نشاط گروپ کا ڈیری شعبے سے اخراج، پاکستان کی معیشت اور ڈیری صنعت کے لیے خطرے کی گھنٹی

نشاط گروپ کا ڈیری شعبے سے اخراج، پاکستان کی معیشت اور ڈیری صنعت کے لیے خطرے کی گھنٹی

نشاط ملز لمیٹڈ کی جانب سے نشاط سوتاش ڈیری لمیٹڈ میں اپنے 49.10 فیصد حصص ترک شراکت دار کو فروخت کرنے کی تجویز کو محض دو کاروباری اداروں کے درمیان حصص کی منتقلی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو دی گئی کمپنی کی اطلاع سے حصص کی مجوزہ فروخت کی تصدیق ہوتی ہے، تاہم اس کاروباری فیصلے کی حتمی وجوہات سامنے لانے کے لیے متعلقہ کمپنیوں اور اداروں کا تفصیلی مؤقف ضروری ہے۔ نشاط ملز کی پی ایس ایکس اطلاع⁠

اس احتیاط کے باوجود ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان کا بنیادی سوال اپنی جگہ نہایت اہم ہے: اگر سرمایہ، ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ انتظام، بینکاری سہولت اور مارکیٹ تک رسائی رکھنے والا ایک بڑا پاکستانی صنعتی گروپ ڈیری کاروبار میں اپنی شراکت برقرار نہیں رکھتا تو محدود وسائل کے ساتھ کام کرنے والے چھوٹے فارمر کا مستقبل کتنا محفوظ ہے؟

یہ سوال صرف ڈیری فارمر کا نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی سمت، سرمایہ کاری کے ماحول، دیہی روزگار اور غذائی تحفظ کا سوال ہے۔

حکومت اعلانات سے آگے کب بڑھے گی؟

حکومت کی معاشی کارکردگی کا جائزہ صرف مہنگائی کی شرح، زرمبادلہ کے ذخائر یا آئی ایم ایف پروگرام کی کامیاب قسط سے نہیں لیا جا سکتا۔ حقیقی کامیابی اس وقت ہوگی جب ملک میں صنعتیں قائم رہیں، مقامی سرمایہ کار کاروبار بڑھائیں، کسان کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت ملے اور نوجوانوں کے لیے مستقل روزگار پیدا ہو۔

پاکستان نے بعض معاشی اشاریوں میں استحکام ضرور حاصل کیا ہے، لیکن استحکام اور ترقی ایک ہی چیز نہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالی نظم میں پیش رفت کے باوجود عالمی مالیاتی ادارے بھی مسلسل ساختی اصلاحات، توانائی کے شعبے کی بہتری، نجی سرمایہ کاری اور مضبوط معاشی پالیسیوں کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ پاکستان کو آئندہ ایک دہائی میں کروڑوں نئی ملازمتیں پیدا کرنا ہوں گی، اور اس مقصد کے لیے زراعت، لائیوسٹاک اور چھوٹے کاروباروں کو مرکزی اہمیت دینا ناگزیر ہے۔ عالمی بینک کے صدر کا روزگار سے متعلق مؤقف⁠

حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کاروباری ادارے صرف مراعات سے نہیں بلکہ پالیسی کے تسلسل، منصفانہ ٹیکس نظام، سستی توانائی، مؤثر ضابطہ کاری اور قانونی تحفظ سے قائم رہتے ہیں۔ اگر کسی شعبے میں بجلی، چارے، ادویات، ٹرانسپورٹ، مشینری اور مالیاتی اخراجات مسلسل بڑھتے رہیں، جبکہ تیار مصنوعات کی قیمت کا نظام غیر شفاف ہو، تو بڑے اور چھوٹے دونوں سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔

ڈیری فارمر دونوں طرف سے دباؤ میں ہے

پاکستان کا چھوٹا ڈیری فارمر کسی محفوظ کاروباری ماحول میں کام نہیں کر رہا۔ اسے چارہ، ونڈا، بھوسا، ادویات، ویکسین، بجلی، پانی، مزدوری اور ٹرانسپورٹ مہنگی ملتی ہے، لیکن دودھ کی قیمت مقرر کرنے میں اس کی آواز نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس کے پاس نہ مؤثر انشورنس ہے، نہ بیماری یا جانور کی ہلاکت کی صورت میں مالی تحفظ اور نہ ہی ایسا آسان قرض جس سے وہ اپنے فارم کو جدید بنا سکے۔ ایک جانور کی بیماری، دودھ کی پیداوار میں معمولی کمی یا ادائیگی میں تاخیر بھی اس کے پورے کاروبار کو نقصان میں دھکیل سکتی ہے۔

حکومتیں دودھ کو بنیادی غذا تو قرار دیتی ہیں، مگر دودھ پیدا کرنے والے کسان کے لیے کوئی مستقل قومی پالیسی تشکیل نہیں دے سکیں۔ قیمتوں پر مصنوعی کنٹرول، غیر رسمی سپلائی چین، ملاوٹ، غیر معیاری دودھ، زائد پیداواری لاگت اور کمزور کولڈ چین جیسے مسائل برسوں سے موجود ہیں۔ ان کے حل کے بغیر نہ صارف کو معیاری دودھ مناسب قیمت پر مل سکتا ہے اور نہ فارمر کو پائیدار آمدن۔

سیاسی عدم استحکام کی قیمت معیشت ادا کرتی ہے

پاکستان کی معاشی کمزوری کو سیاسی عدم استحکام سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ مسلسل سیاسی محاذ آرائی، حکومتوں کی تبدیلی کا خوف، پالیسیوں میں اچانک ردوبدل اور اداروں کے درمیان کشیدگی سرمایہ کار کو طویل مدتی منصوبہ بندی سے روکتی ہے۔

ملک میں سیاست دانوں، سرکاری اہلکاروں اور کاروباری شخصیات پر کرپشن کے سنگین الزامات لگتے رہے ہیں۔ کرپشن کے ہر قابلِ اعتبار الزام کی آزادانہ، شفاف اور قانونی تحقیقات ہونی چاہییں۔ کسی شخص یا جماعت کو قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن الزام، سیاسی مہم اور عدالتی طور پر ثابت شدہ جرم میں فرق برقرار رکھنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

جب احتساب قانون کے بجائے سیاسی ضرورت کے مطابق ہوتا دکھائی دے، مقدمات میڈیا میں چلائے جائیں اور الزامات کو فیصلوں کے طور پر پیش کیا جائے تو اس سے صرف متعلقہ افراد نہیں بلکہ پورے ملک کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ بیرونی سرمایہ کار یہ دیکھتا ہے کہ کیا پاکستان میں معاہدے محفوظ ہیں، فیصلے قانون کے مطابق ہوتے ہیں اور حکومت کی تبدیلی کے بعد کاروباری پالیسی برقرار رہتی ہے یا نہیں۔

ریاست کی ساکھ سیاسی مخالفین کو بدنام کرنے سے نہیں بلکہ شفاف احتساب، آزاد عدلیہ، مضبوط پارلیمان، قابلِ اعتماد اداروں اور یکساں قانون سے بہتر ہوتی ہے۔ کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے، مگر احتساب کو سیاسی انتقام بننے دینا بھی معیشت اور جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہے۔

حکومت کی اولین ترجیح معیشت ہونی چاہیے

پاکستان اب ایسی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا جس میں حکومت اور حزب اختلاف کی تمام توانائی ایک دوسرے کو ختم کرنے پر صرف ہو۔ سیاسی جماعتوں کو کم از کم معیشت، سرمایہ کاری، زراعت، توانائی، برآمدات اور غذائی تحفظ کے معاملات پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ڈیری شعبے کے لیے فوری طور پر درج ذیل اقدامات کرنے چاہییں:

نشاط ملز کے حصص کی مجوزہ فروخت سمیت ڈیری شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کو متاثر کرنے والے عوامل کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔

بڑے ڈیری اداروں، چھوٹے فارمرز، دودھ جمع کرنے والی کمپنیوں، صارفین، ماہرین اور صوبائی محکموں پر مشتمل قومی مشاورتی اجلاس بلایا جائے۔

دودھ کی قیمت کے تعین کے لیے حقیقی پیداواری لاگت، مناسب منافع اور صارف کی قوتِ خرید پر مبنی شفاف طریقہ وضع کیا جائے۔

چارے، ونڈے، ویکسین، ادویات، بجلی، پانی اور کولڈ چین کی لاگت کم کرنے کے لیے ہدفی سہولتیں دی جائیں۔

چھوٹے فارمرز کے لیے کم شرح قرض، لائیوسٹاک انشورنس اور بیماری یا قدرتی آفت کی صورت میں ہنگامی مالی تحفظ فراہم کیا جائے۔

دودھ میں ملاوٹ اور غیر معیاری مصنوعات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، جبکہ قانونی کاروبار پر غیر ضروری ضابطہ جاتی بوجھ کم کیا جائے۔

مقامی نسلوں کی بہتری، بیماریوں کی روک تھام، ویکسینیشن، افزائش نسل اور فی جانور دودھ کی پیداوار بڑھانے پر سرمایہ کاری کی جائے۔

ڈیری پالیسی کو سیاسی حکومتوں کی مدت سے بالاتر قانونی اور ادارہ جاتی تحفظ دیا جائے۔

یہ محض ایک کمپنی کا معاملہ نہیں

ترک کمپنی سوتاش کی جانب سے پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کا امکان یقیناً مثبت پہلو ہے۔ تاہم ایک بڑے پاکستانی صنعتی گروپ کا اپنی حصص داری فروخت کرنے کا فیصلہ پالیسی سازوں کے لیے سنجیدہ جائزے کا موقع ضرور فراہم کرتا ہے۔ حکومت کو قیاس آرائیوں کی تردید تک محدود رہنے کے بجائے یہ معلوم کرنا چاہیے کہ ڈیری کاروبار کی پائیداری میں اصل رکاوٹیں کیا ہیں۔

معیشت تقریروں، دعوؤں اور عارضی اعدادوشمار سے مضبوط نہیں ہوتی۔ معیشت اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب کسان فارم بند کرنے کے بجائے اسے توسیع دے، صنعت کار سرمایہ نکالنے کے بجائے نئی سرمایہ کاری کرے، نوجوان ملک چھوڑنے کے بجائے یہاں مستقبل دیکھے اور ریاست ہر کاروباری فرد کو قانون، پالیسی اور معاہدے کے تحفظ کی ضمانت دے۔

نشاط ملز کی مجوزہ حصص فروخت ایک کاروباری فیصلہ ہوسکتا ہے، لیکن اس نے پاکستان کے ڈیری شعبے سے متعلق ایک بنیادی سوال ضرور اٹھا دیا ہے۔ اگر بڑے سرمایہ کار پیچھے ہٹیں اور چھوٹے فارمر اپنے جانور فروخت کرنے پر مجبور ہوں تو اس کا نتیجہ دودھ کی مقامی پیداوار میں کمی، دیہی بے روزگاری، مہنگی درآمدات اور غذائی عدم تحفظ کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔

حکومت کو سیاسی درجہ حرارت کم، قانون کی حکمرانی مضبوط اور معاشی پالیسیوں میں تسلسل پیدا کرنا ہوگا۔ پاکستان کی عالمی شہرت کی بحالی بھی اسی وقت ممکن ہے جب احتساب غیر جانب دار، سیاست آئینی حدود میں اور معیشت قومی ترجیح بنے۔

ڈیری سیکٹر کو بچانا کسی ایک کاروباری گروپ یا تنظیم کا مفاد نہیں۔ یہ کسان، صارف، روزگار، قومی خزانے اور پاکستان کی غذائی خودمختاری کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ آج اس انتباہ کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو کل اس کی قیمت پوری قوم کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔