روس کا عالمی سویا بین میل مارکیٹ میں قدم: پاکستان پولٹری انڈسٹری کے لیے گیم چینجر؟

ماسکو/اسلام آباد: روس نے 2025 میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی سویا بین پیداوار حاصل کر کے عالمی سویا بین میل (Soybean Meal) مارکیٹ میں باضابطہ انٹری دے دی ہے۔ عالمی زرعی ذرائع کے مطابق روس کی معروف پروسیسنگ کمپنی Sodrugestvo Group نے 25,000 ٹن سویا بین میل ترکی کو برآمد کرنے کا پہلا معاہدہ کیا ہے، جس کی شپمنٹ جنوری 2026 میں متوقع ہے۔

یہ روس کی وہ پہلی کھیپ ہوگی جو یورپی علاقے کیلننگراڈ (Kaliningrad) سے کسی نان سی آئی ایس (Non-CIS) ملک کو بھیجی جا رہی ہے، جس سے روسی زرعی تجارت کے ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔

پیداوار کے نئے ریکارڈز روسی زرعی مشاورتی ادارے IKAR کے مطابق یورپی روس میں سویا بین کی پیداوار 5.7 سے بڑھ کر 9.3 ملین ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے، جو تمام سابقہ ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ دے گی۔ اسی سرپلس کی بنیاد پر IKAR نے 2025–26 میں سویا میل اور دیگر آئل میلز کی مجموعی برآمدات 4.4 ملین ٹن تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا ہے، جو روس کے لیے اب تک کی بلند ترین سطح ہوگی۔

روس نے 20 فیصد ایکسپورٹ ڈیوٹی عائد کر رکھی ہے، جس کا واضح مقصد خام سویا بین (Raw Beans) کے بجائے ویلیو ایڈڈ Soybean Meal برآمد کرنا ہے۔ یہ حکمت عملی عالمی منڈیوں میں روس کی مسابقت (Competitiveness) کو کئی گنا بڑھا دے گی۔ے روس خام سویا بین کے بجائے زیادہ تر soybean meal برآمد کرنے کو ترجیح دے گا، جو عالمی منڈیوں میں روس کی مسابقت کو مزید بڑھا دے گا۔

IKAR کے مطابق آئندہ چند ماہ میں روسی سویا میل کی طلب بالخصوص ترکی، شمالی افریقہ، اسرائیل اور دیگر اوورسیز منڈیوں میں نمایاں طور پر بڑھنے کی توقع ہے۔ ان خطوں کی دلچسپی اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ روس کی نئی سپلائی عالمی سویا مارکیٹ کے موجودہ ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، خاص طور پر اُن ممالک کیلئے جو روایتی طور پر جنوبی امریکہ کے پروڈیوسرز پر انحصار کرتے ہیں۔ روس کی جانب سے بڑی مقدار میں سویا میل کی انٹری عالمی سپلائی چین کو مزید متنوع اور مستحکم بنا سکتی ہے، جس کے مثبت اثرات قیمتوں سے لے کر لاجسٹکس تک محسوس کیے جائیں گے۔

🇵🇰 VNV خصوصی تجزیہ: پاکستان کے لیے ابھرتی ہوئی تجارتی ونڈو

پاکستان ہر سال اربوں روپے کا سویا بین اور سویا میل درآمد کرتا ہے، جن کا بڑا حصہ امریکہ، برازیل اور ارجنٹائن سے حاصل کیا جاتا ہے۔ روس کی عالمی مارکیٹ میں انٹری کے بعد پاکستان کو کم لاگت، کم شپنگ وقت اور زیادہ مستحکم سپلائی جیسی اہم معاشی سہولیات میسر آ سکتی ہیں۔
روس میں GMO beans کے مقامی استعمال پر پابندی کے باعث وہاں تیار ہونے والا meal بڑی حد تک Non-GMO ہوتا ہے، جو پاکستان کے پولٹری سیکٹر، ایکسپورٹ فوڈ پراسیسرز اور فیڈ ملز کے لیے نہایت موزوں ہے۔
24 جون 2025 کو وزارتِ قومی غذائی تحفظ (MNFSR) اور روسی سفارتخانے کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بھی دونوں ممالک نے زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، جس سے مستقبل میں فیڈ، فوڈ اور زرعی مشینری کی تجارت کے نئے راستے کھلنے کی توقع ہے۔ یہ سفارتی پیش رفت روسی سویا میل کی ممکنہ درآمد کے تناظر میں پاکستان کیلئے مزید مثبت امکانات پیداکرسکتی ہے۔

اسی تناظر میں اگر پاکستان نے اس موقع سے بروقت فائدہ اٹھایا تو فیڈ لاگت میں کمی، لائیوسٹاک و پولٹری سیکٹر کا استحکام، درآمدی انحصار میں کمی، اور Non-GMO مارکیٹس تک بہتر رسائی جیسے بڑے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک تاریخی موقع ہے جسے فوری طور پر پالیسی سطح پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ پاکستان عالمی فیڈ مارکیٹ میں ایک مضبوط اور متنوع مقام حاصل کر سکے۔

روس کی ریکارڈ سویا بین پیداوار