مستقل چیئرمین، اضافی چارج اور سینیارٹی لسٹ

اسلام آباد: پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل، یعنی پی اے آر سی، ملک کا ایک اہم قومی زرعی تحقیقی ادارہ ہے جس کا تعلق براہِ راست زراعت، غذائی تحفظ، فصلوں کی بہتری، لائیوسٹاک، ماہی پروری، زرعی ٹیکنالوجی اور دیہی معیشت سے ہے۔ ایسے ادارے میں مستقل، بااختیار اور میرٹ پر مبنی قیادت محض انتظامی ضرورت نہیں بلکہ قومی تقاضا ہے۔

صدرِ پاکستان کی جانب سے ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی کو چیئرمین پی اے آر سی کا اضافی چارج دیے جانے کے بعد ادارے کی قیادت کا معاملہ ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ڈاکٹر اندرابی ایک سینئر سائنسدان اور ادارے کے تجربہ کار افسر ہیں،

پی اے آر سی جیسے قومی ادارے میں اضافی چارج عارضی انتظامی ضرورت کے طور پر قابلِ فہم ہو سکتا ہے، مگر طویل المدت بنیادوں پر ادارے کو اضافی چارج کے ذریعے چلانا اطمینان بخش صورتِ حال نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ متعلقہ وزارت additional charge کی مدت، تسلسل اور قانونی حیثیت کے حوالے سے واضح سرکاری پوزیشن سامنے لائے۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پی اے آر سی آرڈیننس 1981 کے تحت چیئرمین کا منصب ادارے کی انتظامی، تحقیقی اور پالیسی سمت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ چیئرمین صرف روزمرہ امور چلانے والا انتظامی سربراہ نہیں بلکہ قومی زرعی تحقیق، تحقیقی منصوبوں، بین الاقوامی تعاون، بجٹ ترجیحات، ادارہ جاتی اصلاحات اور مستقبل کی سائنسی حکمت عملی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

اسی دوران پی اے آر سی کی جانب سے چیف سائنٹیفک آفیسرز سمیت مختلف سائنسی کیڈرز کی عبوری سینیارٹی لسٹیں جاری کی گئی ہیں۔ یہ ادارہ جاتی شفافیت کی طرف ایک مثبت قدم ہے، مگر اصل امتحان اس وقت ہوگا جب ان سینیارٹی لسٹوں پر قانون، قواعد، میرٹ اور شفاف طریقہ کار کے مطابق عملدرآمد بھی کیا جائے گا۔

پاکستان اس وقت غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی، کم زرعی پیداوار، زرعی درآمدات کے دباؤ، لائیوسٹاک کی پیداواری صلاحیت اور کسان کی معاشی مشکلات جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں قومی زرعی تحقیق کے سب سے اہم اداروں میں سے ایک کو عارضی انتظام کے بجائے مستقل، واضح اور بااختیار قیادت کے تحت چلانا وقت کی ضرورت ہے۔

قومی ادارے اسی وقت مضبوط ہوتے ہیں جب ان میں قیادت مستقل ہو، فیصلے واضح ہوں، میرٹ پر عمل ہو اور انتظامی معاملات قانون کے مطابق آگے بڑھیں۔

پی اے آر سی میں مستقل چیئرمین کی تقرری، اضافی چارج / additional charge کی وضاحت اور سینیارٹی لسٹ پر عملدرآمد اب ادارہ جاتی شفافیت کا اہم امتحان بن چکے ہیں۔

دستیاب عبوری سینیارٹی لسٹ میں جن چیف سائنٹیفک آفیسرز کے نام نمایاں طور پر شامل ہیں، ان میں ڈاکٹر خالد محمود، ڈاکٹر امتیاز حسین، ڈاکٹر ایس مرتضیٰ اندرابی، ڈاکٹر نومان لطیف سدوزئی، ڈاکٹر محمد ارشد، ڈاکٹر ملک محمد یوسف، ڈاکٹر ذاکر حسین ڈاہری، ڈاکٹر غلام صادق، ڈاکٹر عطااللہ خان، ڈاکٹر بشارت حسین شاہ، محمد آصف، ڈاکٹر محمد منصور، ڈاکٹر ایم ارشد فاروق، حسنین شاہ اور ڈاکٹر طارق سلطان شامل ہیں۔

جواب دیں