سندھ میں ڈیری سیکٹر کا اختتام یا مارکیٹ کی حقیقت؟

تحریر: شاکر عمر گجر
مرکزی صدر، ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان
پاکستان کی معیشت اور غذائی تحفظ (Food Security) میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا ڈیری سیکٹر اس وقت ایک سنگین دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف دودھ کی پیداوار کی لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ دوسری طرف انتظامی اقدامات اور قیمتوں کی حد بندی نے ڈیری فارمرز کو شدید معاشی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ڈیری فارمرز کا مؤقف ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو ملک میں دودھ کی پیداوار اور سپلائی دونوں متاثر ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات براہ راست عوام اور غذائی تحفظ پر پڑیں گے۔
پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی لاگت
حالیہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ، چارہ، خوراک اور دیگر پیداواری اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ڈیری فارمرز کے مطابق یہ اضافہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پورے پیداواری نظام پر پڑتے ہیں، جس سے دودھ کی فی لیٹر لاگت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔
فارمرز کا کہنا ہے کہ جب حکومت معاشی دباؤ کی وجہ سے قیمتیں بڑھاتی ہے تو اسے مجبوری قرار دیا جاتا ہے، لیکن جب کسان اپنی لاگت کے مطابق قیمت مانگتے ہیں تو انہیں انتظامی دباؤ اور کارروائیوں کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حکومتی بیانات اور فارمرز کے تحفظات
گزشتہ دنوں سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید کے میڈیا بیانات کے بعد ڈیری فارمرز میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ فارمرز کا مؤقف ہے کہ مسائل کے حل کے لیے مکالمہ اور معاشی حقیقتوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
ڈیری فارمرز کا کہنا ہے کہ کسان ملک کے غذائی نظام کا اہم ستون ہیں اور ان کے مسائل کو انتظامی دباؤ کے بجائے باہمی مشاورت سے حل کیا جانا چاہیے۔
فی لیٹر 70 روپے تک نقصان
ڈیری سیکٹر سے وابستہ افراد کے مطابق اس وقت ایک لیٹر دودھ پیدا کرنے کی اوسط لاگت تقریباً 270 روپے تک پہنچ چکی ہے۔
پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ اور سپلائی کے اخراجات مزید بڑھ گئے ہیں، جبکہ مارکیٹ میں فارمرز کو تقریباً 200 روپے فی لیٹر قیمت پر دودھ فروخت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
فارمرز کے مطابق اس صورتحال میں انہیں فی لیٹر تقریباً 70 روپے تک کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، جو طویل مدت تک قابلِ برداشت نہیں۔
پرائس کیپنگ اور ممکنہ اثرات
ڈیری فارمرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں کی حد بندی (Price Capping) ڈیری سیکٹر کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق جب قیمتیں مصنوعی طور پر کم رکھی جاتی ہیں تو فارمرز کے لیے اپنے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اس کے نتیجے میں کئی فارمرز اپنے جانور فروخت کرنے یا ڈیری فارمنگ چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جس سے مستقبل میں دودھ اور گوشت کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈیری سیکٹر کے مسائل کا فوری نوٹس لیں اور فارمرز کے معاشی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کریں۔
ایسوسی ایشن نے درج ذیل قیمتوں کی تجویز پیش کی ہے:
- ایکس فارم گیٹ قیمت: 295 روپے فی لیٹر
- ریٹیل مارکیٹ قیمت: 320 روپے فی لیٹر
فارمرز کے مطابق اگر انہیں اپنی لاگت کے مطابق قیمت نہ ملی تو وہ دودھ کی سپلائی میں کمی یا دیگر سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جس سے مارکیٹ میں دودھ کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔