لائیو اسٹاک اکانومی | پاکستان اکنامک سروے 2025-26

لائیو اسٹاک اکانومی | پاکستان اکنامک سروے 2025-26

اسلام آباد: پاکستان کا لائیو اسٹاک شعبہ مالی سال 2025-26 میں 3.75 فیصد ترقی کے ساتھ زراعت کا سب سے اہم اور مضبوط حصہ برقرار رہا۔ پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق لائیو اسٹاک ملکی غذائی تحفظ، دیہی آمدنی، روزگار، دودھ، گوشت، پولٹری اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

3.75% مالی سال 2025-26 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو
62.4% زراعت کی ویلیو ایڈیشن میں لائیو اسٹاک کا حصہ
14.6% قومی GDP میں لائیو اسٹاک کا حصہ
74.69 ملین ٹن دودھ کی مجموعی پیداوار
6.31 ملین ٹن گوشت کی مجموعی پیداوار
2.83 ملین ٹن پولٹری گوشت کی پیداوار

رپورٹ کے مطابق لائیو اسٹاک کا زراعت کی ویلیو ایڈیشن میں حصہ 62.4 فیصد جبکہ قومی مجموعی پیداوار یعنی GDP میں حصہ 14.6 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی زرعی معیشت میں لائیو اسٹاک کا کردار مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔

دیہی خاندانوں کے لیے آمدنی کا بڑا ذریعہ

لائیو اسٹاک پاکستان کے دیہی علاقوں میں لاکھوں خاندانوں کے لیے آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ جانور پالنا، دودھ کی پیداوار، گوشت کی فراہمی، پولٹری فارمنگ، فیڈ، ویٹرنری سروسز اور پراسیسنگ جیسے شعبے دیہی معیشت کو سال بھر متحرک رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق لائیو اسٹاک کی یہی مستقل نوعیت اسے پاکستان کی rural economy کا مضبوط ستون بناتی ہے۔ خاص طور پر چھوٹے کسان، ڈیری فارمرز، پولٹری فارمرز، بیف اور مٹن پروڈیوسرز اس شعبے سے براہ راست وابستہ ہیں۔

دودھ کی پیداوار میں نمایاں اضافہ

پاکستان دنیا کے بڑے دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اکنامک سروے کے مطابق مالی سال 2025-26 میں دودھ کی مجموعی پیداوار 72.34 ملین ٹن سے بڑھ کر 74.69 ملین ٹن ہوگئی، جبکہ انسانی استعمال کے لیے دستیاب دودھ 58.30 ملین ٹن سے بڑھ کر 60.19 ملین ٹن تک پہنچ گیا۔

دودھ کی پیداوار میں اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ڈیری سیکٹر میں بہتر نسل، خوراک، ویٹرنری سہولیات اور commercial dairy farming کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ تاہم پیداوار کے ساتھ ساتھ دودھ کی quality، cold chain، testing اور value addition پر بھی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

گوشت کی پیداوار 6.31 ملین ٹن تک پہنچ گئی

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گوشت کی مجموعی پیداوار 5.97 ملین ٹن سے بڑھ کر 6.31 ملین ٹن ہوگئی۔ اس اضافے میں پولٹری گوشت کا اہم کردار رہا، جو 2.58 ملین ٹن سے بڑھ کر 2.83 ملین ٹن تک پہنچ گیا۔

پولٹری سیکٹر پاکستان میں animal protein کا نسبتاً سستا ذریعہ فراہم کرتا ہے اور لائیو اسٹاک کے اندر ایک منظم اور تجارتی طور پر فعال شعبہ بن چکا ہے۔ گوشت کی بڑھتی ہوئی پیداوار مقامی غذائی ضروریات کے ساتھ ساتھ برآمدی مواقع کے لیے بھی اہم ہے۔

حلال گوشت کی برآمدات کے لیے بڑا موقع

اہم نکتہ: پاکستان کے لیے صرف پیداوار بڑھانا کافی نہیں۔ عالمی منڈی میں بہتر مقام حاصل کرنے کے لیے traceability، disease control، cold chain، certification اور international sanitary standards پر مضبوط عمل درآمد ضروری ہے۔

پاکستان کے لیے حلال گوشت کی عالمی مارکیٹ میں نمایاں مواقع موجود ہیں۔ خلیجی ممالک، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور دیگر خطوں میں حلال فوڈ مصنوعات کی demand مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اگر پاکستان modern slaughterhouses، traceability system، disease control، cold chain اور international sanitary and phytosanitary standards پر بہتر عمل درآمد یقینی بنائے تو meat exports میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

عالمی مارکیٹ میں اعتماد حاصل کرنے کے لیے animal health certification، farm-to-fork traceability، disease-free zones، residue control اور processing standards کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔

حکومتی اقدامات اور نجی شعبے کا کردار

رپورٹ کے مطابق حکومت بیماریوں کی نگرانی، ویکسینیشن، بریڈنگ پروگرامز، ویٹرنری سروسز اور بہتر نسلوں کے فروغ پر کام کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ high-yielding dairy، beef اور mutton breeds کے علاوہ genetic material جیسے sexed semen، ova اور embryos کی درآمد کو بھی سہولت دی جا رہی ہے تاکہ productivity بہتر ہو سکے۔

نجی شعبے کی سرمایہ کاری بھی dairy farms، feed production، poultry operations اور livestock processing facilities میں بڑھ رہی ہے۔ یہ سرمایہ کاری supply chain کو مضبوط بنانے، productivity بہتر کرنے اور commercial livestock farming کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

زرعی قرضوں میں اضافہ

پاکستان اکنامک سروے کے مطابق مالیاتی اداروں کی جانب سے مالی سال 2025-26 کے دوران زرعی قرضوں کی تقسیم 3.062 ٹریلین روپے تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ حجم 2.577 ٹریلین روپے تھا۔ زرعی قرضوں تک بہتر رسائی livestock producers، farmers اور value chain businesses کے لیے اہم سہارا ثابت ہو سکتی ہے۔

VNV Insight

The Veterinary News & Views کے مطابق پاکستان کا لائیو اسٹاک سیکٹر اب صرف روایتی جانور پالنے کا شعبہ نہیں رہا بلکہ یہ food security، rural income، dairy value addition، poultry production، meat exports اور veterinary services کا مکمل economic ecosystem بن چکا ہے۔

آنے والے برسوں میں پاکستان کے لیے اصل چیلنج production نہیں بلکہ quality، traceability، disease control، value addition اور export compliance ہوگا۔ اگر حکومت، نجی شعبہ، ویٹرنری ادارے، processors اور exporters مل کر کام کریں تو پاکستان حلال meat، dairy products اور livestock-based value-added exports میں بہتر مقام حاصل کر سکتا ہے۔

Report compiled for The Veterinary News & Views from official economic survey data and INP-WealthPk report.

جواب دیں