یو وی اے ایس کو مالی سال 2026-27 میں 70 کروڑ 95 لاکھ روپے کے بجٹ خسارے کا سامنا

لاہور، 30 جولائی 2026: یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور کو مالی سال 2026-27 کے دوران تقریباً 70 کروڑ 95 لاکھ روپے کے بجٹ خسارے کا سامنا ہوگا، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے وسائل سے آمدن بڑھانے، تحقیقی و تشخیصی خدمات میں توسیع، منہ کھر بیماری کی ویکسین کی تیاری، مختلف پیداواری یونٹس کی آؤٹ سورسنگ اور سولرائزیشن کے ذریعے خسارہ کم کرنے کی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔

یہ مالی تفصیلات یو وی اے ایس کے سینڈیکیٹ کے 79ویں اجلاس میں پیش کی گئیں، جس میں مالی سال 2026-27 کے لیے 4 ارب 87 کروڑ روپے کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود ربانی نے کی۔

اجلاس میں بجٹ پیش کرتے ہوئے خزانچی محمد عمر نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران یونیورسٹی کو مختلف ذرائع سے 3 ارب 24 کروڑ 30 لاکھ روپے کی غیر ترقیاتی آمدن متوقع ہے، جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 3 ارب 95 کروڑ 20 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔

آمدن اور اخراجات کے فرق کے باعث یونیورسٹی کو 70 کروڑ 95 لاکھ 29 ہزار روپے کے خسارے کا سامنا ہوگا۔ تاہم یونیورسٹی کو اپنے وسائل سے تقریباً 2 ارب 33 کروڑ 40 لاکھ روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔

پولٹری اور فش فارمز، فیڈ مل اور ملک پلانٹ کی آؤٹ سورسنگ

سینڈیکیٹ کو بتایا گیا کہ بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے یونیورسٹی اپنی آمدن کے ذرائع کو وسعت دے گی۔ اس سلسلے میں منہ کھر بیماری کی ویکسین کی تیاری، تحقیق پر مبنی مصنوعات میں اضافہ اور تمام کیمپسز کے گردونواح میں مویشی پال کسانوں اور دیگر شراکت داروں کے لیے تشخیصی اور کلینیکل خدمات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

پولٹری اور فش فارمز، فیڈ مل اور ملک پلانٹ کی آؤٹ سورسنگ بھی مجوزہ اقدامات میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ طلبہ کی تعداد بڑھانے کے لیے مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ڈگری، ڈپلومہ اور سرٹیفکیٹ کورسز شروع کیے جائیں گے۔

بجلی کے اخراجات کم کرنے کے لیے یونیورسٹی کے مختلف کیمپسز میں سولرائزیشن کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ دستیاب مالی وسائل کے اندر بار بار ہونے والے اخراجات محدود رکھنے کے لیے خصوصی کفایت شعاری اقدامات بھی اختیار کیے جائیں گے۔

ئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 91 کروڑ 73 لاکھ 49 ہزار روپے مختص

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود ربانی نے اجلاس کو بتایا کہ مالی سال 2026-27 میں جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 91 کروڑ 73 لاکھ 49 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اس رقم میں سے 50 کروڑ روپے خان بہادر چوہدری مشتاق احمد کالج آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز نارووال کو مزید مستحکم کرنے کے منصوبے کے لیے رکھے گئے ہیں۔

اسی طرح 30 کروڑ روپے راوی کیمپس پتوکی کے جاری ترقیاتی منصوبے کے لیے، جبکہ 11 کروڑ 73 لاکھ 49 ہزار روپے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے کامیاب جوان اسپورٹس اکیڈمیز منصوبے کے تحت ریسلنگ اکیڈمی اینڈ ریسورس سینٹر کے قیام کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

راوی کیمپس کو ایگرو لائیوسٹاک ٹورازم ریزورٹ بنانے کا منصوبہ

وائس چانسلر نے سینڈیکیٹ ارکان کو بتایا کہ راوی کیمپس پتوکی کو مستقبل میں ایگرو لائیوسٹاک ٹورازم ریزورٹ میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے طلبہ، محققین اور خاندانوں کو پولٹری، ڈیری، لائیوسٹاک، فشریز اور وائلڈ لائف مینجمنٹ سے متعلق عملی معلومات فراہم کی جائیں گی۔ انہیں فارم سے خوراک کی تیاری اور صارف تک رسائی، یعنی فارم ٹو فورک نظام کو سمجھنے کا موقع بھی ملے گا۔

پاکستان نیدرلینڈز ڈیری ڈویلپمنٹ سینٹر

اجلاس کو پاکستان نیدرلینڈز ڈیری ڈویلپمنٹ سینٹر کے قیام کے منصوبے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ مجوزہ مرکز کے ذریعے مویشی پال کسانوں کو نسل کی بہتری، جانوروں کی خوراک، ڈیری فارم مینجمنٹ، جانوروں کی صحت اور فلاح سے متعلق تربیت اور رہنمائی فراہم کی جائے گی۔

وائس چانسلر نے سینٹر فار اکیڈمک ڈویلپمنٹ اینڈ اسٹوڈنٹس ویل بینگ کے قیام، طلبہ کے لیے مینٹورنگ پروگرام، فیکلٹی کی پیشہ ورانہ ترقی، عملی مہارتوں پر مبنی کورسز، تحقیقی سرگرمیوں، تربیتی ورکشاپس، مفاہمتی یادداشتوں اور قومی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔

جواب دیں