
لاہور( نمائندہ خصوصی) پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالباسط نے کہا ہے کہ پولٹری سیکٹر نے ملک میں تجارتی بنیادوں پر ترقی کرتے ہوئے عوام کو نسبتاً مناسب قیمت پر حیوانی پروٹین فراہم کرنے کے ساتھ لاکھوں افراد کے لیے روزگار اور آمدن کے مواقع پیدا کیے ہیں۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کی ویب سائٹ پر جاری اپنے پیغام میں عبدالباسط نے پاکستان کی تجارتی پولٹری صنعت کے ارتقائی سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کی ترقی میں فارمرز، کاروباری شخصیات، سائنس دانوں، ماہرین غذائیت اور ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد نے مشترکہ کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پولٹری صنعت کی بنیاد رکھنے والی شخصیات نے کئی دہائیاں قبل ہی اندازہ کرلیا تھا کہ شہری آبادی، صنعت کاری اور آبادی میں تیز رفتار اضافے کے باعث زرعی رقبہ اور غذائی وسائل دباؤ کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں عام آدمی تک مناسب قیمت پر اعلیٰ معیار کی پروٹین پہنچانا ایک بڑا قومی چیلنج بننے والا تھا۔ عبدالباسط کے مطابق پاکستان میں تجارتی پولٹری فارمنگ کا باقاعدہ آغاز 1960 کی دہائی میں PIA Shaver متعارف کرائے جانے کے بعد ہوا۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے قیام سے صنعت کو ایک مرکزی قومی پلیٹ فارم میسر آیا، جس کے بعد روایتی گھریلو مرغ بانی بتدریج ایک منظم اور متحرک صنعت میں تبدیل ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ پولٹری آج ملک میں حیوانی پروٹین کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔
مرغی کے گوشت اور انڈوں کی دستیابی نے مٹن اور بیف کے محدود اور مہنگے ہوتے وسائل پر دباؤ کم کرنے میں بھی معاونت کی۔ چیئرمین پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے اپنے پیغام میں بتایا کہ پولٹری سیکٹر براہِ راست اور بالواسطہ طور پر تقریباً 15 لاکھ افراد کے روزگار اور آمدن سے وابستہ ہے۔ فارمنگ کے علاوہ فیڈ، بریڈنگ، ہیچری، ادویات، ویکسین، آلات، پروسیسنگ، ترسیل اور مارکیٹنگ سمیت متعدد ذیلی شعبے بھی اس صنعت سے منسلک ہیں۔ پاکستان میں آبادی اور غذائی ضروریات مسلسل بڑھ رہی ہیں، اس لئے پولٹری سیکٹر کی پیداواری صلاحیت، بائیوسکیورٹی، بیماریوں کی نگرانی، فیڈ کے معیار اور مارکیٹ کے نظام کو مزید بہتر بنانا ضروری ہے۔
صنعت کی پائیدار ترقی کے لئے حکومت، تحقیقی اداروں، جامعات، پولٹری ایسوسی ایشن اور نجی شعبے کے درمیان موثر تعاون ناگزیر ہے۔ پولٹری سیکٹر کو درپیش پیداواری لاگت، فیڈ اجزا کی قیمتوں، بیماریوں، ٹیکسوں اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جیسے مسائل کا مستقل پالیسی اقدامات کے ذریعے حل ملک میں محفوظ، معیاری اور قابلِ استطاعت حیوانی پروٹین کی فراہمی یقینی بنانے میں مدد دے سکتا ہے