
اسلام آباد: معروف ویٹرنری ماہر، پبلک پالیسی اور بین الاقوامی تجارت کے ماہر ڈاکٹر واجد پیرزادہ نے ویٹرنری سروسز سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کرتے ہوئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر زراعت، تجارت، فوڈ سیکیورٹی، سائنس و ٹیکنالوجی اور پالیسی سازی کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
ڈاکٹر واجد پیرزادہ نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک فیلڈ ویٹرنری ڈاکٹر کے طور پر کیا۔ بعد ازاں وہ پاکستان کے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سسٹم کے ایک اعلیٰ ادارے میں چیف سائنٹسٹ اور نیشنل کوآرڈینیٹر WTO سیل کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے، جہاں انہوں نے عالمی تجارتی نظام، زرعی تجارت اور متعلقہ پالیسی امور پر کام کیا۔
انہوں نے وفاقی وزارت میں WTO چیف اور اسپیشل ٹیکنیکل اسسٹنٹ کے طور پر بھی ذمہ داریاں نبھائیں جبکہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی میں ٹیکنیکل ایڈوائزر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام میں فوڈ سیکیورٹی اینالیسس کے شعبے کی سربراہی بھی کر چکے ہیں۔
ڈاکٹر واجد پیرزادہ کو پاکستان ویٹرنری شعبے میں ادارہ جاتی سطح پر بھی اہم مقام حاصل ہے۔ وہ پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل کے بانی رجسٹرار رہے ہیں اور ملک میں ویٹرنری پروفیشن کے ریگولیٹری ڈھانچے کی تشکیل سے وابستہ رہے۔
تعلیمی اور تربیتی شعبے میں بھی ان کی خدمات قابل ذکر ہیں۔ وہ سول سروسز اکیڈمی، پبلک پالیسی انسٹی ٹیوٹ، سابق پاکستان ایڈمنسٹریٹو اسٹاف کالج، فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں وزٹنگ فیکلٹی کے طور پر تدریسی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
ڈاکٹر پیرزادہ نے بین الاقوامی سطح پر وسیع سفر کیا اور زراعت، تجارت، فوڈ سیکیورٹی، سائنسی تحقیق اور پالیسی سے متعلق مختلف عالمی فورمز میں شرکت کی۔ وہ متعدد تحقیقی اور پالیسی دستاویزات کے مصنف بھی ہیں، جن میں پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کے حوالے سے ابتدائی دستاویزی جائزوں اور زرعی علم، سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق بین الاقوامی اسیسمنٹ میں ان کی علمی شراکت شامل ہے۔
ویٹرنری سائنس سے آغاز کرنے والے ڈاکٹر واجد پیرزادہ کا پیشہ ورانہ سفر اس امر کی مثال ہے کہ ویٹرنری ماہرین کی مہارت جانوروں کی صحت سے آگے بڑھ کر تجارت، فوڈ سیکیورٹی، پبلک پالیسی، تحقیق اور قومی ترقی کے وسیع شعبوں میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔