
پاکستان میں خوردنی تیل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اب بھی زیادہ تر انحصار درآمدات پر کیا جا رہا ہے۔ وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ حکومت پاکستان کے مطابق ملک اپنی خوردنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 80 سے 85 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے جبکہ مقامی پیداوار صرف 15 سے 20 فیصد ضرورت پوری کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان ہر سال خوردنی تیل کی درآمد پر تقریباً 3 سے 4 ارب امریکی ڈالر خرچ کرتا ہے۔ خوردنی تیل ملک کی بڑی فوڈ امپورٹس میں شامل ہے اور پیٹرولیم مصنوعات اور مشینری کے بعد اہم درآمدی کموڈٹی سمجھی جاتی ہے۔
وزارت کے مطابق پاکستان میں تیل دار فصلوں کے لیے موزوں موسمی اور زرعی حالات موجود ہیں تاہم ملک کے کل زیر کاشت رقبے میں تیل دار اجناس کا حصہ 3 فیصد سے بھی کم ہے۔ دوسری جانب ملک میں فی کس خوردنی تیل کے استعمال میں گزشتہ دہائیوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے جو 1980ء میں تقریباً 7 کلوگرام تھا اور اب بڑھ کر 22 کلوگرام تک پہنچ چکا ہے۔
پاکستان میں اہم تیل دار فصلوں میں کینولا، ریپ سیڈ، سرسوں، سورج مکھی، تل، مونگ پھلی، کاٹن سیڈ، سویابین اور السی شامل ہیں۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں مختلف تیل دار اجناس کی کاشت کے امکانات موجود ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تیل دار اجناس کی پیداوار بڑھانے سے نہ صرف درآمدی بل کم کیا جا سکتا ہے بلکہ پولٹری، ڈیری اور لائیو اسٹاک سیکٹر کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے کیونکہ آئل سیڈ میل پولٹری اور مویشیوں کے لیے پروٹین کا اہم ذریعہ ہے۔ زیادہ مقامی پیداوار سے فیڈ انڈسٹری کو بہتر خام مال دستیاب ہو سکتا ہے اور کسانوں کی آمدن میں بھی اضافہ ممکن ہے۔
اس شعبے کو درپیش بڑے چیلنجز میں گندم اور دیگر ربیع فصلوں سے مقابلہ، معیاری بیج کی محدود دستیابی، موسمیاتی تبدیلی، مشینی کاشت کی کمی، کمزور مارکیٹ لنکیجز، قیمتوں کا غیر یقینی نظام اور پروسیسنگ انفراسٹرکچر کی کمی شامل ہیں۔
تحقیق و جدت کے حوالے سے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد نے کینولا کی بہتر اقسام اور ہائبرڈز پر کام کیا ہے جن میں صندل کینولا، سپر کینولا اور ایری کینولا شامل ہیں۔ ان اقسام میں مختصر دورانیہ، بہتر شیلنگ ٹولرنس، زیادہ اومیگا 3 اور کسانوں کے لیے بہتر قبولیت جیسے پہلو نمایاں ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو خوردنی تیل کی درآمدات کم کرنے کے لیے کینولا اور سورج مکھی کی کاشت میں اضافہ، تل اور سویابین کی کمرشل پروڈکشن، زیتون کے شعبے کی ترقی، میکانائزیشن، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس اور کلائمیٹ سمارٹ آئل سیڈ پروڈکشن سسٹمز پر توجہ دینا ہوگی۔
پاکستان میں تیل دار اجناس کی مقامی پیداوار بڑھانا صرف خوردنی تیل کی درآمدات کم کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ پولٹری فیڈ، لائیو اسٹاک نیوٹریشن، کسانوں کی آمدن اور قومی غذائی تحفظ سے بھی براہ راست جڑا ہوا ہے۔ زیادہ آئل سیڈ پروڈکشن کا مطلب ہے کم درآمدی دباؤ، بہتر فیڈ وسائل اور زرعی معیشت کے لیے نئی ترقی کے مواقع۔