
اسلام آباد (18 دسمبر 2025):
لاہور ہائی کورٹ نے پولٹری کمپنیوں اور پولٹری ایسوسی ایشن کے خلاف ڈے اولڈ برائلر چکس کی مارکیٹنگ میں کارٹل بنانے اور قیمتوں میں گٹھ جوڑ کرنے پر کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (CCP) کی جانب سے عائد 15 کروڑ روپے جرمانے کے خلاف دائر درخواستوں پر کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔
روپے جرمانے کے خلاف دائر درخواستوں پر کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔
پولٹری سیریم فارمز (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور صابر پولٹری نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے کمپیٹیشن ٹربیونل کی کارروائی معطل کرنے کی استدعا کی تھی۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ جب تک لاہور ہائی کورٹ ان کی اپیلوں پر فیصلہ نہ کر دے، ٹربیونل کو کارروائی سے روکا جائے۔
عدالت نے درخواست گزاروں کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ وہ اپنی اپیلوں کے فیصلے تک کمپیٹیشن ٹربیونل کی کارروائی نہیں روک سکتی، لہٰذا درخواست نامنظور کی جاتی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ٹربیونل کو قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کا اختیار حاصل ہے۔
پولٹری سیریم فارمز نے اپنی درخواست میں کمپیٹیشن ایکٹ کے سیکشن 34 اور 53 کو کالعدم قرار دینے کی استدعا بھی کی تھی، جبکہ یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ کمپیٹیشن کمیشن نے ان دفعات کے تحت تحقیقات اور فیصلے میں اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ تاہم عدالت نے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کیا۔
درخواست گزاروں نے یہ بھی مؤقف اپنایا کہ کمیشن نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور دیگر اداروں سے حاصل کردہ شواہد کو بنیاد بنایا، جو ان کے مطابق غیر قانونی تھے، لیکن عدالت نے قرار دیا کہ یہ نکات اپیل کے مرحلے پر کمپیٹیشن ٹربیونل کے سامنے زیرِ بحث لائے جا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے اپریل 2025 میں ڈے اولڈ برائلر چکس کی قیمتوں میں گٹھ جوڑ ثابت ہونے پر پولٹری بیچرز اور پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن پر مجموعی طور پر 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ تحقیقات کے مطابق مختلف پولٹری گروپس — جن میں صادق پولٹری، بگ برڈ گروپ، بائیو ٹیک گروپ، اسلام آباد گروپ، اولمپیا گروپ، جدید گروپ اور سپریم فارمز شامل ہیں — نے کارٹل بنا کر قیمتوں کا تعین کیا، جو کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کی دفعہ 4 کی خلاف ورزی ہے۔