ملائیشیا کی پولٹری درآمدی منڈی اور پاکستان کے لیے ایکسپورٹ موقع
ملائیشیا کی 456 ملین ڈالر پولٹری درآمدی منڈی: پاکستان کے لیے بڑا موقع، مگر DVS/JAKIM منظوری بڑی رکاوٹ
ملائیشیا کی پولٹری درآمدی منڈی پاکستان کے لیے ایک اہم مگر اب تک پوری طرح استعمال نہ ہونے والا تجارتی موقع ہے۔ دستیاب تجارتی اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں ملائیشیا نے HS 0207 کے تحت پولٹری گوشت اور اس سے متعلق خوردنی مصنوعات کی تقریباً 456 ملین ڈالر کی درآمدات کیں، جو 2022 کے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ تھیں۔ اس منڈی میں تھائی لینڈ کا حصہ تقریباً 84 فیصد، چین کا 6.26 فیصد اور برازیل کا 3.7 فیصد رہا۔
پاکستان کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ملائیشیا میں پولٹری مصنوعات کی طلب موجود ہے یا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی پولٹری پراسیسنگ پلانٹس ملائیشیا کے محکمہ ویٹرنری سروسز، یعنی DVS، اور حلال اتھارٹی JAKIM کے مشترکہ معیار پر کب پورا اتریں گے۔ ملائیشیا کا درآمدی نظام صرف کم قیمت یا دستیاب سپلائی کو نہیں دیکھتا، بلکہ بیماریوں کے کنٹرول، حیاتی تحفظ (Biosecurity)، Residue Monitoring، Cold Chain، حلال ذبح اور پلانٹ وار منظوری (Plant-by-Plant Approval) کو بنیادی شرط سمجھتا ہے۔
پاکستان ملائیشیا کے محکمہ ویٹرنری سروسز کی فہرست میں موجود ہے، مگر پولٹری ابھی تک منظور نہیں۔
DVS Malaysia کی منظور شدہ غیر ملکی فیکٹریوں کی فہرست میں پاکستان شامل ہے، مگر پاکستان کے لیے اس وقت منظور شدہ مصنوعات میں پولٹری شامل نہیں۔ موجودہ منظوری زیادہ تر گائے اور بھینس کے گوشت، یعنی cattle and buffalo meat، اور جیلیٹن تک محدود ہے۔ اس فہرست میں Zenith Associates، Fauji Meat Limited اور Abedin International کے لیے “Frozen Deboned and Deglanded Meat (Cattle & Buffalo)” درج ہے، جبکہ Leiner Pak Gelatine کے لیے جیلیٹن منظور شدہ مصنوعات میں شامل ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کے لیے ملائیشیا کے ساتھ حلال اور ویٹرنری منظوری کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہے۔ پاکستان پہلے ہی سرخ گوشت اور جیلیٹن کے شعبے میں ملائیشیا کے نظام تک رسائی حاصل کر چکا ہے۔ تاہم پولٹری سیکٹر کے لیے الگ سطح کی تیاری درکار ہے، جس میں ہر پراسیسنگ پلانٹ کی الگ منظوری، حیاتی تحفظ کا آڈٹ، حلال ذبح کا معائنہ، بیماریوں کے خطرات کا جائزہ اور سرکاری سطح پر مکمل دستاویزی ثبوت شامل ہیں۔
ریڈ میٹ منظور، مگر پولٹری کیوں نہیں؟
ملائیشیا میں درآمد شدہ گوشت اور گوشت سے بنی مصنوعات، جن میں پولٹری بھی شامل ہے، صرف اس صورت میں قبول کی جاتی ہیں جب وہ تسلیم شدہ حلال سرٹیفکیشن ادارے سے تصدیق شدہ ہوں۔ JAKIM کے مطابق ایسے پلانٹس کے لیے JAKIM اور DVS دونوں کی جانچ اور منظوری ضروری ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں Malaysian Protocol for Halal Meat and Poultry Productions اور MS 1500:2009 کے معیار پر بھی پورا اترنا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تھائی لینڈ اس وقت ملائیشیا کی پولٹری درآمدی منڈی میں سب سے مضبوط سپلائر ہے۔ جغرافیائی قربت، کم لاجسٹک لاگت، مضبوط سرد زنجیر، منظور شدہ حلال ذبح کا نظام، بیماریوں کی نگرانی اور پلانٹ وار منظوری نے تھائی لینڈ کو ملائیشین خریداروں کے لیے ایک قابل اعتماد ذریعہ بنا دیا ہے۔ پاکستان اگر اس منڈی میں داخل ہونا چاہتا ہے تو اسے صرف قیمت پر مقابلہ نہیں کرنا ہوگا، بلکہ دستاویزی معیار، بیماریوں کے کنٹرول، حلال نظام اور برآمدی تیاری میں بھی مضبوط پوزیشن بنانی ہوگی۔
DVS/JAKIM منظوری، پاکستان کے لیے رکاوٹ کیوں؟
برازیل کا معاملہ بھی پاکستان کے لیے ایک اہم سبق ہے۔ 2025 میں ایویئن انفلوئنزا، یعنی برڈ فلو، کے پھیلاؤ کے بعد ملائیشیا نے برازیل سے مرغی کے گوشت کی درآمدات روک دی تھیں۔ بعد میں صورتحال بہتر ہونے پر اکتوبر 2025 میں برازیل سے درآمدات دوبارہ کھول دی گئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملائیشیا پولٹری تجارت میں بیماریوں کے خطرے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے اور کسی بھی ملک کو صرف بڑے ایکسپورٹر ہونے کی بنیاد پر رعایت نہیں دیتا۔
پاکستانی پولٹری صنعت کے لیے یہ موقع کئی حوالوں سے اہم ہے۔ اگر پاکستان کے چند بڑے اور جدید پولٹری پراسیسنگ پلانٹس کو DVS/JAKIM آڈٹ کے لیے تیار کیا جائے تو پاکستان حلال پولٹری، frozen chicken cuts، boneless products اور value-added poultry products کے ذریعے ملائیشیا اور بعد ازاں ASEAN منڈی میں قدم رکھ سکتا ہے۔ اس کے لیے صنعت، وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ، TDAP، صوبائی لائیو اسٹاک محکموں، حلال سرٹیفکیشن اداروں اور کمرشل ایکسپورٹرز کو مل کر ایک جامع export-readiness program شروع کرنا ہوگا۔
ملائیشیا پاکستان کے پولٹری سیکٹر کے لیے صرف ایک درآمدی منڈی نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی معیار کی آزمائش بھی ہے۔ اگر پاکستانی پولٹری پلانٹس DVS اور JAKIM کی منظوری حاصل کر لیتے ہیں تو یہ صرف ملائیشیا تک رسائی نہیں ہوگی، بلکہ عالمی حلال پولٹری تجارت میں پاکستان کی ساکھ کو بھی مضبوط کرے گی۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اپنے پولٹری پراسیسنگ پلانٹس کو بین الاقوامی آڈٹ کے لیے تیار کرے، بیماریوں کی نگرانی کا سرکاری ریکارڈ مضبوط بنائے، ادویاتی باقیات کی جانچ کو برآمدی معیار تک لے جائے، اور حکومت سے حکومت کی سطح پر DVS/JAKIM کے مشترکہ معائنہ مشن کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔
قریب ترین حلال مارکیٹ، پاکستان رسائی سے محروم کیوں؟
https://vetnewsandviews.com/en/uvas-lahore-faculty-jobs-2026
https://vetnewsandviews.com/en/uvas-lahore-faculty-jobs-2026/