
تحریر: ڈاکٹر محمد انس، کنسلٹنٹ لائیو اسٹاک ڈویلپمنٹ
پروجیکٹ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ یونٹ، لائیواسٹاک ونگ، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، حکومت پاکستان
پاکستان میں گوشت کے لیے جانور پالنا روایتی طور پر چرائی پر مبنی رہا ہے، کیونکہ چرائی ایک قدرتی اور نسبتاً کم خرچ ذریعہ خوراک ہے۔ تاہم بدلتے موسمی حالات، چراگاہوں کی کمی، زمین پر بڑھتے دباؤ اور تجارتی بیف پیداوار کی ضروریات کے باعث صرف چرائی پر انحصار اب ہر علاقے اور ہر فارمر کے لیے منافع بخش نہیں رہا۔ آج بیف فارمر کو ایسے خوراکی نظام کی ضرورت ہے جو جانور کی غذائی ضروریات بھی پوری کرے اور معاشی طور پر بھی قابل برداشت ہو۔
چرائی کا ایک اہم مگر اکثر نظر انداز ہونے والا پہلو یہ ہے کہ اس دوران جانور اپنی خوراک سے حاصل توانائی کا نمایاں حصہ ضائع کر دیتا ہے۔ مسلسل چلنے پھرنے، ناہموار زمین پر حرکت اور سخت گرمی یا سردی برداشت کرنے میں خوراک کی تقریباً 20 سے 30 فیصد توانائی صرف ہو جاتی ہے۔ یہی توانائی اگر وزن بڑھانے میں لگے تو نتائج کہیں بہتر ہوں، مگر چرائی میں یہ ضائع ہو کر وزن بڑھنے کی رفتار سست کر دیتی ہے۔
یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ چرائی پاکستان کے ہر علاقے کے لیے یکساں موزوں نہیں۔ تھر اور چولستان جیسے صحرائی خطے، نیم خشک و بارانی علاقے، پہاڑی مقامات اور شہری یا نیم شہری علاقے جہاں چراگاہیں محدود ہیں، وہاں صرف چرائی جانور کو مطلوبہ غذائیت فراہم نہیں کر پاتی۔ نتیجتاً جانور بر وقت مارکیٹ وزن تک نہیں پہنچتا اور فارمر کی آمدن متاثر ہوتی ہے۔
ان مسائل کا حل چرائی ترک کرنا نہیں بلکہ اسے اسٹال فیڈنگ کے ساتھ متوازن کرنا ہے۔ چرائی سستی قدرتی خوراک دیتی ہے، جبکہ اسٹال فیڈنگ غذائی کمی پوری کر کے توانائی کا ضیاع روکتی ہے۔ دونوں کو مناسب تناسب سے ملایا جائے تو جانور کی توانائی محفوظ رہتی ہے، خوراک کا بہتر استعمال ہوتا ہے اور وزن نسبتاً تیزی سے بڑھتا ہے۔ یوں فی کلو وزن بڑھانے کی لاگت کم اور مجموعی منافع زیادہ ہو جاتا ہے۔
یہ حکمت عملی خاص طور پر ان چھوٹے اور درمیانے فارمرز کے لیے بہترین ہے جن کے پاس 4 سے 12 جانور ہوں۔ اس حجم پر فارمر چرائی اور اسٹال فیڈنگ دونوں کو باآسانی سنبھال سکتا ہے، خوراک کی لاگت قابو میں رہتی ہے اور انفرادی توجہ بھی ممکن رہتی ہے۔
اسٹال فیڈنگ کی مقدار ہر جانور کے وزن کے مطابق ہونی چاہیے۔ عموماً بیف جانور روزانہ اپنے وزن کا تقریباً 2.2 سے 3 فیصد خشک مادہ کھاتا ہے، جبکہ دانے کی مقدار 0.3 سے 0.6 فیصد باڈی ویٹ رکھنے سے خرچ بھی قابو میں رہتا ہے اور وزن میں مناسب اضافہ بھی ہوتا ہے۔ فیٹنگ کے آخری مرحلے یا مارکیٹ کے قریب دانہ عارضی طور پر بڑھایا جا سکتا ہے۔
اسٹال فیڈنگ میں خشک بھوسہ اور ہرا چارہ صحت اور فائبر کی ضرورت پوری کرتے ہیں، جبکہ محدود دانہ توانائی اور وزن میں مدد دیتا ہے۔ منرل مکسچر اور نمک کو ہمیشہ الگ الگ شامل کریں، منرل مکسچر دانے کا 1 سے 1.5 فیصد اور نمک 1 سے 2 فیصد۔ منرل مکسچر ہڈیوں، افزائش اور مجموعی صحت کے لیے ناگزیر ہے، نمک ہاضمہ اور پانی کے توازن کے لیے، جبکہ صاف پانی کی مسلسل دستیابی خوراک کے بہتر استعمال کو یقینی بناتی ہے۔
اس کے ساتھ باڑے کی کھرلی (مینجر) میں نمک کے بلاک (سالٹ بلاک) لازمی رکھیں تاکہ جانور ضرورت کے مطابق نمک اور معدنیات حاصل کرتا رہتا ہے۔ پاکستان کا پنک سالٹ بلاک سستا، آسان اور بہت مؤثر ہے، اور ایک بلاک کئی جانوروں کے لیے کافی عرصہ چلتا ہے۔
کمزور بھوسے کو کارآمد بنانے کے لیے یوریا ٹریٹڈ بھوسہ ایک سستا اور مؤثر طریقہ ہے۔ 100 کلو خشک بھوسے پر 4 کلو یوریا 40 سے 50 لیٹر پانی میں حل کر کے یکساں چھڑکیں، اور ڈھانپ کر 2 سے 3 ہفتے رکھیں، پھر کھول کر استعمال کریں۔ اس عمل سے بھوسے کی پروٹین 2 سے 4 فیصد سے بڑھ کر 7 سے 9 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ صرف بڑے جانوروں کو دیں اور ساتھ صاف پانی لازمی رکھیں۔
چرائی کو مؤثر بنانے کے لیے روٹیشنل گریزنگ کا نظام اپنائیں۔ ایک ہی زمین پر مسلسل چرائی سے چراگاہ کمزور اور چارے کی پیداوار متاثر ہوتی ہے، جبکہ چراگاہ کو حصوں میں تقسیم کر کے باری باری استعمال کرنے سے زمین کو دوبارہ اگنے کا موقع ملتا ہے اور چارے کا معیار بہتر رہتا ہے۔
معاشی لحاظ سے یہ متوازن نظام بیف فارمر کے لیے واضح فائدہ رکھتا ہے۔ اس کے تحت جانور عموماً 20 سے 30 دن پہلے مارکیٹ کے قابل ہو جاتا ہے، دانے پر مکمل انحصار کم ہوتا ہے، اور اوسطاً فی جانور 10,000 سے 18,000 روپے تک اضافی منافع ممکن ہے، جو علاقے، مارکیٹ اور چارے کی قیمتوں کے مطابق بدل سکتا ہے۔
جدول 1: وزن کے مطابق چرائی اور اسٹال فیڈنگ کا عملی فارمولا
| جانور کا وزن | چرائی (روزانہ) | خشک/یوریا بھوسہ | ہرا چارہ | دانہ | نمک | منرل مکسچر |
| 250 کلو | 4-6 گھنٹے | 2-3 کلو | 4-6 کلو | 0.8-1.5 کلو | 45-75 گرام | 35-55 گرام |
| 350 کلو | 5-7 گھنٹے | 3-4 کلو | 6-8 کلو | 1.2-2.0 کلو | 70-110 گرام | 50-75 گرام |
| 450 کلو | 5-8 گھنٹے | 3-5 کلو | 8-10 کلو | 1.8-2.8 کلو | 90-140 گرام | 65-95 گرام |
نوٹ: نمک اور منرل مکسچر ہمیشہ الگ الگ شامل کریں۔ اگر چرائی کمزور یا دور ہو تو دانے کے بجائے ہرا چارہ یا یوریا ٹریٹڈ بھوسہ بڑھانا زیادہ معاشی رہتا ہے۔
جدول 2: کم خرچ دانہ مکس کے اجزاء اور غذائی خصوصیات
| جزو | تناسب (%) | غذائی کردار |
| مکئی/جو | 40 | توانائی |
| چوکر | 27 | فائبر، ہاضمہ |
| تیل دار کھل (بنولہ/کنولا) | 25 | پروٹین |
| مولاس (اگر دستیاب ہو) | 5 | توانائی، ذائقہ |
| منرل مکسچر (DCP) | 1.5 | معدنیات (کیلشیم، فاسفورس) |
| نمک | 1.5 | ہاضمہ، پانی کا توازن |
| کل | 100 |
نوٹ: یہ دانہ مکس اوسطاً 10 سے 12 فیصد خام پروٹین، مناسب توانائی اور وافر فائبر فراہم کرتا ہے، جو جانور کی صحت، متوازن وزن اور بہتر منافع کے لیے موزوں ہے۔ نمک اور منرل مکسچر اسی مکس میں شامل ہیں۔