وزیراعظم سیکرٹریٹ سے لائیو اسٹاک اور سفید انقلاب کا آغاز، قومی مکالمے کا تاریخی سنگ میل

پاکستان میں سفید انقلاب کا آغاز لائیو اسٹاک پر قومی مکالمہ

پاکستان کی قومی تاریخ میں بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جو محض سرکاری تقریبات نہیں بلکہ مستقبل کی سمت متعین کرنے والے تاریخی سنگ میل ثابت ہوتے ہیں۔ 15 جولائی 2026 بھی ایسا ہی ایک یادگار دن تھا جب قیامِ پاکستان کے بعد پہلی مرتبہ وزیراعظم سیکرٹریٹ اسلام آباد میں لائیو اسٹاک کے شعبے پر اعلیٰ ترین سطح پر ایک قومی مکالمہ منعقد ہوا۔

وزارتِ بین الصوبائی رابطہ اور وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے اشتراک سے منعقد ہونے والے اس سیمینار نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ لائیو اسٹاک محض زراعت کا ذیلی شعبہ نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت، غذائی تحفظ، دیہی خوشحالی اور برآمدات کا ایک بنیادی ستون ہے۔

لائیو اسٹاک اور سفید انقلاب کا تاریخی آغاز

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ویٹرنری برادری، مویشی پال کسانوں، ڈیری اور پولٹری صنعت، سائنس دانوں، جامعات اور نجی شعبے سے وابستہ لاکھوں افراد اس دن کے منتظر تھے۔ گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں میں پہلی مرتبہ وزیراعظم سیکرٹریٹ میں لائیو اسٹاک کے مسائل، امکانات اور مستقبل کو قومی سطح پر زیرِ بحث لایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اسے پاکستان میں سفید انقلاب کے آغاز کی بنیاد سمجھتا ہوں۔

اگر اس قومی مکالمے میں پیش کی گئی سفارشات پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو مستقبل میں یہ دن پاکستان کی زرعی و معاشی تاریخ میں ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

وزیراعظم پاکستان کا اسٹریٹجک وژن

اس تاریخی موقع کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اپنی انتہائی مصروف قومی ذمہ داریوں کے باوجود سیمینار میں شریک ہوئے۔ ان کی شرکت محض رسمی نہیں تھی بلکہ اس بات کا واضح اظہار تھی کہ حکومت پاکستان لائیو اسٹاک کو قومی اقتصادی ترقی کا ایک اسٹریٹجک شعبہ تصور کرتی ہے۔

وزیراعظم نے منہ کھر یعنی فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز کی سنگینی اور اس سے ملکی معیشت کو پہنچنے والے اربوں روپے کے نقصانات کا مکمل ادراک کیا۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ بیماری پاکستان کی لائیو اسٹاک، گوشت اور ڈیری مصنوعات کی برآمدات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تاریخی اعلان

وزیراعظم پاکستان نے ملک کے پہلے مقامی ایف ایم ڈی ویکسین پروڈکشن پلانٹ کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ اگر اس منصوبے پر بروقت عمل درآمد کیا جاتا ہے تو یہ پاکستان کے لائیو اسٹاک سیکٹر کے لیے ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے لائیو اسٹاک وسائل کے اہم اعداد و شمار

پاکستان دنیا کے خوش قسمت ترین ممالک میں شامل ہے جہاں لائیو اسٹاک کے بے پناہ وسائل موجود ہیں۔

  • دودھ کی سالانہ پیداوار تقریباً 72 ملین ٹن
  • گوشت کی سالانہ پیداوار 6 ملین ٹن سے زائد
  • انڈوں کی سالانہ پیداوار 25 ارب
  • برائلر مرغیاں 2 ارب سے زیادہ
  • جی ڈی پی میں حصہ قومی مجموعی پیداوار کا تقریباً 15 فیصد
  • زرعی ویلیو ایڈیشن زرعی شعبے کا تقریباً 63 فیصد حصہ
  • معاشی سہارا 8 ملین سے زائد دیہی خاندانوں کی روزی روٹی کا بنیادی ذریعہ
  • بیش قیمت جینیاتی سرمایہ نیلی راوی اور کنڈی بھینسیں، ساہیوال، ریڈ سندھی اور چولستانی گائیں، بیٹل اور ٹیڈی بکریاں

قومی مکالمے میں پیش کی گئیں اہم سفارشات

مجھے یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز سوات کی نمائندگی کرتے ہوئے اس تاریخی قومی مکالمے میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا۔ میں نے اس سیمینار میں درج ذیل دو اہم ترین تجاویز پیش کیں جنہیں شرکاء نے نہایت مثبت انداز میں سراہا

1 مقامی ایف ایم ڈی ویکسین پلانٹ کا قیام

پاکستان کو ایف ایم ڈی کے مؤثر کنٹرول کے لیے سالانہ تقریباً 30 کروڑ ویکسین ڈوزز درکار ہیں جبکہ اس وقت صرف 2 سے 4 کروڑ ڈوزز دستیاب ہیں۔ میں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کوئی عام صنعتی منصوبہ نہیں بلکہ قومی غذائی تحفظ اور حیاتیاتی سلامتی کا معاملہ ہے لہٰذا اس کی مکمل مالی ذمہ داری وفاقی حکومت کو اٹھانی چاہیے۔

2 آزاد ویٹرنری ڈرگ رجسٹریشن بورڈ کا قیام

پاکستان میں ایک آزاد بورڈ قائم کیا جائے تاکہ ویٹرنری ادویات، ویکسینز اور حیاتیاتی مصنوعات کی رجسٹریشن اور نگرانی ویٹرنری ماہرین کی نگرانی میں بین الاقوامی معیار کے مطابق انجام دی جا سکے۔ یہ اقدام جانوروں کی صحت، غذائی تحفظ اور اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہے۔

جامع پالیسی اور نجی شعبے کا اشتراک

پاکستان کے لائیو اسٹاک سیکٹر کی ترقی صرف بیماریوں پر قابو پانے سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ویٹرنری تعلیم، جدید تحقیق، تشخیصی لیبارٹریوں اور جدید بریڈنگ میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

سیمینار میں پولٹری اور ڈیری صنعت کو درپیش مشکلات بھی تفصیل سے زیرِ بحث آئیں۔ بیماریوں کے پھیلاؤ، فیڈ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ٹیکسوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ایسی پالیسیوں پر اتفاق کیا گیا جو سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں اور پیداواری لاگت میں کمی لائیں۔

عمل درآمد ہی قوموں کی تقدیر بدلتا ہے

قوموں کی تقدیر صرف سیمیناروں اور اعلانات سے نہیں بدلتی بلکہ ان پر عمل درآمد سے بدلتی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم کے اعلانات کو بروقت عملی جامہ پہنایا جائے اور ایک ایسی جامع قومی لائیو اسٹاک پالیسی مرتب کی جائے جو آئندہ کئی دہائیوں تک اس شعبے کی رہنمائی کر سکے۔

مجھے یقین ہے کہ وزیراعظم سیکرٹریٹ سے شروع ہونے والا یہ قومی مکالمہ مستقبل میں ایک ایسے سفید انقلاب کی بنیاد بن سکتا ہے جو پاکستان کو حلال مصنوعات کی عالمی تجارت میں نمای نمایاں مقام دلائے گا اور قومی معیشت کو ایک مضبوط، پائیدار اور خود انحصار بنیاد فراہم کرے گا۔

ڈاکٹر علمدار حسین ملک

مشیرِ علمی امور، یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز سوات

سابق سیکرٹری/رجسٹرار، پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل