ویٹرنری یونیورسٹی لاہور کے سولہویں کانووکیشن کا انعقاد

یو وی اے ایس لاہور کا سولہواں کانووکیشن 2025 | 1,750 طلبہ کو ڈگریاں، 63 کو میڈلز

صوبائی وزیر قانون رانا محمد اقبال خان کی صدارت

یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز (UVAS) لاہور کے سولہویں کانووکیشن کی پروقار تقریب گزشتہ روز منعقد ہوئی، جس کی صدارت صوبائی وزیر قانون رانا محمد اقبال خان نے کی۔

تقریب میں ممبر صوبائی اسمبلی مس شگفتہ فیصل، سیکریٹری لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب احمد عزیز تارڑ، وائس چانسلر ویٹرنری یونیورسٹی میرٹوریئس پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس (تمغۂ امتیاز)، سینڈیکیٹ ممبران، مختلف جامعات کے اساتذہ، پولٹری، ڈیری، فوڈ، میٹ اور فارماسیوٹیکل صنعت کے نمائندگان، اسٹیک ہولڈرز، طلبہ اور اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ڈگریوں اور میڈلز کی تقسیم

کانووکیشن میں مجموعی طور پر 1,750 گریجویٹ طلبہ کو ڈگریاں تفویض کی گئیں، جن میں:

357 ڈاکٹر آف ویٹرنری میڈیسن (DVM)

734 بی ایس (آنرز)

357 ڈاکٹر آف فارمیسی (Pharm-D)

66 بی بی اے (آنرز)

55 پی ایچ ڈی

436 ایم فل

شامل ہیں، جبکہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 63 طلبہ و طالبات کو میڈلز سے نوازا گیا۔

صوبائی وزیر قانون کا خطاب

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون رانا محمد اقبال خان نے ڈگریاں اور میڈلز حاصل کرنے والے طلبہ، ان کے والدین اور اساتذہ کو مبارکباد پیش کی اور طلبہ پر زور دیا کہ وہ محنت، لگن اور دیانتداری کے ساتھ ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ کامیاب طلبہ اپنے والدین اور یونیورسٹی کے لیے فخر اور ملک کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے والدین کی قربانیوں کو قابلِ تحسین قرار دیا اور کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں مویشی دنیا بھر میں اپنی اعلیٰ خصوصیات کی وجہ سے ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے نیلی راوی بھینس اور ساہیوال نسل کی گائے کو پاکستان کی عظیم نعمت قرار دیا۔

رانا محمد اقبال خان نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں ویٹرنری یونیورسٹی کی نمایاں ترقی اور کامیابیوں کو بھی سراہا۔

سیکریٹری لائیوسٹاک کا پیغام

سیکریٹری لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ پنجاب احمد عزیز تارڑ نے بھی طلبہ کو ڈگریاں مکمل کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ زندگی میں کامیابی کے لیے مسلسل محنت اور عزم ضروری ہے۔

وائس چانسلر کا تفصیلی خطاب

وائس چانسلر میرٹوریئس پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس نے اپنے خطاب میں یونیورسٹی کی تعلیمی، تحقیقی، کلینیکل، کمیونٹی اور ایکسٹینشن خدمات کے ساتھ ساتھ اس کی 143 سالہ تاریخی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے بتایا کہ ویٹرنری یونیورسٹی عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتی ہے:

QS ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ میں ویٹرنری سائنس کے مضمون میں 51–100

ٹائمز ہائر ایجوکیشن ایشیا رینکنگ میں 301–350

ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ میں 601–800

انٹرڈسپلنری سائنس رینکنگ 2026 میں پبلک سیکٹر میں پہلا، مجموعی طور پر چوتھا اور عالمی سطح پر 155 واں نمبر

انہوں نے بتایا کہ اس وقت یونیورسٹی میں 79 پروفیشنل ڈگری پروگرامز پڑھائے جا رہے ہیں، جن میں 19 انڈرگریجویٹ، 34 ایم فل اور 26 پی ایچ ڈی پروگرامز شامل ہیں، جبکہ پاکستان سمیت مختلف ممالک سے 11 ہزار سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

تحقیق، اسکالرشپس اور ترقیاتی منصوبے

ڈاکٹر محمد یونس کے مطابق یونیورسٹی نے رواں سال 1,946 ہونہار طلبہ کو 129.15 ملین روپے کی میرٹ اسکالرشپس فراہم کیں، جبکہ اساتذہ 411.367 ملین روپے سے زائد مالیت کے 52 تحقیقی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں فیکلٹی ممبران نے 600 سے زائد تحقیقی مقالات شائع کیے۔ یونیورسٹی کے نمایاں تحقیقی منصوبوں میں منہ کھر اور لمپی سکن ویکسین، پولٹری میں اینٹی بایوٹکس کے متبادل، ELISA کٹس، لائیوسٹاک ری پروڈکشن، فش ویلیو ایڈیشن اور چچڑوں سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانے کے منصوبے شامل ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی میں 3.589 ارب روپے مالیت کے پانچ ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں سے بعض کو حکومت پنجاب اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اسپانسر کیا ہے۔

ڈیجیٹلائزیشن اور طلبہ کے لیے پیغام

وائس چانسلر نے کہا کہ جدید تقاضوں کے مطابق یونیورسٹی کے کلینکس، لیبارٹریز اور انٹرن شپ مینجمنٹ سسٹم کو ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے تاکہ طلبہ اور کمیونٹی کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

آخر میں انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ نوکریاں تلاش کرنے کے بجائے نوکریاں دینے والے بنیں اور اپنے علم و ہنر کو ملک و قوم کی ترقی کے لیے بروئے کار لائیں۔