
تحریر ڈاکٹر خنساء خاکوانی (ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد)
پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت ملک کی معیشت کا اہم ستون ہے۔ اس صنعت میں خام کپاس سے لے کر مصنوعی فائبر اور تیار شدہ فیشن مصنوعات تک ایک مکمل ویلیو چین موجود ہے، مگر اس وقت پاکستان خام مال کے شدید بحران کا سامنا کر رہا ہے۔
سال 2024 تا 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کپاس کی ملکی کھپت 10.5 سے 11.5 ملین گانٹھوں تک ہے، جبکہ مقامی پیداوار صرف 5.52 ملین گانٹھوں تک محدود رہی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ملک کو ہر سال 5 سے 6 ملین گانٹھیں درآمد کرنا پڑتی ہیں، جس پر تقریباً 3.13 ارب ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ خرچ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق کپاس کے بحران میں موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا سبب ہے۔ پنجاب میں 1991 کے بعد سے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں 2.1 ڈگری سینٹی گریڈ اور کم سے کم درجہ حرارت میں 2.3 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق اوسط درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری اضافے سے کپاس کی پیداوار تقریباً 7 فیصد کم ہو سکتی ہے۔
رات کے وقت درجہ حرارت میں اضافہ کپاس کے پودے کے لیے خاص طور پر نقصان دہ ہے۔ اس سے پودے کی توانائی کا استعمال بڑھ جاتا ہے اور ٹینڈوں کی بہتر نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید گرمی کے دوران پودے کمزور رہ جاتے ہیں، ٹینڈے چھوٹے بنتے ہیں اور پیداوار میں واضح کمی آتی ہے۔
مضمون میں موجودہ ٹرپل جین اقسام پر بھی اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان اقسام میں CaMV 35S Promoter استعمال کیا جاتا ہے، جو پودے کے اندر Bt اور Glyphosate Tolerant پروٹینز کی مسلسل تیاری کو متحرک رکھتا ہے۔ اس کے برعکس عام نان بی ٹی پودے اپنی حیاتیاتی ضرورت کے مطابق پروٹین بناتے ہیں۔
مسلسل پروٹین بنانے کا یہ عمل پودے پر اضافی حیاتیاتی بوجھ ڈالتا ہے۔ مضمون میں اسے میٹابولک ڈبل ٹیکس قرار دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں پودا جڑوں کی مضبوطی، ابتدائی بڑھوتری اور بہتر اگاؤ پر مطلوبہ توانائی خرچ نہیں کر پاتا۔ اس وجہ سے کمزور نشوونما، خراب اگاؤ اور کم پیداوار جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔
شدید گرمی میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ جب درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا جاتا ہے تو پودا اپنی بقا کے لیے حفاظتی پروٹینز بناتا ہے، مگر وائرل پروموٹر اسے بدستور Bt اور GT پروٹینز بنانے پر مجبور رکھتا ہے۔ مضمون کے مطابق اس صورتحال سے پودے کی نشوونما رک جاتی ہے، ٹینڈے کمزور رہ جاتے ہیں اور لال پتی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
ٹیکساس ٹیک یونیورسٹی کے پروفیسر ہانگ ژینگ کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے مضمون میں بتایا گیا ہے کہ AVP1 اور OsSIZ1 جیسے جینز پودے کی جڑوں کو زیادہ گہرا اور مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ طریقہ پودے پر اضافی توانائی کا بوجھ ڈالنے کے بجائے اسے موسمی دباؤ کے مقابلے کے لیے بہتر بناتا ہے۔
تحقیق کے مطابق اگر ان جینز کو RD29A جیسے اسمارٹ پروموٹر کے ساتھ استعمال کیا جائے تو پودا عام حالات میں اپنی توانائی بچاتا ہے اور صرف سخت گرمی یا خشکی کی صورت میں اپنا حفاظتی نظام فعال کرتا ہے۔ ایسی ٹیکنالوجی پاکستان کے مقامی موسمی حالات کے لیے زیادہ موزوں ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ طریقہ پاکستان کے انڈس بیسن کے دو بڑے زرعی مسائل کے حل میں مدد دے سکتا ہے۔ ان میں گندم میں زمین کی نمکیات برداشت کرنے کی صلاحیت اور کپاس میں شدید گرمی کے دوران ٹینڈوں کے گرنے کا مسئلہ شامل ہے۔ مضمون کے مطابق پاکستان کو ایسی مقامی اور موسمیاتی مزاحمت رکھنے والی بائیو ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے جو یہاں کی مٹی، گرمی، خشکی اور بیماریوں کے دباؤ کے مطابق تیار کی گئی ہو۔
معاشی لحاظ سے بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ پاکستان کی اوسط lint yield تقریباً 593 کلوگرام فی ہیکٹر ہے، جبکہ ترکی، جو نان بی ٹی کپاس پیدا کرنے والا ملک ہے، 1873 کلوگرام فی ہیکٹر تک پیداوار حاصل کر رہا ہے۔ پاکستان ماضی میں 1991 تا 1992 کے دوران نان بی ٹی اقسام کے ساتھ تقریباً 23 سے 25 من فی ایکڑ پیداوار حاصل کر چکا ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی ٹی ٹیکنالوجی زیادہ پیداوار کی ضمانت نہیں، خاص طور پر جب اسے مقامی ماحول کے مطابق نہ ڈھالا جائے۔ کسانوں کے اخراجات بھی بڑھ چکے ہیں۔ ترکی کے کسان targeted pest management پر تقریباً 30 سے 45 ڈالر فی ایکڑ خرچ کرتے ہیں، جبکہ پاکستانی کسان resistant pests سے نمٹنے کے لیے ایک سیزن میں 8 سے 12 اسپرے کرتے ہیں، جن پر 65 سے 90 ڈالر فی ایکڑ تک خرچ آتا ہے۔
اس صورتحال میں پاکستانی کسان زیادہ سرمایہ لگا کر بھی کم پیداوار حاصل کر رہے ہیں۔ کپاس کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ درآمدی ٹیکنالوجی پر مکمل انحصار کم کیا جائے اور ملکی تحقیق، مقامی بائیو ٹیکنالوجی اور public research institutes کی قیادت کو مضبوط کیا جائے۔
مضمون کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ ٹیکنالوجی خود مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ اس کا غلط انتخاب اور غلط استعمال ہے۔ پاکستان کو کپاس کی ایسی اقسام تیار کرنا ہوں گی جو مقامی مٹی، ماحول، گرمی، خشکی اور بیماریوں کے دباؤ کو برداشت کر سکیں۔
اگر پاکستان اپنی کپاس کی پیداوار بحال کر لے تو ٹیکسٹائل صنعت کو مقامی خام مال دستیاب ہوگا، کسان کی آمدن بہتر ہوگی اور اربوں ڈالر کے درآمدی بل میں بھی کمی آئے گی۔
کپاس پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے۔ ٹیکسٹائل صنعت ملک کا سب سے بڑا صنعتی شعبہ، روزگار کا اہم ذریعہ اور زرمبادلہ کمانے والا بڑا سیکٹر ہے۔ اس لیے کپاس کی مقامی پیداوار، موسمیاتی مزاحمت رکھنے والی اقسام اور indigenous biotechnology پاکستان کی معاشی بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔