
ڈاکٹر احمد دین، علینہ رشید، حافظہ سدرہ بشریٰ، حفصہ اشرف
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، یونیورسٹی آف ایگریکلچر، فیصل آباد
سویا بین کا تعارف
سویا بین ($Glycine\ max\ L.$) دنیا کی اہم ترین دالوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ اس میں تقریباً $40\%$ پروٹین اور $20\%$ تیل پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے غذائیت کے لحاظ سے ایک مکمل فصل سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان ہر سال تقریباً 344 ملین ڈالر مالیت کا سویا بین آئل درآمد کرتا ہے۔
سویا بین نہ صرف انسانی خوراک بلکہ جانوروں کی خوراک، صنعتوں اور غذائی مصنوعات میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں سالانہ تقریباً 1.3 بلین ٹن جانوروں کی خوراک تیار کی جاتی ہے اور سویا بین خاص طور پر (Soybean meal) اس فیڈ میں استعمال ہونے والا ایک اہم پروٹین کا ذریعہ ہے۔ اس سے تیار ہونے والی اہم مصنوعات میں سویا دودھ، ٹوفو، سویا تیل اور سویا آٹا شامل ہیں۔
سویا پروٹین میں ضروری امائنو ایسڈز خاص طور پر لائسین زیادہ مقدار میں موجود ہوتا ہے، جو اناج میں کم ہوتا ہے۔ اس لیے سویا مصنوعات کو گندم یا چاول کے ساتھ ملا کر استعمال کرنے سے خوراک کی غذائیت بہتر ہو جاتی ہے۔ سویا بین غذائیت سے بھرپور فصل ہے جو عالمی غذائی قلت کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ سویا آٹا سستا، پروٹین سے بھرپور اور گلوٹن فری متبادل ہے۔ اس کے استعمال میں اضافہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں صحت عامہ بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
سویا بین سے آٹا بنانے کا مرحلہ وار طریقہ
صفائی (Cleaning):
سویا بین کو ٹرے میں پھیلا کر اس میں موجود خراب دانے، پتھر، چھلکیاں اور گرد وغبار الگ کر لیے جاتے ہیں۔ اگر چاہیں تو ہلکے پانی سے بھی دھو سکتے ہیں، مگر دھونے کے بعد مکمل خشک کرنا ضروری ہے۔ صاف ستھرے دانے آٹے کے رنگ اور معیار کو بہترین بناتے ہیں۔
دھلائی (Washing):
سویا بین کو 6 سے 8 گھنٹے پانی میں بھگونے سے دانے نرم ہو جاتے ہیں جس سے بعد میں پسائی زیادہ آسان ہوتی ہے۔ بھگونے کے بعد پانی نکال کر دانوں کو اچھی طرح خشک ہونے دیا جاتا ہے۔ یہ مرحلہ فلور کے ٹیکسچر کو مزید بہتر بناتا ہے۔
خشک کرنا (Drying):
سویا بین کو دھونے یا بھگونے کے بعد دھوپ میں 4 سے 6 گھنٹے یا اوون میں 60 سے $70^\circ\text{C}$ پر 1.5 سے 2 گھنٹے تک اچھی طرح خشک کیا جاتا ہے۔ دانے مکمل خشک ہونے چاہئیں تاکہ پیسائی باریک ہو اور فلور میں نمی نہ رہے۔ جب دانہ ہاتھ سے توڑنے پر کرچ کی آواز دے تو Drying مکمل سمجھی جاتی ہے، نمی کا تناسب 9 سے 10 فیصد ہونا چاہیے۔
بھونائی یا حرارتی عمل (Roasting/Heat Treatment):
اس عمل سے دانوں میں موجود غیر مطلوب ذائقہ اور بو میں کمی واقع ہوتی ہے، جبکہ غذائی خصوصیات اور قابل ہضمیت میں بہتری آتی ہے۔ بھنائی کے بعد سویا بین کا معیار بہتر ہو جاتا ہے، جس سے اعلیٰ معیار کا سویا فلور حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، یہ مرحلہ تیار شدہ مصنوعات کے ذائقے، خوشبو اور مجموعی قبولیت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ٹھنڈا کرنا (Cooling):
بھونائی کے فوراً بعد سویا بین کو ٹرے میں پھیلا کر مکمل طور پر ٹھنڈا ہونے دیا جاتا ہے۔ گرم دانوں کو پیسنے سے نمی بنتی ہے جس سے فلور چپچپا ہو جاتا ہے اور برا ذائقہ آتا ہے۔ ٹھنڈا کرنے سے فلور کا ٹیکسچر، معیار اور شیلف لائف بہتر ہوتی ہے۔
پسائی (Grinding):
پوری طرح خشک اور بھنے ہوئے سویا بین کو گرائنڈر یا فلور مل میں ڈال کر باریک پیس لیا جاتا ہے۔ اگر آپ بہت باریک سویا فلور چاہیں تو اسے دو مرتبہ پیس لیں۔ گرائنڈر کو وقفے سے چلائیں تاکہ وہ گرم نہ ہو۔
چھاننا (Sieving):
پیسے ہوئے سویا فلور کو باریک چھلنی سے گزار کر موٹے ذرات الگ کیے جاتے ہیں۔ چھاننے سے آٹا بالکل ملائم اور یکساں بنتا ہے۔ موٹے حصے کو دوبارہ پیس کر فلور میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ سویا بین کو سویا فلور بنانے کے لیے پیسنے کے بعد اس کا میش سائز تقریباً 180 مائیکرون ہونا چاہیے، تاکہ آٹا باریک، یکساں اور معیاری حاصل ہو سکے۔
محفوظ کرنا (Packaging & Storage):
سویا فلور کو ایئر ٹائٹ جار یا ڈبے میں بند کرکے ٹھنڈی اور خشک جگہ پر رکھا جاتا ہے۔ اسے فریج میں رکھنے سے شیلف لائف مزید بڑھ جاتی ہے۔ مناسب ذخیرہ کرنے سے سویا فلور 3 سے 6 ماہ تک خراب نہیں ہوتا۔
گندم کی الرجی اور دنیا کی صورتحال
خوراک کی الرجیز دنیا بھر میں بڑھ رہی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق خوراک کی حساسیت ایک ابھرتا ہوا عالمی مسئلہ ہے۔
- گندم الرجی: یہ ایک فوڈ الرجی ہے جو مدافعتی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ دنیا میں تقریباً $0.6\%$ سے $1\%$ لوگ اس سے متاثر ہیں۔ بچوں میں الرجی زیادہ عام ہوتی ہے اور اکثر بڑی عمر تک ختم ہو جاتی ہے۔ علامات میں چھینکیں، خارش اور پیٹ درد شامل ہیں۔
- سیلیک بیماری: یہ ایک آٹو امیون بیماری ہے جس میں گلوٹن آنتوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ علامات میں ڈائجسٹو مسائل، تھکن اور غذائی کمی شامل ہو سکتی ہے۔ اس کا کوئی علاج نہیں، صرف زندگی بھر گلوٹن سے پاک غذا استعمال کرنا ضروری ہے۔
پاکستان میں سیلیک بیماری کی صورتحال
پاکستان میں سیلیک بیماری (Celiac Disease) بتدریج بڑھ رہی ہے، لیکن اس کے بارے میں آگاہی ابھی بھی بہت کم ہے۔ اکثر لوگ اسے عام معدے کے مسائل یا کمزوری سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے تشخیص میں دیر ہو جاتی ہے۔ سرکاری سطح پر اس بیماری کے لیے باقاعدہ اسکریننگ یا شماریاتی ریکارڈ کم موجود ہے، اس لیے اصل مریضوں کی تعداد معلوم نہیں ہو پاتی۔ گلوٹن فری خوراک کی محدود دستیابی بھی مریضوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مجموعی طور پر، پاکستان میں اس بیماری کے بارے میں تعلیم، تشخیص اور خوراک کی سہولیات میں بہتری کی ضرورت ہے۔
سویا آٹے کے فوائد
سویا آٹا غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے جس میں اعلیٰ معیار کا پروٹین، فائبر، وٹامن B کمپلیکس، آئرن، کیلشیم، پوٹاشیم اور میگنیشیم شامل ہوتے ہیں۔ اس میں موجود صحت مند چکنائی (Good Fats) جسم کو مضبوط توانائی فراہم کرتی ہے اور خلیوں کی مرمت میں مدد دیتی ہے۔ سویا آٹے میں پائے جانے والے آئیسو فلیوونز (Isoflavones) قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس ہیں جو جسم کو بیماریوں سے بچانے اور قوت مدافعت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سویا آٹے کے استعمالات
سویا آٹا خوراک کی صنعت میں مختلف مصنوعات کی غذائیت بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے روٹی، بسکٹ، کیک، نمکو اور اسنیکس میں اسے پروٹین سپلیمنٹ کے طور پر شامل کیا جاتا ہے۔ یہ بیکری آئٹمز کو نرم، ملائم اور زیادہ دیر تک تازہ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ گوشت کے متبادل (Meat Substitutes) اور پروٹین بارز میں بھی سویا آٹا اہم جزو کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس کے استعمال سے مصنوعات کا ٹیکسچر اور غذائیت بہتر ہو جاتی ہے۔
گھروں میں سویا آٹا گندم کے آٹے میں ملا کر روٹیاں بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس سے روٹی کی پروٹین اور آئرن کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔
صنعتی سطح پر سویا آٹا پروٹین کنسنٹریٹ اور آئسولیٹ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو آگے چل کر سپلیمنٹس، بیوریجز، کارن فلیکس اور اسپورٹس نیوٹریشن میں شامل کیے جاتے ہیں۔ اس کا استعمال بائیو پلاسٹکس، چپکنے والے مادوں (Adhesives) اور کاغذ سازی میں بھی کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں قدرتی بائنڈنگ خصوصیات ہوتی ہیں۔ سویا آٹے کی وجہ سے مصنوعات مضبوط، پائیدار اور ماحول دوست بنتی ہیں۔ کچھ صنعتی فارمولیشنز میں یہ کیمیکل بائنڈرز کا کم لاگت والا متبادل بھی فراہم کرتا ہے۔
سویا آٹے اور گندم کے آٹے کا موازنہ
| خصوصیت | سویا آٹا | گندم کا آٹا |
| پروٹین | 40% سے 50% | 10% سے 12% |
| گلوٹن | موجود نہیں | 10% سے 12% |
| فائبر | 10% سے 15% | 2% سے 3% |
| چکنائی | 18% سے 22% | 1% سے 2% |
| امائنو ایسڈ | 90% سے 100% | 40% سے 50% |
| بیکنگ خصوصیات | تنہا کمزور | روٹی کے لیے بہترین |
| ذائقہ | ہلکا نٹ جیسا | عام آٹے جیسا |
| قیمت | مہنگا | سستا |
| دل کی صحت | بہتر | نسبتاً کم فائدہ |
احتیاطی تدابیر
سویا بین سے سویا فلور تیار کرتے وقت صفائی اور حفظان صحت کے اصولوں کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔ سویا بین کے دانوں کو اچھی طرح صاف کرکے گرد، مٹی، پتھریلے ذرات اور خراب دانوں کو الگ کر لینا چاہیے تاکہ تیار شدہ فلور معیاری ہو۔ پیسنے سے پہلے دانوں کو مناسب حد تک خشک کرنا ضروری ہے کیونکہ زیادہ نمی فلور کے ذائقے، معیار اور ذخیرہ کرنے کی مدت کو متاثر کر سکتی ہے۔ استعمال ہونے والی مشینری اور برتن صاف اور خشک ہونے چاہئیں تاکہ آلودگی سے بچا جا سکے۔ فلور تیار ہونے کے بعد اسے ہوا بند اور نمی سے محفوظ برتن میں ذخیرہ کرنا چاہیے تاکہ کیڑوں، پھپھوندی اور بدبو کے اثرات سے محفوظ رہے۔ مزید برآں، تیاری اور ذخیرہ کے دوران براہ راست دھوپ اور زیادہ درجہ حرارت سے بچاؤ بھی ضروری ہے تاکہ سویا فلور کی غذائی خصوصیات برقرار رہیں۔