لائیوسٹاک میں بہتری کا دارومدار مینجمنٹ، ویٹرنری سروسز، اور پروڈکشن ڈگری ہولڈرز کے فعال کردار پر ہے

ڈاکٹر قمر بلال

خصوصی گفتگو، دفتر ڈین اینیمل ہسبینڈری، UAF فیصل آبادتحریر: ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز

لائیوسٹاک میں بہتری کا دارومدار مینجمنٹ، ویٹرنری سروسز، اور پروڈکشن ڈگری ہولڈرز کے فعال کردار پر ہے

ڈاکٹر قمر بلال، ڈین فیکلٹی آف اینیمل ہسبینڈری، یونیورسٹی آف ایگری کلچر فیصل آباد، اور ڈاکٹر خالد محمود شوق، ایڈیٹر اِن چیف ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز، کے درمیان ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی جس میں پاکستان کے لائیوسٹاک، ویٹرنری تعلیم، ڈیری انڈسٹری، ویکسینیشن اور بریڈ امپورٹ جیسے اہم موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔

ڈاکٹر خالد شوق:"سر، لائیوسٹاک سیکٹر کی موجودہ حالت پر بات ہو رہی ہے، تو آپ کیسے دیکھتے ہیں کہ ویٹرنری ڈاکٹر کا کردار کہاں سے شروع ہوتا ہے، اور مینجمنٹ کہاں سے اہمیت اختیار کرتی ہے؟”

ڈاکٹر قمر بلال: "یہ بات ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ویٹرنری ڈاکٹر کا اپنا مقام ہے — وہ ایک معالج ہے اور اس کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ڈاکٹر تب آتا ہے جب کچھ خراب ہو چکا ہوتا ہے۔ اگر ہم جانور کی خوراک، نیوٹریشن، پانی، رہائش اور ماحول — یعنی پوری مینجمنٹ کو درست رکھیں، تو بیماری کی نوبت ہی نہ آئے۔

اس حوالے سے اگر ہم لائیو سٹاک مینجمنٹ، اینیمل نیوٹریشن، پولٹری سائنس، اینیمل بریڈنگ اینڈ جینیٹکس، اینیمل سائنس، ڈیری سائنس اور لائیوسٹاک پروڈکشن جیسے شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل اینڈ ڈیری سائنسز جیسے اداروں سے وابستہ پروفیشنلز کو فیلڈ میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع دیں، تو لائیوسٹاک سیکٹر میں غیر معمولی بہتری آ سکتی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو بیماری آنے سے پہلے ہی سسٹم کو درست کر سکتا ہے — اور یہی اصل پائیدار ترقی ہے۔

ڈاکٹر خالد شوق:"ایک اور پہلو جو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ کسان اور ویٹرنری سسٹم کے درمیان فاصلہ ہے۔ یعنی فارمر کی سطح پر وہ علم نہیں پہنچ پاتا جو یونیورسٹی میں موجود ہے۔ کیا یونیورسٹی نے اس خلیج کو کم کرنے کے لیے کوئی قدم اٹھایا ہے؟”

 

ڈاکٹر قمر بلال:جی ہاں، ہم نے حالیہ برسوں میں فیلڈ ایکسٹینشن پر خاصی توجہ دی ہے۔ ہمارے اسٹوڈنٹس کو انٹرن شپ کے ذریعے فیلڈ میں بھیجا جا رہا ہے تاکہ وہ براہِ راست کسانوں کے ساتھ کام کریں، مسائل کو سمجھیں اور عملی تجربہ حاصل کریں۔ اسی طرح، ہم فارمرز کے لیے تربیتی سیشنز، عملی ورکشاپس، اور آگاہی پروگرام بھی باقاعدگی سے منعقد کرتے ہیں۔

لیکن یہ ایک مسلسل اور اجتماعی عمل ہے — جس میں یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ میڈیا، زرعی ڈائجسٹ، UAF FM 100.4، ویٹرنری جرنلز اور ویٹرنری  نیوز اینڈ ویوز’ جیسے باخبر پلیٹ فارمز کا کردار نہایت اہم کام کر رہے ہیں۔ اگر مزيدیہ تمام ادارے ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کریں تو ہم فیلڈ اور یونیورسٹی کے درمیان موجود علم کی خلیج کو اور زیادہ کم کر سکتے ہیں۔

درحقیقت، ہماری بیشتر تحقیق مکمل ہو چکی ہے — اب صرف ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تحقیقی نتائج کو فیلڈ میں نافذ کیا جائے، تاکہ حقیقی تبدیلی ممکن ہو سکے۔

ڈاکٹر خالد شوق:"سر، ڈیری سیکٹر کے لیے اگر ہم عملی اقدامات پر بات کریں — کیا بریڈنگ، فیڈ، اور مارکیٹ ایکسس تینوں کو بیک وقت ہینڈل کیا جا سکتا ہے؟”

 

ڈاکٹر قمر بلال:"دیکھیں، ان تینوں شعبوں میں ربط ہی کامیابی کی بنیاد ہے۔ اگر آپ کے پاس اچھی جینز نہیں، تو فیڈ کا فائدہ نہیں۔ اگر آپ کے پاس فیڈ ہے لیکن مارکیٹ ایکسس نہیں، تو پیداوار رکے گی۔ اس لیے ایک مربوط پالیسی درکار ہے — جس میں حکومت، تعلیمی ادارے، اور پرائیویٹ سیکٹر سب کا کردار ہو۔”

ڈاکٹر خالد شوق:"ایسا لگتا ہے کہ ایک نئی ‘پبلک-پرائیویٹ ریسرچ الائنس’ کا وقت آ چکا ہے؟”

ڈاکٹر قمر بلال:"بالکل۔ ہم نے کچھ صنعتی اداروں کے ساتھ MoUs سائن کیے ہیں کہ وہ ہمارے اسٹوڈنٹس کو ریسرچ پلیٹ فارم دیں گے۔ اس سے طلبہ کو نہ صرف روزگار کے مواقع میسر آئیں گے بلکہ نئی تحقیق بھی عملی شکل اختیار کرے گی۔”

 

2
13
3
4
11
18


ڈاکٹر خالد شوق:"اب ویکسینیشن پر آئیں، سر — کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موجودہ دور میں کسان ویکسینیشن کو سنجیدہ لے رہے ہیں؟ اور کیا اس حوالے سے کوئی عملی بہتری نظر آ رہی ہے؟”

ڈاکٹر قمر بلال:ویکسینیشن، بیماریوں کی روک تھام کے لیے ایک نہایت اہم اور بنیادی پہلو ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں کسانوں میں اس حوالے سے کچھ آگاہی ضرور پیدا ہوئی ہے اور ویکسین لگوانے کا رجحان بڑھا ہے۔ لیکن ہمارا اصل مسئلہ صرف رجحان نہیں — بلکہ کوالٹی کنٹرول اور سسٹم کی کمزوریاں ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا:

"بہت سی جگہوں پر ویکسینز کی کولڈ چین کا مناسب انتظام نہیں ہوتا۔ بعض اوقات جعلی یا غیر معیاری ویکسین فیلڈ تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کا نقصان صرف جانور کو نہیں ہوتا بلکہ پورے شعبے کو بھگتنا پڑتا ہے — کسان بدظن ہو جاتا ہے، اور آئندہ وہ ویکسینیشن پر اعتماد نہیں کرتا۔”

 

ڈاکٹر خالد شوق:"یعنی مسئلہ صرف آگاہی کا نہیں بلکہ سپلائی چین کی حفاظت کا بھی ہے؟

ڈاکٹر قمر بلال:جی بالکل۔ حکومت، ویکسین بنانے والی کمپنیاں، اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورکس — تینوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ویکسین اصل ہو، اس کی ترسیل مکمل محفوظ اور دستاویزی ہو، اور یہ ٹھنڈک کے درست نظام میں کسان تک پہنچے۔ اعتماد کی بنیاد یہی ہے — ورنہ دنیا کے بہترین سائنسی طریقے بھی زمینی سطح پر ناکام ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر خالد شوق:"سر، امپورٹڈ ویکسینز اور بریڈز پر ہمارا انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ رجحان درست ہے؟”

 

ڈاکٹر قمر بلال:"ہمیں امپورٹ پر اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ ہر ملک کی اپنی اپیدیمیالوجی ہوتی ہے، اپنے ماحول کی مخصوص بیماریاں اور مخصوص اقسام۔ امپورٹڈ ویکسین یا جانوروں کے ذریعے ایسے سٹرینز اور جینز ملک میں داخل ہو سکتے ہیں جو ہمارے لیے نقصان دہ ہوں۔ اسی لیے مقامی ویکسین کی تیاری اور اپنی بریڈز پر فوکس ضروری ہے۔”

ڈاکٹر خالد شوق:"گائے اور بھینس کی پالیسی میں بھی تضاد ہے۔ آپ اس پر کیا کہیں گے؟”

ڈاکٹر قمر بلال:پاکستان کے تقریباً 60 فیصد فارمرز بھینس پالتے ہیں، اور یہی جانور ان کی آمدنی اور دودھ کی بنیادی سپلائی کا ذریعہ ہے۔ بھینس کا دودھ چکنائی میں زیادہ، ذائقہ دار، اور غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے — اسی لیے پاکستانی صارفین کی اولین ترجیح بھی یہی ہے۔

بدقسمتی سے موجودہ حکومتی پالیسیوں اور کارپوریٹ سیکٹر کی توجہ کا مرکز زیادہ تر ولایتی گائے بن چکی ہے، جو ہر کسان کے لیے عملی طور پر موزوں نہیں۔ بھینس ہمارے مقامی موسمی حالات، خوراکی نظام، اور کسان کی روایتی مہارتوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے پالیسی سازی میں نظر انداز کرنا، ایک علمی اور معاشی غلطی کے مترادف ہے۔

جب بھی کوئی قومی پالیسی یا بزنس ماڈل ترتیب دیا جاتا ہے، تو ضروری ہے کہ عوامی رجحانات، صارف کی پسند، اور مقامی معاشی حقائق کو مدِنظر رکھا جائے۔ پاکستان میں بھینس کے دودھ کی طلب، مارکیٹ ویلیو، اور دیہی علاقوں میں اس کی فروخت کی سہولت — یہ سب عوامل بھینس کو ایک قابلِ اعتماد اور پائیدار انتخاب بناتے ہیں۔

بین الاقوامی رجحانات بھی اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں — چین جیسے ممالک نہ صرف بھینس کے دودھ پر تحقیق و سرمایہ کاری کر رہے ہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ مشترکہ منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان کی 10,000 سے زائد بھینسوں کے ایمبریوز تجرباتی بنیاد پر چین کو ایکسپورٹ کیے جا چکے ہیں، جو پاکستانی جینیاتی اثاثوں کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ہم ولایتی گائے، تحقیق یا سرمایہ کاری کے خلاف نہیں — بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ ایسی تمام کوششیں ان زمینی حقائق کے مطابق ہوں جن میں ہمارا کسان جی رہا ہے۔ اگر کسی کے پاس وسائل ہیں تو وہ ولایتی گائے پال سکتا ہے، اور ہمارا بطور ادارہ یہ فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے طلبہ کو اس قابل بنائیں کہ وہ ہر طبقے کے کسان کی رہنمائی کر سکیں — چاہے وہ جدید فارم ہو یا محدود وسائل والا دیہی کھیت۔

لیکن ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے ملک کے 90 فیصد سے زائد فارمرز چھوٹے، محدود وسائل رکھنے والے کسان ہیں۔

ڈاکٹر خالد شوق:"تو کیا ہم اپنی لوکل بریڈز کو نظرانداز کر کے غلطی کر رہے ہیں؟”

ڈاکٹر قمر بلال:"یقیناً۔ ہماری مقامی بریڈز کم لاگت میں اچھی پیداوار دیتی ہیں۔ اگر ہم صرف تھوڑا سا فوکس مینجمنٹ، نیوٹریشن، اور شیڈنگ پر کر لیں تو ہمیں امپورٹڈ جانور لانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ ہم اپنی نسلوں کو جینیاتی طور پر محفوظ، صحت مند اور پیداواری لحاظ سے مضبوط بنا سکتے ہیں — یہی اصل میں پائیدار خودکفالت کا راستہ ہے۔”

ڈاکٹر خالد شوق:"آخر میں، آپ نئی نسل کے ویٹرنری طلبہ اور پالیسی سازوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟”

ڈاکٹر قمر بلال:"میرا پیغام ہے کہ صرف ڈگری نہ لیں — علم کو جذب کریں، فیلڈ سے جڑیں، اور دیہی پاکستان کی خدمت کریں۔ اسی میں قوم کی بقاء ہے، اور اسی میں حقیقی ترقی چھپی ہے۔”

پاکستان میں لائیوسٹاک سیکٹر کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں صرف ریسرچ یا پالیسی سازی نہیں، بلکہ ان دونوں کو فیلڈ میں امپلیمنٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم اپنی مقامی صلاحیت، کسان کی سمجھ، اور اداروں کی تحقیق کو جوڑ کر ایک مضبوط، خودکفیل اور سائنسی بنیادوں پر استوار لائیوسٹاک سیکٹر قائم کر سکتے ہیں۔

ہماری تھوڑی سی توجہ اور محنت اس بات کا ثبوت ہے کہ لائیوسٹاک سیکٹر نے پچھلے کچھ سالوں سے ترقی کی جو راہ اپنائی ہے، اس میں مینجمنٹ کا بہت اہم کردار ہے۔ بجٹ میں جو بہتری اس سال سامنے آئی ہے، وہ اسی تسلسل کا نتیجہ ہے — اور ہمیں اس سمت میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔


Facebook


Twitter


Youtube


Instagram


Linkedin