
برطانیہ کی نارتھمبریا یونیورسٹی کے سکول آف انجینئرنگ فزکس اینڈ میتھمیٹکس کے ماہرین نے پاکستان میں زرعی فضلے کو صاف اور سستی توانائی میں تبدیل کرنے کا ایک نیا فلاحی منصوبہ شروع کیا ہے۔ سیفر پلس نامی اس پروجیکٹ کے لیے برطانوی حکومت کی جانب سے ساڑھے بارہ لاکھ پاؤنڈ کی گرانٹ فراہم کی گئی ہے۔
پنجاب میں ہر سال گنے اور کپاس کے فضلے کو جلانے سے سموگ اور فضائی آلودگی میں شدید اضافہ ہوتا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے اسی فضلے کو ٹوریفیکشن کے عمل سے گزار کر بائیو کول یعنی حیاتیاتی کوئلے کی پیلٹس میں ڈھالا جائے گا۔ یہ پیلٹس درآمدی کوئلے کی نسبت چالیس سے پچاس فیصد کم قیمت پر ٹیکسٹائل ملوں اور اینٹوں کے بھٹوں میں استعمال ہو سکیں گی۔
منصوبے کے نگران ڈاکٹر جبران خالق کے مطابق پاکستان ہر سال صنعتوں کے لیے اڑھائی ارب ڈالر کا کوئلہ درآمد کرتا ہے جبکہ ملکی سطح پر فصلوں کی باقیات کو مارکیٹ نہ ہونے کے باعث جلا دیا جاتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے خواتین کی زیرِ قیادت بائیوماس کوآپریٹو قائم کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے پلانٹ کے قریبی علاقوں کے ایک سو بیس سے زائد گھرانوں کو روزگار ملے گا۔
اس پروجیکٹ میں ساٹھ فیصد تربیتی نشستیں خواتین کے لیے مختص کی گئی ہیں اور ان کی محنت کا معاوضہ براہِ راست ان کے موبائل والٹس میں بھیجا جائے گا۔ تین بڑی ٹیکسٹائل ملوں نے اس بائیو کول ایندھن کو استعمال کرنے کی باقاعدہ توثیق کر دی ہے جو اس منصوبے کو ایک کامیاب اور ماحول دوست کاروباری ماڈل بناتا ہے۔