
مچھلی اللہ پاک کی مخلوقات میں سے ایک خوبصورت اور عجیب و غریب مخلوق ہے۔ دنیا بھر کے سمندروں دریاؤں اور جھیلوں میں بے شمار مچھلیاں موجود ہیں۔ یہ ہر طرح کے پانی کے ماحول میں نشو و نما پاتی ہیں۔ قران کریم میں اللہ رب العالمین انسانوں کے لیے سمندروں کی تسخیر اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد کے ضمن میں مچھلی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے
وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَلِيا كُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَ تَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْيَةٌ تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ
ترجمہ کنز العرفان اور وہی ہے جس نے سمندر تمہارے قابو میں دیدیئے تا کہ تم اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور تم اس میں سے زیور نکالو جسے تم پہنتے ہو اور تم اس میں کشتیوں کو دیکھتے ہو پانی کو چھتی ہوئی چلی ہیں اور اس لیے کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو
زمانه قدیم سے ہی مچھلی انسانی خوراک کا ایک اہم ذریعہ ہے اور یہ بہت ہی اعلیٰ اور نفیس غذا ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور اپ کے کئی اصحاب نے بھی مچھلی کھائی ہے۔ مچھلی غذائی فوائد سے مالا مال اور صحت و توانائی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ انسان کو اپنی صحت برقرار رکھنے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان میں ایک پروٹین ہے جس کی اچھی خاصی مقدار مچھلی میں موجود ہوتی ہے۔
مچھلی جیسی لذیذ اور صحت بخش غذا کے حصول کو مزید اسان بنانے کے لیے چھوٹے بڑے حوض اور تالابوں میں مچھلیوں کی پرورش کا سلسلہ بھی قدیم زمانے سے جاری وساری ہے۔ اس عمل کو ماہی پروری اور انگریزی میں Fish Farming کہا جاتا ہے۔
دعوت اسلامی کی مرکزی مجلس شوری نے ایگریکلچر اینڈ لائیوسٹاک سے وابستہ افراد کو نیکی کی دعوت دینے اور انہیں اپنے شعبے سے متعلقہ شرعی مسائل سکھانے اور ان کی دینی تربیت کرنے کے لیے ایک شعبہ بنام رابطہ برائے ایگریکلچر اینڈ لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ قائم فرمایا ہے۔ اس ڈیپارٹمنٹ کی ایک ذیلی شاخ فشریز سیکٹر پر مشتمل ہے۔
مچھلی سے متعلق اہم شرعی سوالات و جوابات
سوال حریث اور بام مچھلی کھانا کیسا
جواب یہ دونوں مچھلیاں ہیں اور حلال ہیں
سوال کیا جھینگا حلال ہے
جواب جھینگے میں اختلاف ہے کھانا جائز ہے مگر بچنا افضل
سوال کیا شارک اور بلو ویل مچھلیاں کھانا حلال ہے
جواب شارک اور بلو ویل دونوں مچھلیاں ہی ہیں اس لیے انہیں کھانا حلال ہے
سوال کیکڑا کھانا کیسا
جواب کیکڑا کھانا حرام ہے
سوال Octopus کھانا جائز ہے یا نہیں
جواب Octopus کا کھانا ناجائز و حرام ہے کہ پانی کے جانوروں میں صرف مچھلی کھانا حلال ہے اس کے علاوہ پانی کے باقی سب جاندار حرام ہیں
سوال کیا Caviar کھانا حلال ہے
جواب یہ مچھلی کے انڈے ہوتے ہیں اور مچھلی کے انڈے کھانا حلال ہے
سوال کیا گھونگا کھانا حلال ہے
جواب فقہ حنفی کے مطابق سمندری جانوروں میں مچھلی کے علاوہ کوئی بھی جانور حلال نہیں ہے اور گھونگا مچھلی نہیں ہے لہذا گھونگا کھانا یا اس کا سوپ پینا جائز نہیں ہے
سوال کیا کچی مچھلی کھانا جائز ہے
جواب شرعی اعتبار سے کچی مچھلی کھانا جائز ہے ہاں اگر صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو تو اب اس کا کھانا درست نہیں ہو گا