ایشیا اور پاکستان میں پیٹ فوڈ انڈسٹری کی ترقی: 2026 میں ممکنہ رجحانات

ایشیا اور پاکستان میں پیٹ فوڈ انڈسٹری کی ترقی: 2026 میں ممکنہ رجحانات

تحریر: ادارہ ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز  |  تاریخ: 11 مارچ 2026

ایشیا پیسیفک میں پالتو جانوروں کی دیکھ بھال کی مارکیٹ 2025 میں تقریباً 30 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اس میں پیٹ فوڈ کا حصہ تقریباً 20 ارب ڈالر بتایا جاتا ہے۔ مختلف عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق یہ خطہ 7 فیصد سے زائد سالانہ شرح نمو (CAGR) کے ساتھ دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی پیٹ کیئر مارکیٹ بن چکا ہے، جس میں تقریباً 65 فیصد حصہ پیٹ فوڈ سیکٹر کا ہے۔ ماہرین کے مطابق 2030 تک اس صنعت میں مسلسل ترقی متوقع ہے، اگرچہ کچھ مارکیٹوں میں رفتار قدرے معتدل ہو سکتی ہے۔

پالتو جانوروں کی خوراک کا تصور تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ 2026 میں پیٹ نیوٹریشن کے رجحانات Microbiome Testing اور Precision Nutrition کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے جانوروں کے ڈی این اے اور آنتوں کی صحت کا تجزیہ کر کے ان کے لیے مخصوص خوراک تیار کی جا رہی ہے۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی موبائل ایپلی کیشنز اب ایسے ڈیجیٹل ٹولز فراہم کر رہی ہیں جو پالتو جانوروں کی روزانہ سرگرمی، وزن اور صحت کے ڈیٹا کو مانیٹر کر کے ان کے لیے درکار کیلوریز اور غذائی اجزاء کی درست مقدار تجویز کرتی ہیں۔

ایشیا میں Gen Z اور Millennials نسل کے تقریباً 70 فیصد افراد اپنے پالتو جانوروں کو خاندان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ میں Affordable Premium یعنی مناسب قیمت میں بہتر معیار کی مصنوعات کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ صارفین اب ایسی خوراک کو ترجیح دیتے ہیں جو کیمیکلز سے پاک ہو، اجزاء کی واضح تفصیل (Clean Label) رکھتی ہو اور صحت کے مخصوص فوائد فراہم کرتی ہو۔ ماہرین کے مطابق premiumization کی بھی ایک حد ہوتی ہے، کیونکہ ہر صارف مہنگی مصنوعات خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اسی لیے درمیانی قیمت کی معیاری مصنوعات مارکیٹ میں زیادہ تیزی سے جگہ بنا رہی ہیں۔

ایشیا میں پیٹ کیئر کا بدلتا منظرنامہ

سنگاپور اور تھائی لینڈ جیسے ممالک میں پیٹ اسٹورز اب صرف دکانیں نہیں رہیں بلکہ وہاں پیٹ کیفے، سوئمنگ پولز اور فزیکل تھراپی سینٹرز بھی موجود ہیں۔ یہ لائف اسٹائل برانڈنگ ایشیا میں تیزی سے جڑیں پکڑ رہی ہے اور پیٹ انڈسٹری کو ایک نئی سمت دے رہی ہے۔

پاکستان میں پیٹ فوڈ انڈسٹری کا ابھرتا منظرنامہ

پاکستان میں پیٹ انڈسٹری ابھی ایشیا کے بڑے ممالک کے مقابلے میں ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم اس میں ترقی کے واضح امکانات موجود ہیں۔ TGM Global Pet Care Survey 2023 کے مطابق پاکستان میں تقریباً 48 فیصد گھرانوں میں کسی نہ کسی شکل میں پالتو جانور موجود ہیں۔ اسی سروے کے مطابق تقریباً 60 فیصد پیٹ مالکان کے پاس ایک سے زیادہ پالتو جانور ہیں جبکہ 16 فیصد مالکان گرومنگ سروسز استعمال کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ 85 فیصد صارفین پیٹ فوڈ خریدتے وقت معیار کو سب سے اہم عنصر قرار دیتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں پیٹ اونرشپ اب صرف شوق تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک ابھرتی ہوئی کنزیومر مارکیٹ کی شکل اختیار کر رہی ہے۔

پاکستان کی پیٹ فوڈ مارکیٹ اس وقت بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتی ہے۔ مختلف مارکیٹ تجزیوں کے مطابق تقریباً 90 فیصد پیٹ فوڈ بیرونِ ملک سے درآمد کیا جاتا ہے جبکہ صرف 10 فیصد خوراک مقامی سطح پر تیار ہوتی ہے۔ مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں پیٹ فوڈ کی درآمدات 2023 میں تقریباً 8.7 ملین کلوگرام تھیں اور اندازہ ہے کہ یہ مقدار 2028 تک 10.8 ملین کلوگرام تک پہنچ سکتی ہے۔ اسی تناظر میں 2024 میں حکومت نے کتے اور بلیوں کے پیٹ فوڈ کی درآمد پر 50 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی، جس کے بعد مقامی سطح پر پیٹ فوڈ مینوفیکچرنگ کے امکانات پر توجہ بڑھ رہی ہے۔

پاکستانی پیٹ فوڈ مارکیٹ میں Royal Canin سب سے نمایاں برانڈ

پاکستانی صارفین کی ترجیحات بھی دلچسپ رجحانات ظاہر کرتی ہیں۔ مارکیٹ سروے کے مطابق Royal Canin تقریباً 18.4 فیصد کے ساتھ نمایاں برانڈ کے طور پر سامنے آیا ہے جبکہ Reflex تقریباً 11 فیصد مارکیٹ شیئر رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گھریلو خوراک اور مقامی برانڈز بھی قابلِ ذکر حد تک استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ پاکستان میں ایک طرف پریمیم درآمدی برانڈز کے لیے مضبوط مارکیٹ موجود ہے جبکہ دوسری طرف گھریلو خوراک اور نسبتاً کم قیمت مصنوعات بھی بڑی صارف بنیاد رکھتی ہیں۔

دنیا کے معروف اینیمل ہیلتھ برانڈز میں سے ایک کمپنی پاکستانی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ کمپنی پالتو جانوروں کے لیے ویکسینیشن، نیوٹریشن، پیراسائٹ کنٹرول، اسکن کیئر اور پیٹ ہیلتھ مینجمنٹ سے متعلق اپنی ٹاپ مصنوعات کے ساتھ مارکیٹ میں داخل ہونے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

پاکستان میں پیٹ انڈسٹری کی زیادہ سرگرمیاں کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہری مراکز میں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہری علاقوں میں بڑھتی ہوئی مڈل کلاس، اپارٹمنٹ کلچر اور تنہائی کے بڑھتے رجحان کے باعث پالتو جانور رکھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ پیٹ اسٹورز، گرومنگ سینٹرز اور ویٹرنری کلینکس کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ کراچی اور لاہور میں متعدد جدید پیٹ کلینکس اور اسپتال قائم ہو چکے ہیں، جن میں 24 گھنٹے کام کرنے والے پیٹ اسپتال بھی شامل ہیں جو علاج، گرومنگ، ٹریننگ اور پیٹ فوڈ سپلائی جیسی خدمات فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان میں پیٹ فوڈ اور پیٹ کیئر مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ تحقیق کے مطابق پاکستان کی پیٹ کیئر مصنوعات کی مارکیٹ آئندہ برسوں میں 12 فیصد سے زیادہ سالانہ شرح نمو کے ساتھ بڑھ سکتی ہے۔

اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو آئندہ چند برسوں میں پاکستان کی پیٹ انڈسٹری نہ صرف مقامی معیشت میں حصہ ڈال سکتی ہے بلکہ علاقائی پیٹ فوڈ مارکیٹ کا ایک اہم حصہ بھی بن سکتی ہے۔

ایشیا میں پیٹ فوڈ انڈسٹری اب صرف ایک محدود صارفین کی مارکیٹ نہیں رہی بلکہ یہ صحت، ٹیکنالوجی، پریمیم مصنوعات اور لائف اسٹائل سے جڑی ایک تیزی سے بدلتی ہوئی صنعت بن چکی ہے۔ پاکستان میں اگرچہ یہ شعبہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، مگر شہری علاقوں میں بڑھتی ہوئی پیٹ اونرشپ، ویٹرنری سروسز کے پھیلاؤ اور پیٹ فوڈ کی بڑھتی ہوئی طلب اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان بھی اس عالمی صنعت کا ایک اہم حصہ بن سکتا ہے۔