منہ کھر بیماری: دو دہائیاں، اربوں روپے اور پاکستان آج بھی مرحلہ دو میں
پنجاب کا نیا پروگرام عملی پیش رفت ہے یا ایک اور طویل انتظامی آغاز؟
پاکستان میں منہ کھر بیماری، یعنی Foot and Mouth Disease یا FMD کے کنٹرول کی تاریخ چند حالیہ اجلاسوں اور منصوبوں تک محدود نہیں۔ وائرس کی شناخت، مختلف سیروٹائپس کی نگرانی، مقامی و درآمدی ویکسین، تشخیصی لیبارٹریوں، سرویلنس اور بیماری سے پاک زونز پر کئی دہائیوں سے کام ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود بنیادی سوال آج بھی موجود ہے کہ کیا پاکستان بیماری پر حقیقی اور قابلِ پیمائش کنٹرول حاصل کر سکا ہے، یا ہماری بیشتر پیش رفت منصوبوں، منظوریوں اور اجلاسوں میں ہی دکھائی دیتی ہے؟
پاکستان میں منظم FMD کنٹرول کا آغاز
اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے پاکستان میں منظم FMD کنٹرول پروگرام 2008 میں شروع کیا۔ پاکستان 2009 میں Progressive Control Pathway for FMD کے مرحلہ ایک اور 2015 میں مرحلہ دو تک پہنچا۔
مرحلہ ایک
بیماری کی وبائی صورت حال، وائرس کی گردش اور خطرے کے عوامل کو سمجھنا۔
مرحلہ دو
دستیاب معلومات کی بنیاد پر رسک بیسڈ کنٹرول پروگرام نافذ کرنا۔
مرحلہ تین
مخصوص علاقوں میں وائرس کی گردش روکنا اور قابلِ پیمائش سرکاری نتائج پیش کرنا۔
پاکستان کا 2015 میں مرحلہ دو تک پہنچنا بلاشبہ ایک اہم کامیابی تھی۔ اس میں وفاقی و صوبائی لائیو سٹاک محکموں، FAO، USDA، تشخیصی لیبارٹریوں اور فیلڈ عملے کی مشترکہ کوششیں شامل تھیں۔ بعد ازاں 2018 میں تقریباً 6.6 ملین امریکی ڈالر مالیت کا چھ سالہ پروگرام شروع کیا گیا، جس کا مقصد نگرانی، تشخیص، ویکسینیشن اور ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنا کر پاکستان کو مرحلہ تین تک پہنچانا تھا۔
حالیہ جائزوں میں FMD کو پاکستان میں مستقل موجود بیماری قرار دیتے ہوئے کم رپورٹنگ، غیر یکساں فیلڈ استعداد، غیر معیاری طریقۂ کار اور جانوروں کی غیر منظم نقل و حرکت کو اہم کمزوریاں قرار دیا گیا ہے۔ تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اس عرصے میں کوئی کام نہیں ہوا۔ بیماری کی رپورٹنگ بہتر ہوئی، لیبارٹری تشخیص میں اضافہ ہوا، رنگ ویکسینیشن کی گئی، بہاولپور اور چولستان میں بڑے پیمانے پر ویکسین استعمال ہوئی اور مختلف اداروں نے مقامی ویکسین پر تحقیق کی۔
پنجاب میں ویکسین کی ضرورت اور مقامی صلاحیت
پنجاب کی FMD کنٹرول حکمت عملی کے مطابق صوبے کو سالانہ تقریباً 80 ملین ویکسین ڈوزز درکار ہیں، جبکہ سرکاری مقامی پیداواری صلاحیت تقریباً 10 ملین ڈوزز بتائی گئی ہے۔ مالی سال 2016-17 سے 2021-22 کے دوران پنجاب نے تقریباً 74.65 ملین درآمدی ڈوزز پر لگ بھگ سات ارب روپے خرچ کیے۔
VRI لاہور اور مقامی ویکسین کی حقیقت
ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لاہور کا تاریخی کردار نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ادارے نے محدود وسائل اور روایتی ٹیکنالوجی کے باوجود مقامی FMD ویکسین کی تیاری جاری رکھی۔
تاہم موجودہ سوال صرف یہ نہیں کہ VRI ویکسین بنا رہا ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کی پیداوار، purification، potency، vaccine matching اور کوالٹی کنٹرول ملکی ضرورت اور بین الاقوامی تجارت کے تقاضوں کے مطابق ہیں یا نہیں۔ اگر مقامی پیداوار صوبائی ضرورت کا معمولی حصہ ہی پورا کرے گی تو درآمدی ویکسین پر انحصار برقرار رہے گا۔
UVAS-FMD-VAC: تحقیق سے صنعتی پیداوار تک
یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور کی Quality Operations Laboratory نے مقامی isolates پر مبنی O، A اور Asia-1 سیروٹائپس کی UVAS-FMD-VAC تیار کی۔
اس ویکسین کا تجرباتی اور فیلڈ جانوروں میں جائزہ لیا جانا قابلِ تعریف سائنسی پیش رفت ہے۔ تاہم اب ضرورت یہ ہے کہ اس تحقیق کو صنعتی پیداوار، آزادانہ batch evaluation، واضح کوالٹی ڈیٹا اور بیماری پر قابلِ پیمائش اثرات میں تبدیل کیا جائے۔ کسی ویکسین کی لیبارٹری یا محدود فیلڈ کامیابی اور قومی سطح پر مسلسل فراہمی دو مختلف مراحل ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا FMD کنٹرول منصوبہ
وزیراعلیٰ پنجاب کا Progressive Control of Foot and Mouth Disease in Punjab منصوبہ 23 جولائی 2025 کو 808.726 ملین روپے کی لاگت سے منظور ہوا۔
منصوبے کی منظوری کے تقریباً ایک سال بعد آسامیوں پر بھرتی کے لیے سلیکشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ایڈیشنل سیکرٹری ایڈمن محمد اکبر نے کی۔ اجلاس میں فنانس، ایس اینڈ جی اے ڈی، ڈائریکٹر جنرل ریسرچ ڈاکٹر سجاد حسین اور متعلقہ پراجیکٹ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس ضروری، مگر نتیجہ نہیں
بھرتیوں کے لیے اجلاس ایک ضروری انتظامی مرحلہ ہے، کیونکہ تکنیکی عملے کے بغیر سرویلنس، ویکسینیشن، ڈیٹا مینجمنٹ اور لیبارٹری رابطہ ممکن نہیں۔ تاہم منصوبے کی منظوری کے تقریباً ایک سال بعد بنیادی افرادی قوت کے انتخاب کا مرحلہ انتظامی رفتار پر سوال ضرور اٹھاتا ہے۔
عوامی سطح پر ابھی یہ واضح نہیں کہ کتنے اضلاع میں فیلڈ سرگرمیاں شروع ہوئیں، کتنے منفرد جانور ویکسینیٹ کیے گئے، کتنی ڈوزز استعمال ہوئیں، کتنے جانوروں کی شناخت یا ٹیگنگ ہوئی اور آؤٹ بریکس میں کتنی کمی آئی۔
جدید FMD ویکسین پلانٹ: ایک مثبت مگر طویل المدتی قدم
وزیراعلیٰ پنجاب کے FMD کنٹرول پروگرام سے الگ لاہور میں جدید FMD ویکسین پلانٹ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبے پر ابتدائی ادارہ جاتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اپریل 2026 میں ٹرانزیکشن ایڈوائزر کے انتخاب کے لیے پری بڈ اجلاس منعقد ہوا، جبکہ بعد ازاں بولیوں اور تکنیکی جانچ کا عمل آگے بڑھایا گیا۔
جدید بائیوسیکیورٹی اور GMP معیار کا ویکسین پلانٹ ایک طویل المدتی اور تکنیکی منصوبہ ہوتا ہے۔ اس لیے موجودہ مرحلے پر اس کی کامیابی کو ویکسین کی پیداوار سے نہیں بلکہ جامع منصوبہ بندی، مالیاتی بندوبست، شفاف پروکیورمنٹ، مقررہ مدت کی پابندی اور تعمیراتی پیش رفت سے جانچنا چاہیے۔
یہ منصوبہ مثبت سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کی حقیقی افادیت اس وقت سامنے آئے گی جب پلانٹ مکمل ہو کر purified multivalent FMD vaccine کی معیاری اور مسلسل پیداوار شروع کرے، آزادانہ کوالٹی ٹیسٹنگ کے تقاضے پورے کرے اور درآمدی ویکسین پر انحصار قابلِ ذکر حد تک کم ہو۔
بین الاقوامی حیثیت اور بیماری سے پاک زون
پاکستان نہ ان ممالک میں شامل ہے جن کے سرکاری FMD کنٹرول پروگرام کو ورلڈ آرگنائزیشن فار اینیمل ہیلتھ کی توثیق حاصل ہے اور نہ ملک کا کوئی زون بین الاقوامی طور پر FMD فری تسلیم شدہ ہے۔
یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ بیماری کو پالیسی سطح پر سنجیدہ ضرور سمجھا گیا، لیکن مطلوبہ رفتار، تسلسل اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی پیدا نہیں ہو سکی۔
اداریاتی مؤقف
دی ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز کی اداریاتی ذمہ داری ہے کہ اچھے کام کو سراہا جائے اور کمزوریوں کی نشاندہی بھی کی جائے۔
FAO کی معاونت، VRI کی مقامی پیداوار، UVAS کی تحقیق، پنجاب کی پانچ سالہ حکمت عملی اور جدید ویکسین پلانٹ کی کوششیں قابلِ تعریف ہیں۔ لیکن منصوبے کی منظوری، اجلاس، بھرتی یا ٹینڈر کو بیماری کے کنٹرول کی کامیابی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
اصل کامیابی کا معیار کیا ہونا چاہیے؟
اگر یہی رفتار برقرار رہی تو FMD آئندہ کئی برس تک پاکستان میں موجود رہے گی۔ اصل کامیابی میٹنگوں اور خریدی گئی ڈوزز کی تعداد نہیں، بلکہ آؤٹ بریکس میں مستقل کمی، مؤثر ویکسینیشن کوریج، جانوروں کی شناخت و ٹریس ایبلٹی، وائرس کی گردش میں کمی اور پاکستان کا مرحلہ دو سے مرحلہ تین کی طرف حقیقی سفر ہے۔
حکومت پنجاب سے مطلوبہ شفافیت
- منظور، جاری اور خرچ شدہ بجٹ
- خریدی، تقسیم اور استعمال شدہ ویکسین ڈوزز
- ضلع وار منفرد ویکسین شدہ جانور
- آؤٹ بریکس اور لیبارٹری نتائج
- جانوروں کی ٹیگنگ اور ٹریس ایبلٹی
- Post-vaccination monitoring اور herd immunity
شفاف اور قابلِ تصدیق نتائج ہی ثابت کریں گے کہ موجودہ پروگرام ماضی کے منصوبوں سے مختلف ہے یا ایک اور انتظامی فائل بن کر رہ جائے گا۔
VNV پر مزید پڑھیں
FMD سے متعلق مزید خبریں اور تجزیے | پاکستان لائیو سٹاک اپ ڈیٹس | ویٹرنری ویکسین اور تحقیق