
اسلام آباد۔ پاکستان میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مکئی کی ممکنہ تجارتی کاشت کے حوالے سے بیج کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز نے مقامی ہائبرڈ مکئی، غیر جی ایم او اقسام اور ملکی سیڈ انڈسٹری پر ممکنہ اثرات کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق مکئی میں پولن ہوا کے ذریعے ایک کھیت سے دوسرے کھیت تک منتقل ہو سکتا ہے۔ ان کا خدشہ ہے کہ اگر جی ایم او مکئی بڑے پیمانے پر کاشت کی گئی تو بعض حالات میں اس کا پولن غیر جی ایم او یا مقامی مکئی کی اقسام تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی امکان کی بنیاد پر مقامی بیجوں کے تحفظ، بایو سیفٹی اور تحقیق کے مستقبل پر مزید سائنسی جائزے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں ہائبرڈ مکئی کی بڑھتی ہوئی اہمیت
پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے سابق سیکرٹری خان فراز نے مکئی کی پیداوار کے حوالے سے اپنے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ برسوں کے دوران ہائبرڈ مکئی کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
ان کے مطابق ملک میں مقامی طور پر تیار اور فروغ دی جانے والی ہائبرڈ مکئی کی اقسام اب ایک فعال صنعت کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ مقامی ہائبرڈ بیجوں کی تحقیق، پیداوار اور کسانوں تک فراہمی کا تسلسل زرعی پیداوار اور ملکی بیج کی صنعت دونوں کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی اہم اناجی اور نقد آور فصل
مکئی پاکستان کی اہم اناجی فصلوں میں شامل ہے اور گندم اور چاول کے بعد اسے ملک کی تیسری بڑی اناجی فصل قرار دیا جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں بہتر ہائبرڈ بیجوں، جدید زرعی طریقوں اور تحقیق کے باعث مکئی کی فی ہیکٹر پیداوار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
خان فراز کے مطابق پاکستان میں مکئی اب ایک اہم نقد آور فصل کے طور پر بھی اپنی جگہ بنا چکی ہے۔ پولٹری فیڈ، لائیوسٹاک فیڈ، فوڈ پروسیسنگ اور مختلف صنعتی استعمال کی وجہ سے مکئی کی معاشی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
مقامی سیڈ انڈسٹری کے تحفظ پر زور
بیج کے کاروبار اور صنعت سے وابستہ بعض اسٹیک ہولڈرز نے جی ایم او مکئی کی تجارتی کاشت کے حوالے سے احتیاطی رویہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں پہلے ہی مقامی حالات اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہائبرڈ مکئی کی مختلف اقسام تیار کی جا رہی ہیں۔ اس لیے کسی نئی جینیاتی ٹیکنالوجی کی تجارتی منظوری سے پہلے مقامی بیج، کسانوں، تحقیق، مارکیٹ اور بایو سیفٹی سے متعلق تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ ضروری ہے۔
جی ایم او ٹیکنالوجی کیوں استعمال کی جاتی ہے
دنیا کے مختلف ممالک میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ فصلوں کی ٹیکنالوجی مخصوص زرعی خصوصیات حاصل کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ ان خصوصیات میں بعض کیڑوں کے خلاف مزاحمت، مخصوص جڑی بوٹی مار ادویات برداشت کرنے کی صلاحیت اور بعض ماحولیاتی دباؤ کا مقابلہ شامل ہو سکتا ہے۔
اس کے برعکس روایتی افزائش نسل میں مطلوبہ خصوصیات رکھنے والے پودوں کو نسل در نسل منتخب اور کراس کر کے نئی اقسام تیار کی جاتی ہیں۔ دونوں طریقوں کے اپنے سائنسی، زرعی، معاشی اور ریگولیٹری پہلو موجود ہیں۔
کراس پولینیشن پر تحفظات
پاکستان ہائی ٹیک ہائبرڈ سیڈ ایسوسی ایشن نے میڈیا رپورٹس میں جی ایم او مکئی کے ممکنہ تعارف پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکئی میں پولن کی منتقلی کے باعث غیر جی ایم او فصلوں کے ساتھ جینیاتی اختلاط کا امکان زیر غور رہنا چاہیے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق اگر جی ایم او مکئی کو بڑے پیمانے پر کھیتوں میں متعارف کرایا جاتا ہے تو پولن کے پھیلاؤ، فصلوں کے درمیان مناسب فاصلوں، بیج کی خالصتاً برقرار رکھنے اور نگرانی کے مؤثر نظام کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔
سرکاری اور نجی تحقیق پر ممکنہ اثرات
PHHSA کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سرکاری اور نجی اداروں نے کئی سالوں کی تحقیق کے ذریعے مختلف مقامی اور ہائبرڈ مکئی کی اقسام تیار کی ہیں۔
ایسوسی ایشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مناسب حفاظتی نظام کے بغیر کسی نئی جینیاتی ٹیکنالوجی کا تعارف مقامی بیجوں کی شناخت، سیڈ پروڈکشن چین اور غیر جی ایم او مارکیٹ پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
فیصلہ سائنسی شواہد اور بایو سیفٹی جائزے کی بنیاد پر ہونا چاہیے
جی ایم او مکئی کے معاملے میں ایک طرف نئی زرعی ٹیکنالوجی، پیداوار اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے ممکنہ فوائد زیر بحث ہیں جبکہ دوسری جانب مقامی بیجوں، بایو سیفٹی، کراس پولینیشن، کسانوں کے مفادات اور ملکی سیڈ انڈسٹری سے متعلق خدشات موجود ہیں۔
اس لیے کسی بھی ممکنہ تجارتی منظوری سے قبل آزاد سائنسی تحقیق، بایو سیفٹی رسک اسیسمنٹ، فیلڈ ڈیٹا، مقامی بیجوں پر ممکنہ اثرات اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کو فیصلہ سازی کا بنیادی حصہ بنانا ضروری ہے۔