دودھ کیوں مہنگا ہو رہا ہے؟ مستقل حل قیمتوں پر کنٹرول نہیں، بلکہ پیداوار میں اضافہ ہے

پاکستان میں دودھ کیوں مہنگا ہو رہا ہے اور اس کا مستقل حل کیا ہے

تحریر: شاکر عمر گجر
مرکزی صدر، ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان

پاکستان میں جب بھی دودھ، گوشت، مرغی یا انڈوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو عام طور پر اس کا ذمہ دار کسان یا فارمر کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ تاہم حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ لائیو اسٹاک سیکٹر کو درپیش کئی بنیادی مسائل ایسے ہیں جو نہ صرف پیداواری لاگت میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ طویل مدت میں ملکی غذائی تحفظ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

ان مسائل میں سب سے نمایاں مسئلہ پرائس کیپنگ (Price Capping) ہے، یعنی حکومت کی جانب سے بعض زرعی اور لائیو اسٹاک مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنا، جبکہ دوسری طرف چارہ، ونڈا، بجلی، ڈیزل، ادویات، مزدوری اور دیگر پیداواری اخراجات مسلسل بڑھتے رہتے ہیں۔ اس عدم توازن کا براہ راست اثر فارمر کی آمدنی اور سرمایہ کاری کی صلاحیت پر پڑتا ہے۔

کم پیداوار، زیادہ لاگت

پاکستان میں بھینس کی اوسط یومیہ دودھ پیداوار تقریباً 6 لیٹر جبکہ مقامی گائے کی اوسط پیداوار 8 سے 10 لیٹر ہے۔ اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک میں بہتر جینیاتی صلاحیت رکھنے والی دودھ دینے والی گائیں روزانہ 50 سے 60 لیٹر تک دودھ پیدا کرتی ہیں۔

جب ایک جانور کم دودھ دیتا ہے تو اس کی خوراک، ادویات، بجلی، مزدوری اور دیگر اخراجات کم مقدار کے دودھ پر تقسیم ہوتے ہیں، جس سے فی لیٹر پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کم پیداوار رکھنے والے نظام میں دودھ نسبتاً مہنگا پڑتا ہے۔

فیڈ اور چارے کی بڑھتی ہوئی لاگت

ڈیری سیکٹر کا ایک اور اہم مسئلہ فیڈ اور چارے کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ کئی مواقع پر ملکی ضروریات پوری ہونے سے پہلے ہی چارہ، فیڈ اور زرعی اجناس کے بعض بائی پروڈکٹس برآمد کر دیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں انہی اشیاء کو درآمد کرنا پڑتا ہے، جن پر ٹیکس، ڈیوٹی، فریٹ اور دیگر اخراجات شامل ہونے سے ان کی قیمت مزید بڑھ جاتی ہے۔

نتیجتاً مہنگی فیڈ، مہنگا دودھ پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے اور اس کا بوجھ آخرکار صارفین تک منتقل ہو جاتا ہے۔

پرائس کیپنگ کے اثرات

ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan) کے مطابق اگر دودھ، گوشت، مرغی اور انڈوں کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر محدود رکھنے کے بجائے طلب و رسد کے اصولوں کے مطابق آزاد مارکیٹ میں طے ہونے دیا جائے تو اس سے متعدد مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

آزاد اور شفاف مارکیٹ میں حقیقی مسابقت پیدا ہوگی، فارمر جدید نسلوں، مصنوعی نسل کشی (Artificial Insemination)، ایمبریو ٹرانسفر، جینیاتی بہتری، جدید فارم مینجمنٹ اور بہتر خوراک میں سرمایہ کاری کریں گے۔ اس کے نتیجے میں فی جانور پیداوار بڑھے گی، مجموعی سپلائی میں اضافہ ہوگا اور طویل مدت میں قیمتوں میں قدرتی استحکام پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

اس کے برعکس اگر قیمتوں کو مصنوعی طور پر دبایا جائے تو فارمر کی آمدنی متاثر ہوتی ہے، سرمایہ کاری کم ہوتی ہے، پیداوار گھٹتی ہے اور آخرکار سپلائی میں کمی مزید مہنگائی کا باعث بنتی ہے۔

حکومت کے لیے تجاویز

ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان حکومت کو تجویز دیتی ہے کہ:

  • دودھ، گوشت، مرغی اور انڈوں کی پرائس کیپنگ مرحلہ وار ختم کی جائے۔
  • قیمتوں کا تعین طلب و رسد کے اصولوں کے مطابق آزاد مارکیٹ میں ہونے دیا جائے۔
  • ملکی ضروریات پوری ہونے تک چارے اور فیڈ کے اہم خام مال کی برآمد کو مؤثر انداز میں منظم کیا جائے۔
  • اعلیٰ جینیاتی نسلوں، سستی فیڈ، جدید ڈیری ٹیکنالوجی، مصنوعی نسل کشی اور ایمبریو ٹرانسفر پروگراموں کی حوصلہ افزائی کے لیے مراعات دی جائیں۔
  • ڈیری فارمنگ میں تحقیق، تربیت، ویٹرنری خدمات اور جدید پیداواری نظام کو فروغ دیا جائے تاکہ فی جانور دودھ کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے۔

نتیجہ

اگر پاکستان میں دودھ، گوشت، مرغی اور انڈوں کی قیمتوں میں حقیقی اور دیرپا استحکام لانا مقصود ہے تو صرف قیمتوں پر سرکاری کنٹرول کافی نہیں ہوگا۔ اصل ضرورت ایسی پالیسیوں کی ہے جو پیداوار میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، بہتر جینیاتی وسائل، معیاری فیڈ اور آزاد و شفاف مارکیٹ کو فروغ دیں۔

جب پیداوار بڑھے گی تو سپلائی میں اضافہ ہوگا، مسابقت مضبوط ہوگی اور قیمتیں قدرتی طور پر متوازن رہیں گی۔ یہی راستہ کسان، صارف اور ملکی معیشت تینوں کے لیے زیادہ پائیدار اور فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔