
ڈاکٹر محمد شریف، ڈاکٹر صفدر حسن، ،حسن امام، ڈاکٹر فواد احمد،ڈاکٹر محمداسامہ ، محمد عرفان حیدر
انسٹیٹیوٹ آف اینیمل اینڈ ڈیری سائنسز، جامعہ زرعیہ، فیصل آباد
پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں تقریباً 70 فیصد آبادی کا انحصار زراعت اور مویشیوں کی پیداوار پر ہے۔ چارے کی قلت کے باعث ایسے چاروں کی اہمیت بڑھ گئی ہے جو کم لاگت، کم پانی میں زیادہ اور معیاری پیداوار دیتے ہیں۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ امور حیوانات نے رواں سال جوار اور اس کے خمیر شدہ چارے پر تحقیق کرتے ہوئے دودھ اور گوشت دینے والے جانوروں کی افزائش پر اس کے مثبت اثرات کا جائزہ لیا ہے۔
جوار دنیا بھر میں خوراک، چارے اور صنعتی استعمال کے لیے کاشت کی جاتی ہے۔ پاکستان میں یہ ایک سستا، غذائیت سے بھرپور اور آسانی سے اگنے والا چارہ ہے جو گائے، بھینس، بکری اور بھیڑ جیسے چارپایوں کی روزمرہ خوراک میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کم پانی کی ضرورت اور مختلف ماحول میں اگنے کی صلاحیت اسے خشک اور نیم خشک علاقوں کے لیے انتہائی موزوں بناتی ہے۔
جوار کے دانوں میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو دودھ کی پیداوار، وزن میں اضافے اور توانائی کی ضروریات پوری کرتی ہے۔ اس کے پتوں اور دانوں میں مناسب پروٹین موجود ہوتا ہے جو پٹھوں کی نشوونما، جسم کی مرمت اور تولیدی صحت کے لیے اہم ہے۔ جوار میں فائبر کی مقدار زیادہ ہونے سے نظامِ ہضم بہتر رہتا ہے اور قبض جیسے مسائل کم ہوتے ہیں۔ اس میں پوٹاشیم، فاسفورس، میگنیشیم اور وٹامن بی کمپلیکس جیسے غذائی اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں۔ بعض اقسام میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جانوروں کی قوت مدافعت کو بہتر کرتے ہیں۔
کاشت اور استعمال کے اہم پہلو
پاکستان میں جوار کی کاشت مختلف اوقات میں کی جاتی ہے۔ مارچ–اپریل میں پنجاب اور سندھ میں سبز چارے کے لیے بہترین ہے، جبکہ جون–جولائی میں مون سون کے آغاز پر سائیلج کے لیے کاشت کی جاتی ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بلند علاقوں میں اگست کی کاشت سردیوں سے پہلے تیار ہو جاتی ہے۔ 20–35 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور ہلکی ریتلی سے درمیانی بھاری مٹی جوار کے لیے موزوں ہے۔ تھرپارکر اور چولستان میں کم پانی کے ساتھ بھی اچھی کاشت ہوتی ہے۔
جوار کو پاکستان میں مختلف صورتوں میں استعمال کیا جاتا ہے:
سبز چارے کی صورت میں یہ گرمیوں میں دودھ دینے والے جانوروں کے لیے بہترین ہے۔ بڑے ڈیری فارمز میں جوار کا سائیلیج بہت مقبول ہے کیونکہ یہ غذائیت کو محفوظ رکھتا ہے اور سردیوں میں آسانی سے استعمال ہو جاتا ہے۔ خشک چارہ بکریوں اور بھیڑوں کے لیے موزوں ہے اور پہاڑی علاقوں میں سردیوں کے دوران اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ جوار کے دانے توانائی کا مرکز سمجھے جاتے ہیں اور گائے بھینس کے کنسنٹریٹ فیڈ میں شامل کیے جاتے ہیں۔
جوار کم خرچ، کم پانی اور کم کھاد میں پیدا ہونے والی فصل ہے، اس لیے چھوٹے کسانوں کے لیے معاشی طور پر فائدہ مند ہے۔ خشک سالی کی صورت میں بھی یہ اچھی پیداوار دیتی ہے اور ماحول دوست تصور کی جاتی ہے۔
احتیاطی تدابیر اور اہم مشورے
جوار کے استعمال میں چند احتیاطیں ضروری ہیں۔ ناپختہ جوار یا خشک سالی کے دوران اگے پودوں میں ہائیڈرو سائنک ایسڈ کی مقدار بڑھ سکتی ہے جو جانوروں کے لیے نقصان دہ ہے، اس لیے بہتر ہے کہ پودا مکمل پکے یا اسے سائیلج کی صورت میں محفوظ کیا جائے۔ زیادہ نائٹروجن کھاد کے استعمال سے نائٹریٹ جمع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، اس لیے کھاد کا محتاط استعمال ضروری ہے۔ ناقص ذخیرہ کاری سے فنگل انفیکشن پیدا ہو سکتا ہے جو جانوروں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے، اس لیے سائیلج اور خشک چارے کو صاف اور خشک جگہ پر محفوظ رکھنا چاہیے۔
مزید یہ کہ جوار کو اکیلے کھلانے کے بجائے برسیم یا مکئی جیسے دیگر چاروں کے ساتھ ملا کر کھلانا زیادہ بہتر اور متوازن خوراک فراہم کرتا ہے۔
نتیجے کے طور پر, ملک میں تقریباً 8 کروڑ چارپایوں کے لیے جوار جیسا سستا، غذائیت سے بھرپور اور آسانی سے اگنے والا چارہ ایک اہم ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف کسان کے لیے معاشی فائدہ رکھتا ہے بلکہ دودھ کی پیداوار، وزن میں اضافے اور مویشیوں کی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔