
لاہور (نمائندہ خصوصی) پاکستان میں ممنوعہ (rBST) Recombinant Bovine Somatotropin ہارمون انجکشنز کی مبینہ طور پر بڑی مقدار برآمد ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مذکورہ انجکشن مویشیوں، بالخصوص دودھ دینے والے جانوروں میں دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔rBST انجکشنز کے حوالے سے پاکستان میں سخت پابندیاں عائد ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے 6 جنوری 2018 کو ان انجکشنز کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی تھی، جبکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) بھی اپنے سرکاری الرٹس میں rBST کو ممنوع قرار دے چکی ہے۔ایسی صورتحال میں اگر ملک کے اندر ممنوعہ rBST انجکشنز کی غیر قانونی تیاری، نقل، اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی یا فروخت کا کوئی منظم نیٹ ورک فعال پایا جاتا ہے تو یہ معاملہ محض قانون شکنی تک محدود نہیں رہتا بلکہ پاکستان کے ڈیری اور لائیوسٹاک سیکٹر کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق جعلی، غیر رجسٹرڈ یا ممنوعہ ویٹرنری ادویات کی غیر قانونی تجارت جانوروں کی صحت و فلاح، فارمرز کے معاشی مفادات، دودھ اور گوشت کی فوڈ سیفٹی اور صارفین کے اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔
اس لیے ایسے معاملات میں مؤثر نگرانی، شفاف تحقیقات اور قانون کے مطابق فوری کارروائی ناگزیر قرار دی جا رہی ہے۔DCFA پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے لائیوسٹاک سیکٹر کو جعلی، غیر رجسٹرڈ اور ممنوعہ ویٹرنری ادویات سے پاک کرنے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ صرف برآمد شدہ کھیپ تک محدود رکھنے کے بجائے مبینہ طور پر اس کاروبار سے منسلک پورے نیٹ ورک، مینوفیکچررز، سپلائرز، ڈسٹری بیوٹرز اور دیگر ذمہ دار عناصر تک بڑھایا جانا چاہیے تاکہ غیر قانونی کاروبار کا مستقل سدباب ممکن بنایا جا سکے۔جانور محفوظ تو فارمر محفوظ، فارمر محفوظ تو پاکستان محفوظ۔