
فلاڈیلفیا، امریکہ (ستمبر 2025) – یونیورسٹی آف پینسلوینیا کے محققین نے ایک سنگِ میل تحقیق میں چھاتی کے کینسر کی واپسی کو روکنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے ان “سلیپر” خلیوں کو ختم کیا ہے جو برسوں سے مریضوں کے جسم میں خاموشی سے چھپے رہ کر بعد میں دوبارہ متحرک ہو کر خطرناک، پھیلنے والے کینسر میں بدل جاتے ہیں۔
دہائیوں سے یہ پوشیدہ خلیے ہڈیوں کے گودے میں ناقابلِ شناخت رہتے اور بعد میں دوبارہ زندہ ہو کر مریضوں کی جان کے لیے خطرہ بن جاتے تھے۔ اب سائنس دانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ان خلیوں کو نہ صرف پہچانا جا سکتا ہے بلکہ ایف ڈی اے سے منظور شدہ ادویات کے ذریعے ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔
مرحلہ دوم (Phase II) کے ایک وفاقی مالی اعانت یافتہ کلینیکل ٹرائل میں محققین نے بچ جانے والے مریضوں کا علاج ایسی دواؤں سے کیا جو آٹو فیجی (autophagy) اور mTOR سگنلنگ کو نشانہ بناتی ہیں۔ نتائج حیران کن تھے:
فیصد مریضوں میں یہ چھپے ہوئے خلیے مکمل طور پر ختم ہو گئے۔80
تین سال بعد، واپسی سے پاک بقا کی شرح 90 فیصد سے زیادہ رہی۔
جن مریضوں نے مشترکہ علاج حاصل کیا، ان میں یہ شرح 100 فیصد رہی۔
یونیورسٹی آف پینسلوینیا کی مرکزی محقق ڈاکٹر اینجلا ڈِی میشیلے کے مطابق:
“یہ نتائج پہلی حقیقی شہادت ہیں کہ چھپے ہوئے چھاتی کے کینسر کے خلیے محفوظ طریقے سے شناخت اور ختم کیے جا سکتے ہیں۔”
یہ تحقیق، جو نیچر میڈیسن میں شائع ہوئی ہے، بقا کے بعد کے علاج کا نقشہ بدل سکتی ہے۔ چونکہ تقریباً ہر تین میں سے ایک مریض میں کینسر دوبارہ لوٹ آتا ہے—کبھی کبھار ابتدائی علاج کے کئی دہائیوں بعد—یہ پیش رفت اس امکان کو جنم دیتی ہے کہ مستقبل میں مریضوں کو دوبارہ بیماری کے سائے میں جینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
مزید بڑے کلینیکل ٹرائل پہلے ہی شروع ہو چکے ہیں تاکہ ان نتائج کو مزید تصدیق کیا جا سکے اور انہیں معمول کے علاج کا حصہ بنایا جا سکے۔
بشکریہ ڈاکٹر توصیف احمد ریاست ھائے متحدہ امریکہ