
مصنف: ڈاکٹر مسعود صادق چوہدری (سینئر وائس چیئرمین، پاکستان ویٹرنری فارماسیوٹیکلز ایسوسی ایشن)
پاکستان کا لائیوسٹاک سیکٹر ہماری معیشت، غذائی تحفظ اور دیہی روزگار کا اہم ستون ہے۔ اس شعبے کی کامیابی کا انحصار صرف اچھی فارمنگ پر نہیں بلکہ ایک ایسے ریگولیٹری نظام پر بھی ہے جو سائنسی، شفاف، قابلِ عمل اور وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔
بطور ویٹرنری پروفیشنل اور پاکستان ویٹرنری فارماسیوٹیکلز ایسوسی ایشن کے سنئير وائس چئيرمين، میرا مقصد کسی ادارے پر تنقید کرنا نہیں بلکہ ایک ایسے موضوع پر گفتگو شروع کرنا ہے جس پر اب سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) نے ویٹرنری ادویات کی رجسٹریشن اور نگرانی کے لیے ایک قانونی نظام قائم کیا ہوا ہے، جس نے اس شعبے میں معیار، حفاظت اور ضابطہ سازی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔
لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں ویٹرنری فارماسوٹیکل انڈسٹری بہت بدل چکی ہے۔ آج مارکیٹ صرف اینٹی بایوٹکس یا روایتی ادویات تک محدود نہیں رہی۔ آج ہمارے پاس ویکسینز ہیں، بایولوجیکلز ہیں، پروبائیوٹکس ہیں، غذائی سپلیمنٹس ہیں، نیوٹراسیوٹیکلز ہیں، بائیو سکیورٹی مصنوعات ہیں، ڈس انفیکٹنٹس ہیں اور متعدد ایسی مصنوعات ہیں جن کا مقصد علاج نہیں بلکہ بیماری کی روک تھام، قوتِ مدافعت میں اضافہ، پیداواری صلاحیت اور غذائی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ نظام کو مزید ارتقا کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ میرے خیال میں مسئلہ قانون کی موجودگی یا عدم موجودگی نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مختلف نوعیت کی ویٹرنری مصنوعات کے لیے واضح، الگ اور سائنسی ریگولیٹری راستے پوری وضاحت سے سامنے نہیں آتے۔
مثال کے طور پر ایک اینٹی بایوٹک، ایک ویکسین، ایک پروبائیوٹک اور ایک فارم ڈس انفیکٹنٹ، چاروں کی تیاری، استعمال، خطرات اور جانچ کا طریقہ مختلف ہے۔ اس کے باوجود اگر ان سب کو تقریباً ایک ہی انتظامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو انڈسٹری اور ریگولیٹر دونوں کے لیے غیر ضروری پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
اسی طرح کئی بین الاقوامی کمپنیاں اپنی مصنوعات اپنے ممالک میں فيڈ، فوڈ يا وٹيرنری نيوٹريشنل ريگوليشنز کے تحت تیار کرتی ہیں۔ ایسے میں اگر ان سے وہ دستاویزات طلب کی جائیں جو ان کے اپنے قانونی نظام میں موجود ہی نہیں، تو رجسٹریشن کا عمل مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ مسئلہ کسی ادارے یا کمپنی کی نیت کا نہیں بلکہ مختلف ریگولیٹری نظاموں کے درمیان فرق کا ہے۔
میری رائے میں پاکستان اب اس مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں ہمیں ویٹرنری مصنوعات کے لیے ایک جدید, سائنسی اور خطرے پر مبنی (Risk-Based) ریگولیٹری ماڈل کی طرف بڑھنا چاہیے۔ اس میں سب سے پہلے مصنوعات کی واضح درجہ بندی ہونی چاہیے۔
مثلاً
- علاجی ادویات
- ویکسینز اور بایولوجیکلز
- غذائی سپلیمنٹس
- نیوٹراسیوٹیکلز
- فیڈ ایڈیٹوز
- پروبائیوٹکس
- ڈس انفیکٹنٹس
- بائیو سکیورٹی مصنوعات
جب ہر زمرے کی اپنی سائنسی شناخت ہوگی تو اس کے مطابق رجسٹریشن، تکنیکی تقاضے اور جائزہ لینا بھی آسان ہو جائے گا۔ اس سے نہ صرف وٹيرنری فارماسوٹیکل انڈسٹری کو سہولت ملے گی بلکہ ریگولیٹر کا کام بھی زیادہ مؤثر اور شفاف ہوگا۔
میری تجويز ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ڈرگ ريگوليٹری اتھارٹی آف پاکستان، وزارتِ قومی غذائی تحفظ، پاکستان وٹيرنری فارماسوٹيکلز ايسوسی ايشن، پاکستان پولٹری ايسوسی ايشن، ویٹرنری جامعات، پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل، اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز مل کر ایک نيشنل وٹيرنری ريگوليٹری ريفارم ورککنگ گروپ تشکیل دیں۔ اس کا مقصد قوانین پر تنقید نہیں بلکہ ان کا جائزہ لے کر انہیں مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانا ہونا چاہیے۔ دنیا کے کامیاب ریگولیٹری نظام وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور یہی ان کی طاقت ہوتی ہے۔
ہم سب کا مقصد ایک ہی ہے محفوظ ویٹرنری مصنوعات، صحت مند جانور، محفوظ خوراک، مضبوط مقامی صنعت، بین الاقوامی معیار کی برآمدات اور ایک ایسا ریگولیٹری نظام جس پر انڈسٹری بھی اعتماد کرے اور عوام بھی۔
میرا یقین ہے کہ پاکستان کے پاس قابل ماہرین بھی موجود ہیں، مضبوط ادارے بھی، اور ایسی انڈسٹری بھی جو مثبت اصلاحات میں حکومت کا بھرپور ساتھ دینے کے لیے تیار ہے۔ اصلاحات کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ نظام ناکام ہے۔ اصلاحات کا مطلب یہ ہے کہ ایک اچھے نظام کو آنے والے دس یا بیس سال کی ضروریات کے مطابق مزید بہتر بنایا جائے۔ یہی ایک مضبوط اور بالغ ریگولیٹری نظام کی پہچان ہے۔