رہے ہیں تاکہ ملکی معیشت اور برآمدات کو سہارا مل سکے۔

جواب دیں