
بووائن ایفیمرل فیور ایک وائرل بیماری ہے جو زیادہ تر گائے، بیل اور بھینس کو متاثر کرتی ہے۔ اسے عام زبان میں تین روزہ بخار بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اکثر جانور 2 سے 4 دن میں سنبھلنا شروع ہو جاتے ہیں، تاہم کچھ کیسز میں حالت سنگین بھی ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب جانور اٹھنے سے قاصر ہو جائے۔
بیماری کیسے پھیلتی ہے؟
یہ بیماری عموماً مچھر اور دوسرے خون چوسنے والے حشرات کے ذریعے پھیلتی ہے۔ بارش، نمی، کھڑا پانی اور گندگی والے ماحول میں اس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اہم علامات
اگر جانور میں درج ذیل علامات نظر آئیں تو اس بیماری کا شبہ کیا جا سکتا ہے:
- اچانک تیز بخار
- جانور کا سست، اداس اور کمزور ہو جانا
- بھوک ختم یا کم ہو جانا
- جسم میں درد اور کپکپی
- جوڑوں اور ٹانگوں میں سختی
- لنگڑا کر چلنا
- اٹھنے بیٹھنے میں دشواری
- بعض اوقات جانور کا زمین پر لیٹ جانا
- آنکھوں سے پانی آنا
- ناک سے رطوبت
- منہ سے زیادہ لعاب آنا
- سانس کا تیز ہونا
- جگالی میں کمی
- دودھ کی پیداوار میں اچانک نمایاں کمی
کن جانوروں میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟
- زیادہ دودھ دینے والی گائیں
- بھاری وزن والے جانور
- بیل
- اچھی باڈی کنڈیشن والے مویشی
فوری طور پر کیا کریں؟
- جانور کو آرام دیں
- جانور کو سایہ دار اور صاف جگہ پر رکھیں
- غیر ضروری چلانے پھرانے سے گریز کریں
- پانی اور چارہ مہیا کریں
- صاف پانی ہر وقت دستیاب ہو
- نرم اور آسانی سے کھایا جانے والا چارہ دیں
- بخار اور درد کو سنجیدگی سے لیں
- ویٹرنری ڈاکٹر سے فوری رابطہ کریں
- خود سے ادویات استعمال نہ کریں
- لیٹے ہوئے جانور پر خاص توجہ دیں
- اگر جانور مسلسل پڑا رہے تو یہ خطرناک ہو سکتا ہے
- ایسے جانور کو فوری طبی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے
علاج کیا ہے؟
چونکہ یہ وائرل بیماری ہے، اس لیے اس کا مخصوص اینٹی بائیوٹک علاج نہیں ہوتا۔ علاج عموماً حمایتی ہوتا ہے، جیسے:
- بخار اور درد کم کرنے کی ادویات
- پانی کی کمی پوری کرنا
- کمزوری کی صورت میں معاون نگہداشت
- ضرورت کے مطابق ویٹرنری ڈاکٹر کی ہدایت پر علاج

اہم بات:
ہر بخار یا کمزوری کو یہی بیماری نہ سمجھیں۔ بعض دوسری بیماریاں بھی ملتی جلتی علامات دیتی ہیں، اس لیے صحیح تشخیص ضروری ہے۔
بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
- مچھر اور حشرات کی روک تھام کریں
- فارم کے اردگرد کھڑا پانی ختم کریں
- صفائی اور نکاسی آب بہتر رکھیں
- جانوروں کو زیادہ نمی اور گندگی والے ماحول سے بچائیں
- علاقے میں اگر ویکسین دستیاب ہو تو ویٹرنری ڈاکٹر کے مشورے سے ویکسینیشن کا منصوبہ اختیار کریں
مختلف بیماریوں میں فرق
| بیماری | بنیادی وجہ | نمایاں علامات | خاص پہچان |
|---|---|---|---|
| تین روزہ بخار | وائرس، مچھروں یا دیگر حشرات کے ذریعے پھیلاؤ | اچانک بخار، جسمانی درد، لنگڑاہٹ، اٹھنے میں مشکل، دودھ میں کمی | منہ اور پاؤں میں چھالے عموماً نہیں ہوتے، جسمانی اکڑاؤ اور سختی نمایاں ہو سکتی ہے |
| منہ کھر | وائرس | بخار، منہ میں زخم، زبان اور مسوڑھوں پر چھالے، پاؤں میں زخم، لنگڑاہٹ | منہ اور کھروں کے درمیان چھالے اور زخم اس کی اہم پہچان ہیں |
| لمپی اسکن ڈیزیز | وائرس | بخار، جلد پر سخت گلٹیاں یا گانٹھیں، سوجن، کمزوری | جلد پر نمایاں گٹھلیاں یا نوڈولز اس بیماری کی بڑی پہچان ہیں |
| ملک فیور | خون میں کیلشیم کی کمی | کمزوری، جسم کا ٹھنڈا ہونا، کھڑا نہ ہو پانا، گردن کا ایک طرف مڑ جانا | عموماً بچھڑا دینے کے بعد زیادہ دودھ دینے والی گائے میں ہوتا ہے، بخار کے بجائے جسم کا درجہ حرارت کم ہو سکتا ہے |
کیا نہ کریں؟
- خود سے اینٹی بائیوٹک شروع نہ کریں
- جانور کو زبردستی چلانے کی کوشش نہ کریں
- دیسی ٹوٹکوں پر وقت ضائع نہ کریں
- لیٹے ہوئے جانور کو نظر انداز نہ کریں
فارمرز کے لیے اہم پیغام
بعض اوقات یہ بیماری بظاہر معمولی بخار لگتا ہے، لیکن اگر جانور لیٹ جائے، دودھ اچانک کم ہو جائے یا شدید درد میں ہو تو معاملہ سنجیدہ ہو سکتا ہے۔ بروقت تشخیص اور صحیح نگہداشت سے زیادہ تر جانور بہتر ہو جاتے ہیں۔