
بکریاں پالنا سنتِ انبیا ہے
حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے مدین کے کنوئیں پر حضرت شعیب علیہ السّلام کی صاحبزادیوں کی بکریوں کو پانی پلایا اور بعد میں ان کے ہاں ملازمت اختیار کر کے بکریاں چنائیں۔
قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ بکریاں پالنا تمام انبیائے کرام علیہم السّلام کی سنت رہی ہے۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی بکریاں چرائی ہیں۔
- حکمت: اس سے طبیعت میں حلم و بردباری، عاجزی اور امت کی رہنمائی کی مشق حاصل ہوتی ہے۔
- احتیاط: پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے عام لفظ (چرواہا) استعمال کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ شایانِ شان نہیں ہے۔
انبیائے کرام اور صحابہ کا عمل
- انبیائے کرام: حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت ایوب، حضرت شعیب اور حضرت ابراہیم علیہم السّلام نے جانور اور بکریاں پالیں۔
- صحابہ و تابعین: حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمرو بن عبسہ، حضرت علقمہ بن قیس اور حضرت حسان بن عطیہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے بکریاں اور مویشی پالے۔
جانور پالنے کے احادیث کی روشنی میں فضائل
- برکت کا ذریعہ: گھر میں ایک یا زیادہ بکریاں ہونا بے شمار برکت کا باعث ہے۔
- محتاجی سے حفاظت: گھر میں بکری ہونا 70 برکتوں کے دروازے کھولتا ہے اور محتاجی دور کرتا ہے۔
- جنتی جانور: بکری کی عزت کرو اور اس سے مٹی صاف کرو کہ وہ جنتی جانور ہے۔
- گائے کا دودھ: اس کا استعمال بیماریوں سے شفا دیتا ہے اور حافظہ مضبوط کرتا ہے۔
جانوروں کے معاشی و طبی فوائد
- معاشی فوائد: گوشت، دودھ، مکھن، اون، چمڑا، اور قدرتی کھاد کا حصول۔
- دودھ کی اہمیت: انسان کے لیے مکمل غذا ہے جو ہڈیوں، خون اور توانائی میں اضافہ کرتی ہے۔
- طبی فوائد: معدے کی تیزابیت ختم کرتا ہے، نیند بہتر لاتا ہے اور یادداشت کو تیز کرتا ہے۔
جانوروں کے حقوق اور حسنِ سلوک
- جانوروں کو وقت پر چارہ اور پانی فراہم کریں۔
- شدید گرمی یا سردی میں کھلے آسمان تلے نہ چھوڑیں۔
- بے زبان مخلوق پر ظلم یا بلاوجہ مار پیٹ نہ کریں۔
ڈیری فارمنگ کے اہم شرعی احکام
- زکوۃ: فارم کے جن جانوروں کو چارہ خرید کر کھلایا جاتا ہے ان پر سائمہ والی زکوۃ نہیں ہے۔
- تجارت کے جانور: جو جانور نفع کمانے کے لیے بیچنے کی نیت سے خریدے جائیں ان پر مالِ تجارت کی زکوۃ (2.5%) لاگو ہوتی ہے۔
- دودھ میں ملاوٹ: دھوکے سے دودھ میں پانی یا کیمیکل ملا کر بیچنا ناجائز اور حرام ہے۔
- داغنا: جانور کی پہچان کے لیے چہرے کے علاوہ کسی بھی حصے پر علامت لگائی جا سکتی ہے۔
- گوبر اور اُپلے: گوبر، لید اور اُپلوں کی خرید و فروخت جائز ہے۔