
دی ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز خصوصی تحقیقی رپورٹ
مویشی منڈی میں جانور کی قیمت اگر زندہ وزن کے حساب سے طے ہو تو ترازو پر آنے والا ہر کلو معاشی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک تشویش ناک عمل کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا بعض جانوروں کو وزن کرنے سے پہلے ان کی جسمانی ضرورت سے ہٹ کر غیر ضروری پانی یا خوراک دے کر ان کا زندہ وزن عارضی طور پر بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے؟
منڈی سے وابستہ حلقوں میں یہ شکایت سامنے آتی ہے کہ بعض صورتوں میں فروخت سے پہلے جانور کو زیادہ پانی یا خوراک دی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف خریدار یہ سمجھتے ہوئے کہ ترازو پر موجود وزن میں پانی اور نظام ہاضمہ میں موجود خوراک بھی شامل ہے، اپنے اندازے سے وزن میں کٹوتی کر دیتا ہے۔
یوں ایک عجیب تجارتی چکر وجود میں آتا ہے
بیوپاری وزن بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔
خریدار وزن کاٹ کر اپنا نقصان بچانے کی کوشش کرتا ہے۔
لیکن دونوں کے درمیان جسمانی بوجھ جانور برداشت کرتا ہے۔
یہ صرف قیمت اور وزن کا تنازع نہیں۔ اگر کسی جانور کو محض زیادہ قیمت حاصل کرنے کے لیے اس کی جسمانی ضرورت سے ہٹ کر غیر ضروری یا زبردستی پانی یا خوراک کا بوجھ دیا جائے اور اس سے اسے بے آرامی، ذہنی دباؤ یا غیر ضروری تکلیف ہو تو یہ جانوروں کی فلاح کی سنگین خلاف ورزی کا سوال بن جاتا ہے۔
زندہ وزن دراصل کیا ظاہر کرتا ہے؟
ویٹرنری اور حیوانی علوم کے مطابق جانور کا زندہ وزن صرف پٹھوں، ہڈیوں اور جسمانی بافتوں کا وزن نہیں ہوتا۔ اس میں معدے اور آنتوں میں موجود خوراک، پانی اور دیگر اجزا بھی شامل ہوتے ہیں۔
جرنل آف اینیمل سائنس میں شائع ایک اہم جائزے کے مطابق گائے اور بھینس جیسے جانوروں کے معدے اور آنتوں میں موجود اجزا مختلف حالات میں زندہ وزن کا قابل ذکر حصہ بن سکتے ہیں۔ چارے پر مبنی خوراک میں نظام ہاضمہ کے اندر موجود مواد کی مقدار میں تبدیلی اتنی زیادہ ہو سکتی ہے کہ صرف زندہ وزن میں اضافے کو جسمانی بافتوں کی حقیقی نشوونما سمجھنا گمراہ کن ہو سکتا ہے۔ اس تحقیق نے معدے اور آنتوں میں موجود مواد کو زندہ وزن کی پیمائش کی تشریح میں اہم عنصر قرار دیا۔
2021 میں ٹرانسلیشنل اینیمل سائنس میں شائع تحقیق نے بھی واضح کیا کہ نظام ہاضمہ میں موجود مواد کی مقدار میں تبدیلی مویشیوں کے جسمانی وزن کی پیمائش میں مختصر مدت کے لیے عدم درستگی پیدا کر سکتی ہے۔ جانور کو بار بار وزن کرنے سے بھی نظام ہاضمہ میں موجود مواد کا یہ اثر لازماً ختم نہیں ہوتا۔
یہی سائنسی بنیاد اس سوال کو اہم بناتی ہے کہ اگر وزن کرنے سے فوراً پہلے جان بوجھ کر پانی یا خوراک کا غیر معمولی بوجھ دیا جائے تو ترازو پر آنے والا اضافہ حقیقی پٹھوں یا گوشت میں اضافہ نہیں، بلکہ کم از کم کسی حد تک معدے اور آنتوں میں موجود عارضی مواد ہو سکتا ہے۔
مصنوعی طور پر زندہ وزن بڑھانا کیا ہے؟
اس رپورٹ میں مصنوعی طور پر زندہ وزن بڑھانے سے مراد ایسا دانستہ عمل ہے جس میں جانور کو اس کی معمول کی غذائی یا پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے نہیں بلکہ ترازو پر عارضی طور پر زیادہ وزن دکھانے کی غرض سے اضافی پانی یا خوراک دی جائے۔
یہ فرق بہت اہم ہے۔
جانور کو پانی دینا مسئلہ نہیں۔
جانور کو پیاسا رکھنا بھی جانوروں کی فلاح کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔
اصل مسئلہ تجارتی فائدے کے لیے غیر ضروری یا زبردستی پانی اور خوراک دے کر وزن بڑھانا ہے۔
پنجاب سوسائٹی فار دی پریونشن آف کرویلٹی ٹو اینیملز کی سرکاری معلومات کے مطابق اس ادارے کے بنیادی مقاصد میں جانوروں کو بھوک اور پیاس، بے آرامی، درد، چوٹ، بیماری، خوف اور ذہنی دباؤ سے تحفظ دینا شامل ہے۔
لہٰذا وی این وی کی مہم کا مقصد کسی صورت جانور کے پانی یا خوراک کو محدود کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ مطالبہ صرف یہ ہونا چاہیے کہ جانور کو پانی اور خوراک اس کی جسمانی ضرورت کے مطابق دی جائے، وزن میں مصنوعی ردوبدل کے لیے نہیں۔
کیا زیادہ پانی واقعی طبی نقصان کا باعث بن سکتا ہے؟
اس سوال پر بھی مبالغہ کرنے کے بجائے ویٹرنری سائنس کو بنیاد بنانا ضروری ہے۔
مویشیوں میں پانی کی زیادتی سے پیدا ہونے والی زہریلی کیفیت ایک ثابت شدہ مگر مخصوص طبی حالت ہے۔ ایک مستند تحقیقی رپورٹ میں چار بالغ جاپانی بلیک مویشیوں میں پانی کی بندش کے بعد دوبارہ بڑی مقدار میں پانی پینے کے نتیجے میں اعصابی علامات رپورٹ کی گئیں۔
اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی بھی بالغ جانور کے لیے کوئی ایک مقررہ مقدار، مثلاً 30 یا 40 لیٹر، ہر حالت میں خطرناک ہے۔ پانی کی ضرورت اور محفوظ مقدار جانور کے جسمانی وزن، موسم، خوراک، دودھ کی پیداوار، جسم میں پانی کی موجودہ حالت اور دوسرے جسمانی عوامل کے مطابق بدل سکتی ہے۔
اس لیے وی این وی کو یہ عمومی دعویٰ استعمال نہیں کرنا چاہیے کہ 40 لیٹر پانی ہر جانور کے لیے خطرناک ہے۔
درست ویٹرنری مؤقف کیا ہے؟
جانور کو اس کی ضرورت سے ہٹ کر محض وزن بڑھانے کے لیے ضرورت سے زیادہ یا زبردستی پانی پلانا سائنسی طور پر بلاجواز اور جانوروں کی فلاح سے متعلق تشویش ناک عمل ہے۔ انتہائی یا غیر معمولی مقدار میں پانی پلانا مخصوص حالات میں صحت کے مسائل بھی پیدا کر سکتا ہے۔
10 یا 20 فیصد وزن کاٹنا کیا سائنسی حل ہے؟
اگر خریدار کو شبہ ہو کہ جانور کا وزن پانی یا خوراک کے غیر ضروری بوجھ سے بڑھایا گیا ہے تو بعض منڈیوں میں اپنے اندازے سے وزن کی کٹوتی کرنے کی بات سامنے آتی ہے۔
لیکن ویٹرنری سائنس میں ہر جانور کے لیے ایک ہی عمومی 10، 15 یا 20 فیصد کٹوتی کو درست وزن حاصل کرنے کا سائنسی فارمولا قرار نہیں دیا جا سکتا۔
نظام ہاضمہ میں موجود مواد، نقل و حمل کے دوران وزن میں کمی اور جسمانی وزن میں مختصر مدت کی تبدیلی کئی عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔ نقل و حمل سے متعلق تحقیقات میں زندہ وزن کی کمی کو نظام ہاضمہ میں موجود مواد کے ساتھ جسمانی بافتوں اور مائعات میں ہونے والی تبدیلیوں سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔ سفر کا دورانیہ اور دوسرے حالات بھی اس پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
وی این وی کی موجودہ تحقیق میں پنجاب کی مویشی منڈیوں کے لیے ایسا کوئی عوامی طور پر دستیاب سرکاری ویٹرنری معیار سامنے نہیں آیا جس میں پانی یا خوراک کے ذریعے وزن بڑھانے کے شبہے کی صورت میں خریدار کو لازماً 10 یا 20 فیصد وزن کاٹنے کا عمومی فارمولا دیا گیا ہو۔
اس لیے ایک غلط عمل کا حل دوسرا غیر معیاری عمل نہیں ہونا چاہیے۔
مصنوعی طور پر وزن بڑھانے کا عمل بھی بند ہونا چاہیے اور اندازے سے وزن کی کٹوتی بھی۔
اصل مسئلہ مراعات کا ایک غلط نظام ہے
موجودہ صورت حال کو صرف بیوپاری اور خریدار کے درمیان تنازع کے طور پر دیکھنا مسئلے کی اصل نوعیت کو چھپا دیتا ہے۔
اگر فروخت کنندہ کو معلوم ہو کہ خریدار وزن کاٹے گا تو اس کے پاس فروخت سے پہلے وزن بڑھانے کی تجارتی ترغیب پیدا ہو سکتی ہے۔
اگر خریدار کو معلوم ہو کہ جانور کا وزن مصنوعی طور پر بڑھایا گیا ہو سکتا ہے تو وہ احتیاطاً زیادہ کٹوتی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
یوں دونوں طرف بداعتمادی بڑھتی ہے۔
نتیجہ یہ ہے
فروخت کنندہ ترازو پر آنے والے وزن کو محفوظ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
خریدار اپنی ادائیگی کو محفوظ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
مگر جانوروں کی فلاح کو محفوظ بنانے والا واضح نظام کہاں ہے؟
پاکستان میں جانوروں پر ظلم کی روک تھام کا قانون موجود ہے
پاکستان کوڈ کے موجودہ سرکاری ریکارڈ میں پریونشن آف کرویلٹی ٹو اینیملز ایکٹ 1890 بطور قانون موجود ہے۔
پنجاب کوڈ میں جانوروں پر ظلم کی روک تھام سے متعلق قانون سازی میں مختلف تاریخی ترامیم بھی درج ہیں۔ ان میں پریونشن آف کرویلٹی ٹو اینیملز ترمیمی ایکٹ 1938 شامل ہے، جبکہ پنجاب میں 2001 کا مزید ترمیمی آرڈیننس بھی سرکاری قانونی ریکارڈ کا حصہ ہے۔
لیکن یہاں ایک انتہائی اہم قانونی فرق موجود ہے۔
وی این وی کی تحقیق میں ہمیں ایسی واضح عوامی قانونی شق نہیں ملی جو زندہ وزن بڑھانے کے لیے ضرورت سے زیادہ پانی یا خوراک دینے کو اسی نام سے الگ جرم قرار دیتی ہو۔
اس لیے ہر واقعے کو ثبوت کے بغیر براہ راست ثابت شدہ جرم قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
البتہ جہاں ایسے شواہد موجود ہوں کہ کسی عمل سے جانور کو غیر ضروری درد، ذہنی دباؤ یا تکلیف پہنچائی گئی، وہاں جانوروں پر ظلم کی روک تھام کے قانونی نظام کے تحت کارروائی کے اطلاق کا سنجیدہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وی این وی اس عمل کے لیے جانوروں کی فلاح کی خلاف ورزی کی اصطلاح کو زیادہ درست سمجھتا ہے۔ کسی مخصوص واقعے میں فوجداری ذمہ داری کا تعین متعلقہ قانون، دستیاب شواہد اور مجاز ادارہ کرے گا۔
محکمہ لائیو اسٹاک کہاں کھڑا ہے؟
پنجاب گورنمنٹ رولز آف بزنس کے سرکاری ریکارڈ میں جانوروں پر ظلم کی روک تھام سے متعلق پالیسی امور محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کے دائرہ کار میں شامل ہیں۔
پنجاب سوسائٹی فار دی پریونشن آف کرویلٹی ٹو اینیملز بھی محکمہ لائیو اسٹاک کے منسلک اداروں میں شامل ہے۔
اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ جانوروں کی فلاح محکمہ لائیو اسٹاک کی ذمہ داری ہی نہیں۔
ذمہ داری موجود ہے۔
لیکن اصل سوال عملی سطح پر کارروائی کے اختیارات کا ہے۔
اگر مویشی منڈی میں موجود ویٹرنری افسر کسی جانور کو زندہ وزن میں مصنوعی ردوبدل کے لیے غیر ضروری پانی یا خوراک کا بوجھ دیے جانے کا عمل دیکھے تو
کیا وہ موقع پر یہ عمل بند کروا سکتا ہے؟
کیا اسے قانونی طور پر جانور کو فروخت کنندہ سے الگ کرنے کا اختیار ہے؟
کیا وہ چالان جاری کر سکتا ہے؟
کیا وہ جرمانہ عائد کر سکتا ہے؟
کیا اسے پنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کی انتظامیہ، سوسائٹی فار دی پریونشن آف کرویلٹی ٹو اینیملز کے انسپکٹر، مقامی انتظامیہ یا پولیس کو معاملہ بھیجنا پڑتا ہے؟
اور اگر مصنوعی طور پر زندہ وزن بڑھانے کا مخصوص جرم سرکاری طور پر متعین ہی نہیں تو عملی سطح پر کام کرنے والا ویٹرنری افسر کس قانونی شق کے تحت فوری کارروائی کرے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن پر متعلقہ اداروں سے تحریری وضاحت ضروری ہے۔
مویشی منڈی کس کے انتظام میں ہے؟
پنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی اپنی موجودہ سرکاری معلومات میں پنجاب کی مویشی منڈیوں کے لیے منظم تجارتی مقامات، پانی، شیڈز، ویٹرنری سہولیات، سکیورٹی اور نگرانی کو اپنی سہولیات اور خدمات میں شامل کرتی ہے۔
کمپنی اپنے اقدامات میں ویٹرنری خدمات، پانی، غسل خانے، سکیورٹی اور شکایات کے اندراج کے مرکز کی فراہمی کا بھی ذکر کرتی ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ ویٹرنری سہولت منڈی کے انتظامی ڈھانچے کا حصہ تو ہے، مگر سہولت کی موجودگی اور قانونی کارروائی کے اختیارات ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
پنجاب کوڈ کے موجودہ ریکارڈ میں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025، ایکٹ 80 آف 2025 نافذ قانون کے طور پر درج ہے، جبکہ پنجاب اسمبلی کے قانونی متن میں مویشی منڈیوں کے انتظام کے حوالے سے پنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کا کردار شامل کیا گیا تھا۔
یوں جانوروں کی فلاح، ویٹرنری خدمات اور منڈی کا انتظام مختلف ادارہ جاتی ذرائع سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں