
پاکستان کے دیہی اور شہری علاقوں میں مویشیوں کی چوری، جانوروں کو زہر دینا، تشدد کرکے ہلاک یا زخمی کرنا، قیمتی گھوڑوں کی چوری، غیر قانونی ذبح، جانوروں کی لڑائیاں، جنگلی حیات کا شکار، اسمگلنگ اور غیر قانونی خرید و فروخت جیسے جرائم مسلسل ایک سنجیدہ مسئلہ بن رہے ہیں۔ ان واقعات سے نہ صرف جانوروں کو تکلیف پہنچتی ہے بلکہ مویشی پال خاندانوں، فارمرز، بریڈرز اور دیہی معیشت کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
جانور بہت سے دیہی گھرانوں کے لیے محض ملکیت نہیں بلکہ آمدن، خوراک اور معاشی تحفظ کا بنیادی ذریعہ ہوتے ہیں۔ ایک گائے، بھینس، اونٹ، گھوڑے یا بکری کی چوری بعض اوقات ایک خاندان کی کئی سال کی جمع پونجی چھین لیتی ہے۔ اس لیے جانوروں کے خلاف جرم کو صرف املاک کے نقصان یا معمولی پولیس کیس کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
روایتی پولیس نظام کی محدود استعداد
پاکستان میں پولیس کو دہشت گردی، قتل، ڈکیتی، اغوا، منشیات، زمینوں پر قبضے، سائبر کرائم اور امن و امان سمیت متعدد ذمہ داریاں ادا کرنا پڑتی ہیں۔ اس شدید دباؤ کے باعث جانوروں سے متعلق جرائم کو عموماً ترجیحی بنیادوں پر نہیں لیا جاتا۔
تھانے میں مویشی کی چوری کی شکایت درج بھی ہو جائے تو تفتیشی افسر کے پاس جانوروں کی شناخت، مویشی منڈیوں کے نظام، بین الاضلاعی نقل و حرکت، نسل، عمر، جسمانی نشانات، ٹیگنگ، بیماری، زہر خوانی یا ویٹرنری فارنزک شواہد سے متعلق ضروری تربیت نہیں ہوتی۔ اسی طرح جنگلی جانور یا پرندے کی برآمدگی کی صورت میں یہ معلوم کرنا بھی ایک تکنیکی معاملہ ہے کہ وہ کس نوع سے تعلق رکھتا ہے، اس کا قبضہ قانونی ہے یا غیر قانونی، اور اسے کس طرح محفوظ تحویل میں رکھا جائے۔
زہر دے کر ہلاک کیے گئے جانور کے مقدمے میں پوسٹ مارٹم، نمونوں کا حصول، ٹاکسی کولوجی ٹیسٹ، ثبوت کی محفوظ ترسیل اور ماہر ویٹرنری رائے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان مراحل میں معمولی غلطی بھی مقدمہ کمزور کر سکتی ہے۔ عام پولیس اہلکار سے یہ توقع رکھنا مناسب نہیں کہ وہ خصوصی تعلیم و تربیت کے بغیر ان تمام تکنیکی تقاضوں کو پورا کر سکے۔
قانون موجود، مگر عمل درآمد بکھرا ہوا ہے
پاکستان میں جانوروں کے تحفظ کے لیے مختلف قوانین موجود ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 428 اور 429 جانور کو ہلاک، زہر آلود، معذور یا ناکارہ بنانے سے متعلق جرائم کا احاطہ کرتی ہیں۔ اسی طرح انسدادِ بے رحمی حیوانات ایکٹ 1890 میں جانوروں پر تشدد، ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈالنے، بیمار جانور سے مشقت لینے، جانوروں کو لڑانے اور غیر ضروری بے رحمی سے ہلاک کرنے کی ممانعت موجود ہے۔
تاہم یہ بنیادی قانون نوآبادیاتی دور کا ہے اور جدید animal welfare، منظم اسمگلنگ، ڈیجیٹل تجارت، ویٹرنری فارنزک سائنس اور موجودہ معاشی حالات کی مکمل ضروریات پوری نہیں کرتا۔ خیبر پختونخوا نے 2024 میں الگ اینیمل ویلفیئر قانون بھی منظور کیا، جبکہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ہر صوبے میں الگ قانونی نظام موجود ہے۔ مثال کے طور پر خیبر پختونخوا وائلڈ لائف اینڈ بائیو ڈائیورسٹی ایکٹ 2015 اور سندھ میں وائلڈ لائف قانون کے تحت وائلڈ لائف رولز 2022 نافذ ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پولیس، محکمہ لائیوسٹاک، وائلڈ لائف، مقامی حکومت، کسٹمز، بارڈر فورسز، ویٹرنری ہسپتالوں اور پراسیکیوشن کے درمیان مستقل رابطہ جاتی نظام موجود نہیں۔ نتیجتاً جرم ایک ادارے سے دوسرے ادارے کے درمیان منتقل ہوتا رہتا ہے، جبکہ ملزمان اور منظم گروہ قانونی خلا اور انتظامی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
خصوصی اینیمل اینڈ وائلڈ لائف کرائم فورس
اس صورت حال میں ہر صوبے کے محکمہ داخلہ کے تحت یا صوبائی پولیس کے اندر ایک خصوصی اینیمل اینڈ وائلڈ لائف کرائم فورس قائم کی جانی چاہیے۔ آئینی اور انتظامی تقسیم کے پیش نظر صوبائی یونٹس قائم کرنا زیادہ قابلِ عمل ہوگا، جبکہ وفاقی سطح پر ان کے درمیان رابطے، معلومات کے تبادلے اور بین الصوبائی کارروائی کے لیے ایک قومی کوآرڈی نیشن سیل بنایا جا سکتا ہے۔
یہ فورس عام پولیس کا متبادل نہیں بلکہ ایک تربیت یافتہ خصوصی شعبہ ہو، جسے متعلقہ جرائم کی روک تھام، تفتیش اور قانونی پیروی کی واضح ذمہ داری دی جائے۔
اس کے دائرۂ کار میں درج ذیل جرائم شامل ہونے چاہییں
- گائے، بھینس، بکری، بھیڑ، اونٹ اور دیگر مویشیوں کی چوری اور غیر قانونی نقل و حمل
- گھوڑوں، پالتو جانوروں اور قیمتی بریڈنگ جانوروں کی چوری
- جانوروں کو زہر دینا، تشدد کرنا، زخمی یا ہلاک کرنا
- کتوں، ریچھوں، مرغوں اور دیگر جانوروں کی غیر قانونی لڑائیاں
- غیر قانونی شکار، پھندے لگانا اور ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال
- جنگلی جانوروں اور پرندوں کی اسمگلنگ اور آن لائن فروخت
- جانوروں کی کھال، اعضا، گوشت یا دیگر مصنوعات کی غیر قانونی تجارت
- جعلی دستاویزات کے ذریعے جانوروں کی بین الاضلاعی یا سرحد پار منتقلی
- غیر قانونی ذبح اور بیماری زدہ یا چوری شدہ جانوروں کی فروخت
- جانوروں سے متعلق منظم جرائم میں ملوث گروہوں کی نگرانی
فورس میں کن ماہرین کی ضرورت ہوگی؟
اس فورس میں صرف پولیس اہلکار کافی نہیں ہوں گے۔ اس کی ٹیموں میں تربیت یافتہ پولیس افسران کے ساتھ ویٹرنری ڈاکٹر، وائلڈ لائف ماہرین، ٹاکسی کولوجسٹ، فرانزک ماہرین، قانونی افسران، ڈیٹا اینالسٹس اور ڈیجیٹل انٹیلی جنس اہلکار شامل ہونے چاہییں۔
خصوصی تربیت میں جانور کی شناخت، مائیکروچپ اور ٹیگ کی جانچ، ویٹرنری پوسٹ مارٹم، زہریلے مواد کے نمونوں کا حصول، جائے وقوعہ کا معائنہ، جنگلی انواع کی شناخت، ڈیجیٹل شواہد، مویشی منڈیوں کی نگرانی اور جانوروں کو محفوظ طریقے سے پکڑنے اور منتقل کرنے کے طریقے شامل ہوں۔
فورس کو مناسب گاڑیاں، جانوروں کی منتقلی کے پنجرے، حفاظتی لباس، اسکینرز، ریسکیو آلات اور ویٹرنری ایمرجنسی سہولت بھی فراہم کرنا ہوگی۔
قومی ڈیٹا بیس اور جدید شناختی نظام
مویشیوں کی چوری روکنے کے لیے جانوروں کی ڈیجیٹل رجسٹریشن بنیادی ضرورت ہے۔ بڑے جانوروں کے لیے منفرد شناختی نمبر، ایئر ٹیگ، مائیکروچپ یا قابلِ تصدیق ڈیجیٹل ریکارڈ متعارف کرایا جائے۔ اس ریکارڈ کو مویشی منڈیوں، سلاٹر ہاؤسز، ویٹرنری ہسپتالوں، بریڈنگ فارمز اور پولیس کے ساتھ مربوط کیا جا سکتا ہے۔
ہر خرید و فروخت اور ضلع سے باہر منتقلی کا قابلِ تصدیق ریکارڈ موجود ہو تو چوری شدہ جانور کی فروخت مشکل ہو جائے گی۔ اسی طرح گھوڑوں اور قیمتی بریڈنگ جانوروں کے لیے تصاویر، جسمانی نشانات، نسب نامے اور مائیکروچپ پر مشتمل خصوصی رجسٹری قائم کی جانی چاہیے۔
عوام کے لیے ایک ہیلپ لائن، موبائل ایپ اور آن لائن پورٹل بھی ہونا چاہیے، جہاں شہری تصویر، ویڈیو، مقام اور دیگر شواہد کے ساتھ فوری شکایت درج کرا سکیں۔
جنگلی حیات کے جرائم کے لیے انٹیلی جنس نظام
وائلڈ لائف کرائم محض کسی شخص کے غیر قانونی شکار تک محدود نہیں رہا۔ جنگلی جانوروں، پرندوں، کچھوؤں، فالکن، کھالوں اور اعضا کی تجارت اکثر منظم نیٹ ورکس اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ہوتی ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا مواد پر ہونے والی ایک تحقیق میں جنگلی حیات کے خلاف جرائم سے متعلق سینکڑوں پوسٹس اور ہزاروں متاثرہ جانوروں کی نشاندہی کی گئی، جس سے مسئلے کے ڈیجیٹل پہلو کی اہمیت سامنے آتی ہے۔
خصوصی فورس کو سوشل میڈیا مانیٹرنگ، خفیہ اطلاعات، سرحدی نگرانی، کسٹمز رابطے اور بین الصوبائی ڈیٹا کے ذریعے ایسے گروہوں تک پہنچنا ہوگا۔ اس عمل میں شہریوں کے قانونی حقوق، پرائیویسی اور شفاف نگرانی کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔
آزاد نگرانی اور جواب دہی بھی ضروری
نئی فورس کا قیام اسی وقت مفید ہوگا جب اس کے اختیارات واضح، محدود اور قانون کے تابع ہوں۔ بلاجواز گرفتاری، جانوروں کی غیر قانونی ضبطی، مویشی مالکان کو ہراساں کرنے یا جرمانوں کے غلط استعمال سے بچنے کے لیے آزاد شکایتی نظام اور باقاعدہ آڈٹ ضروری ہوگا۔
برآمد کیے گئے جانوروں کے لیے محفوظ سرکاری یا منظور شدہ شیلٹرز، قرنطینہ، خوراک، علاج اور قانونی فیصلہ آنے تک دیکھ بھال کا انتظام بھی کیا جائے۔ محض جانور ضبط کرکے غیر موزوں جگہ منتقل کر دینا تحفظ نہیں بلکہ بعض اوقات مزید تکلیف کا سبب بن سکتا ہے۔
قانون سازی اور عدالتی معاونت
نئی فورس کے ساتھ قوانین کو بھی جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ جرائم کی واضح درجہ بندی، نقصان اور جانور کی مالیت کے مطابق سزائیں، بار بار جرم کرنے والوں کے لیے سخت کارروائی، جانور رکھنے یا کاروبار کرنے پر پابندی اور ضبط شدہ جانوروں کی تحویل سے متعلق واضح طریقۂ کار متعین کیا جائے۔
ہر ضلع میں تربیت یافتہ پراسیکیوٹر یا خصوصی فوکل پرسن مقرر ہو تاکہ پولیس کی محنت ناقص چالان یا کمزور قانونی پیروی کی وجہ سے ضائع نہ ہو۔ ویٹرنری فارنزک رپورٹس کے لیے تسلیم شدہ لیبارٹریاں اور یکساں قومی پروٹوکول بھی بنائے جائیں۔
ایک معاشی، سماجی اور اخلاقی ضرورت
جانوروں کے خلاف جرم صرف جانور کا مسئلہ نہیں۔ اس کے اثرات دیہی روزگار، خوراک کی فراہمی، بیماریوں کی نگرانی، حیاتیاتی تنوع، سیاحت، برآمدات اور قانون کی بالادستی تک پھیلتے ہیں۔ مویشیوں کی چوری کسان کو غربت میں دھکیل سکتی ہے، جبکہ جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت قدرتی ماحول اور صحتِ عامہ کے لیے خطرات پیدا کرتی ہے۔
پاکستان کو ایک ایسی تربیت یافتہ، جواب دہ اور سائنسی بنیادوں پر کام کرنے والی خصوصی فورس کی ضرورت ہے جو پولیس، لائیوسٹاک اور وائلڈ لائف محکموں کے درمیان موجود خلا کو پُر کرے۔ ابتدا میں چند زیادہ متاثرہ اضلاع میں پائلٹ یونٹس قائم کرکے نتائج کا جائزہ لیا جا سکتا ہے اور کامیابی کی صورت میں انہیں پورے ملک تک توسیع دی جا سکتی ہے۔
جانور بول کر اپنی شکایت درج نہیں کرا سکتے۔ ان کی حفاظت ایک مہذب معاشرے، ذمہ دار ریاست اور مؤثر نظامِ انصاف کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ جانوروں کے خلاف جرائم کو معمولی معاملہ سمجھنے کے بجائے ان کی روک تھام کے لیے ایک باقاعدہ، تربیت یافتہ اور قانون کے تابع اینیمل اینڈ وائلڈ لائف کرائم فورس قائم کی جائے۔