ویلڈن فارم بائے لن ژاؤ: سیچوان سے پاکستان کے لیے ایک زرعی ماڈل

تحریر: محمد نعیم ظفر

(سینئر اسکالر، ساؤتھ ویسٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، میانیانگ چنگدو)

ویلڈن فارم بائے لن ژاؤ: سیچوان سے پاکستان کا کامیاب زرعی ماڈل

چین کے صوبہ سیچوان کے شوانگ شی گاؤں میں واقع ویلڈن فارم بائے لن ژاؤ دیہی ترقی اور جدید زراعت کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ یہ فارم تقریباً دو سو سال قبل ڈپٹی میئر لن ژاؤ کے آباؤ اجداد نے قائم کیا تھا اور آج یہ فارم جدید ٹیکنالوجی، کمیونٹی کی شراکت داری، اور زرعی سیاحت (Agri-Tourism) کے امتزاج سے چین کے کامیاب زرعی ماڈلز میں شمار ہوتا ہے۔

لن ژاؤ جو پبلک ایڈمنسٹریشن میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، اس وقت شوانگ شی کمیونٹی کے ڈپٹی میئر اور اپنے خاندانی فارم کے ڈپٹی مینیجر ہیں۔ انہوں نے جدید طرزِ فکر کے ساتھ اپنے گاؤں کو ایک ایسے ماڈل میں ڈھالا ہے جہاں روایت اور جدیدیت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ نظر آتی ہیں۔

چین کے دیہی علاقوں میں زمین کمیونٹی کی ملکیت ہوتی ہے اور خاندانوں کو ان کے افراد کی تعداد کے مطابق زمین دی جاتی ہے۔ اگر کسی کو زیادہ زمین درکار ہو تو وہ باقاعدہ معاہدے کے تحت کرائے پر حاصل کرتا ہے۔ ویلڈن فارم بائے لن ژاؤ تقریباً 12,000 چینی ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے اور چار بڑے حصوں پر مشتمل ہے: زرعی پیداوار، سیاحتی ایریا، لائیو اسٹاک ایریا اور باغبانی کے لیے مخصوص حصہ۔ یہاں پر کھیتوں میں جدید اسپرنکلر اور فرٹیگیشن ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے، سور پالے جاتے ہیں جن کا فضلہ بطور کھاد پھلدار درختوں میں ڈالا جاتا ہے، اور باغات میں مختلف پھل اور سبزیاں اگائی جاتی ہیں۔

یہ فارم اب ایک کمیونٹی کمپلیکس میں بدل چکا ہے، جس میں کینٹین، کیفے، بچوں کے کھیلنے کی جگہ، دفاتر اور سوئمنگ پول تک موجود ہیں۔ یہ سہولتیں نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ آنے والے سیاحوں کے لیے بھی پرکشش ہیں۔

ویلڈن فارم میں سیاحت بھی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔ داخلہ فیس صرف 20 یوان رکھی گئی ہے اور رات گزارنے کے لیے کمرے 700 تا 800 یوان فی رات دستیاب ہیں۔ ایک ہی موسمِ خزاں میں یہاں 40 ہزار سیاح آئے، جن میں مشہور ٹک ٹاکرز بھی شامل تھے، اور فارم نے تقریباً 40 لاکھ یوان کی آمدنی حاصل کی۔

ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی یہ فارم مثال ہے۔ یہاں پورے گاؤں میں 5G انٹرنیٹ نصب کیا گیا، جس کے لیے سات ٹاور ایک ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نے مفت لگائے۔ اس کے نتیجے میں یہ گاؤں پورے علاقے کا پہلا دیہی گاؤں بن گیا جہاں 5G سہولت دستیاب ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے سیاحت، مارکیٹنگ اور کسانوں کے کام کو براہِ راست عالمی دنیا سے جوڑ دیا۔ اس کے علاوہ یونیورسٹیوں اور ڈیجیٹل کمپنیوں کے ساتھ تعاون نے فارم کو زرعی تحقیق اور نئی منڈیوں تک رسائی میں مدد فراہم کی۔

لن ژاؤ نے آئندہ پانچ سالہ منصوبہ بھی پیش کیا ہے، جس میں ماحول دوست اقدامات، جدید زرعی ٹیکنالوجی کا فروغ، بین الاقوامی تبادلے، چھوٹے کسانوں کی مدد اور گاؤں کو ایک ماڈل ولیج میں بدلنے کا ہدف شامل ہے۔

 

سیچوان صوبہ میں کمیونٹی فارمنگ اور یُو شِن ساؤ کی کاشت

سیچوان صوبہ میں کمیونٹی فارمنگ اور یُو شِن ساؤ کی کاشت

Click Here

نمایاں نکات

• زمین کا اجتماعی نظام اور منصفانہ تقسیم۔

 • فرٹیگیشن اور اسپرنکلر آبپاشی کے ذریعے لاگت میں کمی اور پیداوار میں اضافہ۔

 • 5G ٹیکنالوجی سے دیہی علاقے کو ڈیجیٹل دنیا سے جوڑنا۔

 • زرعی، سیاحتی اور ٹیکنالوجی آمدنی کو ایک جگہ پر یکجا کرنا۔

 • کمیونٹی سروس اسٹیشن کے ذریعے کسانوں کی تربیت اور ترقی۔

پاکستان کے لیے سبق

پاکستان بھی ویلڈن فارم بائے لن ژاؤ کے اس ماڈل سے سیکھ کر اپنی زرعی معیشت کو بہتر بنا سکتا ہے۔

 • چھوٹے کھیتوں میں ڈرِپ اور اسپرنکلر آبپاشی کو عام کیا جائے۔

 • کسانوں کے لیے زرعی انفارمیشن سینٹرز قائم کیے جائیں جو انہیں جدید تحقیق اور منڈی تک رسائی دیں۔

 • زرعی سیاحت کو فروغ دیا جائے تاکہ کسانوں کو متبادل آمدنی کے ذرائع میسر ہوں۔

 • ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو زرعی نظام کا حصہ بنایا جائے تاکہ کسان اپنی پیداوار براہِ راست فروخت کر سکیں۔

 • کمیونٹی بینکوں یا قرض کی اسکیموں کے ذریعے چھوٹے کسانوں کو سہولت دی جائے.