
پاکستان کی ویٹرنری فارماسیوٹیکل انڈسٹری اس وقت ایک ایسے بنیادی ریگولیٹری خلا کا سامنا کر رہی ہے جسے مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بظاہر تمام ویٹرنری ادويات کو ڈرگ گريڈ ( بطور علاج) کے تحت ریگولیٹ کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے لیے نہ تو ایک وقف ويٹرنری ريگوليٹری فريم ورک موجود ہے، نہ غیر معالج وٹيرنری ادويات يا سپورٹيو تھراپی کے لیے الگ منظوری کا نظام، نہ مختلف انواع کے جانوروں کے مطابق سائنسی رہنما اصول، اور نہ ہی رجسٹریشن کے لیے واضح قانونی ٹائم لائنز۔
یہ صرف ایک انتظامی کمی نہیں بلکہ ایک ایسا پالیسی خلا ہے جو ویٹرنری انڈسٹری، سرمایہ کاری، جدت اور برآمدات، سب کو متاثر کر رہا ہے۔
آج ویٹرنری انڈسٹری صرف ادویات تک محدود نہیں رہی۔ جدید دنیا نيوٹریشنل سپليمنٹ، پروبايوٹيک پريبوٹيک، وٹامنز ، اليکٹرولائيٹس ، ہربل ادويات اور دیگر غیر معالج وٹيرنری ادويات يا سپورٹيو تھراپی کی طرف بڑھ چکی ہے۔ افسوس کہ ہمارے موجودہ ریگولیٹری ڈھانچے میں ان مصنوعات کے لیے الگ قانونی راستہ موجود نہیں، جس کے باعث ہر نئی پروڈکٹ کو ڈرگ گريڈ ( بطور علاج ) ادویات کے قوانین کے تحت پرکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سے غیر ضروری تاخیر، ابہام اور کاروباری غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ مختلف جانوروں کی حیاتیاتی ضروریات، میٹابولزم، ريزڈیول ليمٹس، ود ڈرال پريڈ اور استعمال کے مقاصد ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود مختلف انواع کے جانوروں کے مطابق گائيڈ لائينز کی عدم موجودگی ہر درخواست کو تشریح اور ذاتی رائے کا معاملہ بنا دیتی ہے، جبکہ جدید ریگولیٹری نظام سائنسی اصولوں اور واضح رہنما خطوط پر استوار ہوتے ہیں۔
اسی طرح اپرول ٹائم لائینز کا نہ ہونا سرمایہ کاروں اور ویٹرنری انڈسٹری کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب کسی کمپنی کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اس کی درخواست ایک ماہ، چھ ماہ یا ایک سال میں منظور ہوگی، تو طویل المدتی سرمایہ کاری، تحقیق اور نئی مصنوعات کی تیاری شدید متاثر ہوتی ہے۔ ویٹرنری انڈسٹری کو صرف اجازت نہیں چاہیے، بلکہ ایک ایسا نظام چاہیے جو شفاف، قابلِ پیش گوئی اور یکساں ہو۔
اصل مسئلہ صرف ایک الگ ویٹرنری قانون کا نہ ہونا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان میں ویٹرنری شعبے کو ابھی تک انسانی ادویات کے ذیلی حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اسے ایک آزاد، سائنسی اور اسٹریٹجک سیکٹر کے طور پر ریگولیٹ کرتے ہیں۔
پاکستان ویٹرنری فارماسیوٹیکلز ایسوسی ایشن (PVPA) کا مؤقف واضح ہے کہ اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان ایک جامع، جدید اور وقف ويٹرنری ريگوليٹری فريم ورک رولز تشکیل دے، جس میں درج ذیل اقدامات شامل ہوں
- ویٹرنری مصنوعات کی واضح قانونی درجہ بندی کی جائے۔ ڈرگ گريڈ ( بطور علاج) اور غیر معالج وٹيرنری ادويات يا سپورٹيو تھراپی کے لیے الگ ریگولیٹری راستے متعین کیے جائیں۔
- مختلف انواع کے جانوروں کے مطابق گائيڈ لائينز مرتب کی جائیں۔
- رجسٹریشن اور تجدید کے لیے قانونی اپرول ٹائم لائینز مقرر کی جائیں۔
- رسک بيسڈ ايولوایشن سسٹم نافذ کیا جائے تاکہ کم خطرے والی مصنوعات کی منظوری تیز رفتار اور مؤثر انداز میں ہو۔
- مکمل طور پر شفاف، ڈیجیٹل اور قابلِ پیش گوئی ریگولیٹری نظام قائم کیا جائے۔
یہ مطالبہ صرف ویٹرنری انڈسٹری کے مفاد کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے لائیوسٹاک سیکٹر، پولٹری انڈسٹری، ڈیری فارمنگ، غذائی تحفظ، اینٹی مائیکروبیل مزاحمت کے مؤثر کنٹرول، برآمدات کے فروغ اور قومی معیشت کی بہتری کے لیے ناگزیر ہے۔
اگر پاکستان واقعی ویٹرنری فارماسیوٹیکل سیکٹر کو علاقائی اور عالمی سطح پر مسابقتی بنانا چاہتا ہے، تو محض معمولی اصلاحات کافی نہیں ہوں گی۔ ہمیں ایک ایسا جدید ریگولیٹری نظام تشکیل دینا ہوگا جو سائنس، شفافیت، رفتار اور پیش گوئی کے اصولوں پر مبنی ہو۔ یہی پاکستان کی ویٹرنری انڈسٹری کے روشن مستقبل کی بنیاد ثابت ہوگا۔