
پاکستان میں ایک گائے یا بھینس کا مر جانا چھوٹے ڈیری فارمر کے لیے صرف ایک جانور کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس کے روزانہ کے دودھ، گھریلو آمدن، بچوں کی تعلیم اور قرض کی ادائیگی کا ذریعہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود ملک میں لائیو اسٹاک انشورنس ابھی تک ڈیری فارمنگ کے عمومی کاروباری نظام کا حصہ نہیں بن سکی۔
پاکستان میں جانوروں کی انشورنس موجود ضرور ہے، لیکن اس کا زیادہ تر کاروبار بینکوں سے قرض لینے والے فارمرز، بڑے کمرشل ڈیری فارمز یا محدود پائلٹ منصوبوں تک محدود ہے۔ جو چھوٹا فارمر اپنے وسائل سے جانور خریدتا ہے، وہ عموماً انشورنس کے دائرے سے باہر رہتا ہے۔
پاکستان میں لائیو اسٹاک انشورنس کی موجودہ صورت حال
سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جون 2024 میں جاری کردہ جامع رپورٹ کے مطابق زرعی انشورنس، جس میں فصل اور لائیو اسٹاک دونوں شامل ہیں، ملک کے مجموعی نان لائف انشورنس پریمیم کا صرف تقریباً دو فیصد تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سرکاری سرپرستی میں چلنے والی زرعی انشورنس اسکیموں کی رسائی بھی فارمرز کی مجموعی تعداد کے تقریباً 14 فیصد تک محدود تھی۔
یہ اعداد واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کی زرعی معیشت میں لائیو اسٹاک کی غیر معمولی اہمیت کے باوجود جانوروں کی انشورنس ابھی ایک محدود اور کم ترقی یافتہ مارکیٹ ہے۔ SECP رپورٹ
ملک میں لائیو اسٹاک انشورنس کا بنیادی سرکاری فریم ورک Livestock Insurance Scheme for Borrowers، LISB ہے، جسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2013 میں متعارف کرایا تھا۔ اس کا مقصد بینک سے قرض لے کر گائے، بھینس یا بیل خریدنے والے فارمرز کو جانور کی ہلاکت سے پیدا ہونے والے مالی نقصان سے تحفظ دینا تھا۔
اس اسکیم میں جانور کی بیماری، قدرتی موت، حادثے یا قدرتی آفت سے ہلاکت کا خطرہ پالیسی کی شرائط کے مطابق کور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کا بنیادی تعلق لائیو اسٹاک فنانسنگ سے ہے۔ یعنی انشورنس زیادہ تر اس وقت حاصل ہوتی ہے جب فارمر کسی بینک یا مائیکروفنانس ادارے سے جانور خریدنے کے لیے قرض لیتا ہے۔
چھوٹے ڈیری فارمرز انشورنس کی طرف آمادہ کیوں نہیں؟
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ چھوٹا فارمر انشورنس کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ وہ جانور کی موت کے مالی اثرات کو بخوبی سمجھتا ہے۔ اصل مسئلہ اس کی عدم دلچسپی سے زیادہ انشورنس مصنوعات کی عدم دستیابی، استطاعت، اعتماد اور پیچیدہ طریقہ کار کا ہے۔
پاکستان میں چھوٹے ڈیری فارمرز کی انشورنس خریدنے کی آمادگی کے بارے میں کوئی تازہ، جامع قومی سروے دستیاب نہیں۔ تاہم SECP اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی رپورٹس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رضاکارانہ اور براہ راست انشورنس کی قبولیت محدود ہے۔
اس کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
1۔ پریمیم ادا کرنے کی محدود استطاعت
چھوٹا ڈیری فارمر پہلے ہی مہنگی خوراک، چارے، ادویات، ویکسین، بجلی، مزدوری اور کمزور فارمل ملک مارکیٹنگ کے دباؤ میں ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں سالانہ انشورنس پریمیم اسے ایک اضافی خرچ محسوس ہوتا ہے، خصوصاً جب اس کا فائدہ صرف جانور کی ہلاکت کی صورت میں ملنا ہو۔
2۔ انشورنس سے متعلق آگاہی کی کمی
بہت سے فارمرز کو معلوم نہیں کہ جانور کی انشورنس کہاں سے حاصل کی جا سکتی ہے، اس میں کون سے خطرات کور ہوتے ہیں، کلیم کے لیے کن دستاویزات کی ضرورت پڑتی ہے اور رقم کتنے عرصے میں ملتی ہے۔
3۔ کلیم کی ادائیگی پر عدم اعتماد
فارمرز میں یہ خدشہ عام ہے کہ جانور کی ہلاکت کے بعد کمپنی بیماری، ویکسینیشن ریکارڈ، ویٹرنری سرٹیفکیٹ، ٹیگ کی موجودگی یا بروقت اطلاع نہ دینے کی بنیاد پر کلیم مسترد کر سکتی ہے۔ مشکل شرائط اور کلیم میں تاخیر انشورنس پر اعتماد کو مزید کم کرتی ہیں۔
4۔ جانوروں کی شناخت اور ریکارڈ کا فقدان
پاکستان میں بیشتر جانوروں کے پاس مستقل ڈیجیٹل شناخت، قابل تصدیق ٹیگ، مکمل طبی تاریخ یا پیداوار کا ریکارڈ موجود نہیں۔ اس وجہ سے جانور کی درست قیمت، عمر، صحت، ملکیت اور موت کی وجہ کا تعین مشکل ہو جاتا ہے۔
5۔ دیہی علاقوں میں کمپنیوں کی محدود رسائی
انشورنس کمپنیوں کا زیادہ تر نیٹ ورک بڑے شہروں میں ہے، جبکہ چھوٹے ڈیری فارمرز دیہات اور دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں۔ وہاں کمپنی کا نمائندہ، منظور شدہ ویٹرنری افسر اور لائیو اسٹاک سروے کرنے والا ادارہ باآسانی دستیاب نہیں ہوتا۔
6۔ مذہبی تحفظات
بعض فارمرز سود، غیر یقینی یا روایتی انشورنس سے متعلق مذہبی خدشات کی وجہ سے بھی پالیسی خریدنے سے گریز کرتے ہیں۔ شریعہ سے ہم آہنگ لائیو اسٹاک تکافل مصنوعات کی محدود دستیابی اس طبقے کی شمولیت میں بڑی رکاوٹ ہے۔
7۔ غیر موزوں انشورنس مصنوعات
چھوٹے فارمر کو صرف جانور کی موت کا کور کافی نہیں لگتا۔ اسے بیماری کے علاج، سرجری، مستقل معذوری، دودھ کی پیداوار میں شدید کمی، وبائی بیماری، سیلاب، گرمی کے دباؤ اور کاروباری آمدن کے تعطل سے بھی خطرہ ہوتا ہے۔ لیکن بیشتر دستیاب مصنوعات بنیادی طور پر جانور کی ہلاکت تک محدود رہتی ہیں۔
UNDP کی 2024 کی رپورٹ بھی کم آمدن والے صارفین میں انشورنس کی کم قبولیت کی بڑی وجوہات میں استطاعت، مالی آگاہی کی کمی، عدم اعتماد، پیچیدہ کلیم پراسیس اور ضروریات کے مطابق مصنوعات کی عدم دستیابی کو شامل کرتی ہے۔ UNDP Inclusive Insurance Report
پاکستان میں کون سی کمپنیاں لائیو اسٹاک انشورنس فراہم کرتی ہیں؟
کمپنیوں کی شرکت وقت، بینک کے معاہدے، ٹینڈر اور پالیسی کی دستیابی کے مطابق تبدیل ہو سکتی ہے۔ دستیاب سرکاری ویب سائٹس اور حالیہ ادارہ جاتی سرگرمیوں کی بنیاد پر درج ذیل کمپنیوں کا لائیو اسٹاک انشورنس میں واضح کاروبار یا مصنوعات موجود ہیں:
آدم جی انشورنس کمپنی لمیٹڈ
آدم جی انشورنس اپنی ویب سائٹ پر باقاعدہ لائیو اسٹاک انشورنس پیش کرتی ہے۔ اس میں پالیسی کی شرائط کے مطابق مویشیوں کی قدرتی موت، بیماری، چوٹ یا حادثے سے ہلاکت کا تحفظ شامل ہو سکتا ہے۔
2022 میں HBL اور آدم جی انشورنس نے ڈیری اور لائیو اسٹاک قرض لینے والے صارفین کے لیے شراکت داری بھی کی تھی، جس میں جانور کی موت کے ساتھ قرض لینے والے کی حادثاتی موت کا تحفظ شامل تھا۔ Adamjee Agriculture and Livestock Insurance
ای ایف یو جنرل انشورنس لمیٹڈ
EFU General دو طرح کی لائیو اسٹاک مصنوعات ظاہر کرتی ہے۔ ایک نجی اور کمرشل ڈیری فارمز کے جانوروں کے لیے اور دوسری سرکاری Livestock Loan Insurance Scheme کے تحت بینکوں سے قرض لینے والوں کے لیے۔
کمپنی کی تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی عام لائیو اسٹاک پالیسی زیادہ تر نجی کارپوریٹ فارمز کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔ اس لیے چھوٹے فارمر کو کمپنی یا متعلقہ بینک سے اہلیت، کم از کم جانوروں کی تعداد اور پریمیم کی تصدیق کرنا ہوگی۔ EFU Livestock Insurance
دی یونائیٹڈ انشورنس کمپنی آف پاکستان
یونائیٹڈ انشورنس اپنی مصنوعات میں لائیو اسٹاک اور کراپ انشورنس شامل کرتی ہے۔ کمپنی کا لائیو اسٹاک کاروبار انفرادی یا ادارہ جاتی انتظام کے ساتھ ساتھ بینک فنانسنگ سے منسلک اسکیموں میں بھی ہو سکتا ہے۔ United Insurance Livestock Insurance
جوبلی جنرل انشورنس
جوبلی جنرل کا لائیو اسٹاک انشورنس میں حالیہ نمایاں اقدام WWF-Pakistan کے ساتھ گلیات میں شروع کیا گیا کمیونٹی پروگرام ہے۔ اس منصوبے کے تحت جنگلی درندوں، بالخصوص تیندوے کے حملوں سے مویشی ضائع ہونے پر تصدیق شدہ نقصان کا معاوضہ دیا جاتا ہے۔
یہ ملک گیر کمرشل ڈیری پالیسی کے بجائے مخصوص علاقے اور انسانی و جنگلی حیات کے تصادم سے متعلق پائلٹ پروگرام ہے، لیکن یہ پاکستان میں کمیونٹی پر مبنی لائیو اسٹاک انشورنس کی ایک اہم مثال ہے۔ Jubilee General and WWF-Pakistan initiative
اس کے علاوہ مختلف ادوار میں دیگر جنرل انشورنس کمپنیوں نے بینکوں کی لائیو اسٹاک فنانسنگ اسکیموں اور ٹینڈرز میں حصہ لیا ہے۔ تاہم کسی کمپنی کا انشورنس لائسنس ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ اس وقت عام چھوٹے فارمر کو براہ راست لائیو اسٹاک پالیسی جاری کر رہی ہے۔ پالیسی خریدنے سے پہلے موجودہ پروڈکٹ، علاقائی دستیابی، پریمیم، کلیم شرائط اور SECP رجسٹریشن کی تصدیق ضروری ہے۔
عموماً کن نقصانات کا تحفظ مل سکتا ہے؟
پالیسی کے مطابق درج ذیل خطرات میں سے بعض شامل ہو سکتے ہیں:
- بیماری یا قدرتی موت
- حادثاتی چوٹ یا موت
- سیلاب، شدید بارش، آندھی یا بعض قدرتی آفات
- آگ لگنے سے جانور کی ہلاکت
- بعض صورتوں میں سرجری یا مستقل معذوری
- مخصوص منصوبوں میں جنگلی جانور کے حملے سے نقصان
- مخصوص منصوبوں میں جنگلی جانور کے حملے سے نقصان
- لائیو اسٹاک قرض کی بقایا رقم
- بعض بینک انتظامات میں قرض لینے والے کی حادثاتی موت
ہر پالیسی میں یہ تمام خطرات شامل نہیں ہوتے۔ وبائی امراض، پہلے سے موجود بیماری، غفلت، ناقص خوراک، بروقت علاج نہ کرانا، غیر مجاز ذبح، چوری یا ٹیگ گم ہونے جیسے معاملات پالیسی سے خارج بھی ہو سکتے ہیں۔
کلیم کے لیے عموماً کیا درکار ہوتا ہے؟
لائیو اسٹاک انشورنس میں عام طور پر درج ذیل ریکارڈ اہم ہوتے ہیں:
- جانور کا مستقل شناختی ٹیگ
- جانور کی تصاویر اور مکمل حلیہ
- مالک اور فارم کی شناخت
- خریداری یا ملکیت کا ثبوت
- ویٹرنری صحت سرٹیفکیٹ
- جانور کی طے شدہ انشورڈ ویلیو
- ویکسینیشن اور علاج کا ریکارڈ
- موت کی فوری اطلاع
- مجاز ویٹرنری افسر کی موت یا پوسٹ مارٹم رپورٹ
- ٹیگ اور مردہ جانور کی قابل تصدیق تصاویر
فارمر کو پالیسی لیتے وقت کلیم کی مدت، اطلاع دینے کا طریقہ، مطلوبہ دستاویزات، استثنائی شرائط اور کلیم کی ادائیگی کی متوقع مدت تحریری طور پر حاصل کرنی چاہیے۔
لائیو اسٹاک انشورنس کو چھوٹے فارمر تک کیسے پہنچایا جا سکتا ہے؟
پاکستان میں اس شعبے کو وسعت دینے کے لیے صرف کمپنیوں کو پالیسی فروخت کرنے کی دعوت دینا کافی نہیں ہوگا۔ ایک مربوط نظام درکار ہے۔
پریمیم پر ہدفی سبسڈی
انتہائی چھوٹے فارمر کے لیے حکومت پریمیم کا بڑا حصہ ادا کرے، جبکہ درمیانے اور کمرشل فارمر کے لیے سبسڈی بتدریج کم کی جائے۔ مکمل طور پر مفت اسکیم کے بجائے معمولی فارمر شراکت ملکیت اور ذمہ داری کا احساس پیدا کر سکتی ہے۔
ملک کلیکشن نیٹ ورک سے منسلک انشورنس
ڈیری کمپنیوں، دودھ جمع کرنے والے مراکز اور کوآپریٹو سوسائٹیوں کے ذریعے معمولی پریمیم دودھ کی ادائیگی سے مرحلہ وار منہا کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح فارمر کو ایک ساتھ بڑی رقم ادا نہیں کرنا پڑے گی۔
ویٹرنری سروس اور انشورنس کا مشترکہ پیکیج
جانور کی موت کے انتظار پر مبنی پالیسی کے بجائے ویکسینیشن، بیماری کی روک تھام، ٹیلی ویٹرنری مشاورت، ہنگامی علاج اور موت کے مالی تحفظ کو ایک پیکیج میں شامل کیا جائے۔ اس سے فارمر کو پریمیم کے بدلے مسلسل اور قابل مشاہدہ فائدہ ملے گا۔
ڈیجیٹل ٹیگنگ اور قومی رجسٹری
محکمہ لائیو اسٹاک، نادرا، بینکوں، ڈیری کمپنیوں اور انشورنس اداروں کے تعاون سے جانوروں کی قابل تصدیق ڈیجیٹل شناخت تیار کی جائے۔ اس سے دوہرے کلیم، فرضی جانور، غلط قیمت اور ملکیت کے تنازعات کم ہو سکتے ہیں۔
لائیو اسٹاک تکافل
اسلامی اصولوں کے مطابق سادہ اور قابل فہم مائیکرو تکافل مصنوعات متعارف کرائی جائیں۔ مقامی علما، ویٹرنری ایسوسی ایشنز اور فارمر تنظیموں کو آگاہی کے عمل میں شامل کیا جائے۔
کلیم کی مقررہ مدت
مکمل دستاویزات جمع ہونے کے بعد کلیم کی منظوری یا مسترد ہونے کے لیے واضح مدت مقرر ہونی چاہیے۔ مسترد شدہ کلیم کی وجہ فارمر کو تحریری اور سادہ زبان میں بتائی جائے، جبکہ شکایت کے لیے آزاد فورم دستیاب ہو۔
VNV Insight
پاکستان میں لائیو اسٹاک انشورنس کی کم قبولیت کو صرف فارمر کی عدم دلچسپی قرار دینا درست نہیں۔ موجودہ نظام زیادہ تر قرض، بینک اور ادارہ جاتی انتظام کے گرد تشکیل دیا گیا ہے، جبکہ ملک کی بڑی تعداد ایسے چھوٹے فارمرز پر مشتمل ہے جو غیر رسمی ذرائع سے جانور خریدتے اور دودھ فروخت کرتے ہیں۔
انشورنس اس وقت مقبول ہوگی جب وہ فارمر کے لیے سستی، آسان، قابل اعتماد اور اس کے روزمرہ خطرات سے ہم آہنگ ہو۔ اگر پالیسی صرف جانور کی موت کے بعد پیچیدہ کلیم تک محدود رہے گی تو فارمر اسے خرچ سمجھے گا۔ اگر اس کے ساتھ ویکسینیشن، ویٹرنری علاج، ڈیجیٹل ریکارڈ اور فوری کلیم شامل ہوں تو یہی پالیسی اس کے کاروبار کے تحفظ کا بنیادی ذریعہ بن سکتی ہے۔
اختتامیہ
پاکستان میں لائیو اسٹاک انشورنس کا ڈھانچہ موجود ہے، مگر اس کی رسائی محدود ہے۔ آدم جی، EFU جنرل اور یونائیٹڈ انشورنس واضح طور پر لائیو اسٹاک مصنوعات پیش کرتی ہیں، جبکہ جوبلی جنرل مخصوص کمیونٹی پروگرام میں کام کر رہی ہے۔ اس کے باوجود بیشتر چھوٹے ڈیری فارمرز براہ راست اور رضاکارانہ انشورنس سے باہر ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی، سیلاب، لمپی اسکن ڈیزیز، منہ کھر، شدید گرمی اور مہنگے جانوروں کے موجودہ دور میں لائیو اسٹاک انشورنس کو اضافی مالی سہولت کے بجائے قومی ڈیری اور غذائی تحفظ کی پالیسی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ حکومت، انشورنس کمپنیوں، بینکوں، ویٹرنری اداروں، ڈیری پروسیسرز اور فارمر تنظیموں کی مشترکہ کوشش ہی اس نظام کو چھوٹے فارمر تک پہنچا سکتی ہے۔