
تحریر: ڈاکٹر شہزاد امین
پاکستان کا ڈیری سیکٹر ملکی معیشت اور غذائی نظام کا ایک اہم ستون ہے۔ تاہم حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اس شعبے کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف دودھ کی پیداوار بلکہ اس کی ترسیل، پروسیسنگ اور مارکیٹ تک رسائی کے پورے نظام کو متاثر کر رہی ہیں۔
دودھ کی سپلائی چین پر دباؤ
پاکستان میں دودھ کی سپلائی چین کا بڑا حصہ روزانہ کی بنیاد پر دیہی علاقوں سے شہری منڈیوں تک دودھ کی ترسیل پر مشتمل ہے۔ اس عمل میں ٹرانسپورٹ، کولڈ چین سسٹم اور پروسیسنگ یونٹس اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ایندھن مہنگا ہونے سے سب سے پہلے اثر دودھ کی نقل و حمل پر پڑتا ہے کیونکہ ہزاروں چھوٹے کسان دودھ کو مارکیٹ تک پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتے ہیں۔ جب ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو گاڑیوں کے کرائے اور لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کا بوجھ بالآخر پورے ڈیری نظام پر پڑتا ہے۔
کولڈ چین اور پروسیسنگ کی بڑھتی لاگت
ڈیری انڈسٹری میں کولڈ چین سسٹم انتہائی اہم ہے کیونکہ دودھ ایک جلد خراب ہونے والی غذائی شے ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے:
- دودھ کی کولڈ اسٹوریج لاگت بڑھ جاتی ہے
- پروسیسنگ یونٹس کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے
- سپلائی چین کے مختلف مراحل مہنگے ہو جاتے ہیں
نتیجتاً دودھ اور ڈیری مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
صارفین اور غذائی تحفظ پر اثرات
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں دودھ بنیادی غذائی ضروریات میں اہم مقام رکھتا ہے۔ اگر ڈیری مصنوعات کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں تو اس کے نتیجے میں:
- عام صارفین کے لیے دودھ خریدنا مشکل ہو سکتا ہے
- غذائی عدم تحفظ میں اضافہ ہو سکتا ہے
- غیر معیاری اور غیر محفوظ دودھ کی فروخت میں اضافہ ہو سکتا ہے
ماہرین کے مطابق غیر محفوظ دودھ صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں آلودگی، ملاوٹ اور جراثیمی مسائل کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
پالیسی اقدامات کی ضرورت
ڈیری سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جن میں شامل ہیں:
- ڈیری سپلائی چین کے لیے ٹرانسپورٹ اخراجات میں سہولت
- محفوظ دودھ کی پیداوار اور استعمال کے فروغ کے لیے اقدامات
- کسانوں کے لیے معاون پالیسیز
- کولڈ چین انفراسٹرکچر کی بہتری
اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ڈیری سیکٹر اور غذائی نظام دونوں کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
ڈیری سیکٹر کی اہمیت
پاکستان میں لاکھوں کسان اپنی روزی روٹی کے لیے ڈیری فارمنگ پر انحصار کرتے ہیں۔ اس شعبے کا استحکام نہ صرف دیہی معیشت بلکہ قومی غذائی سلامتی کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔ اس لیے پالیسی سازی میں ڈیری سیکٹر کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔