
پاکستان کی پولٹری انڈسٹری ملک کی غذائی تحفظ، روزگار، سرمایہ کاری اور معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس شعبے کو درپیش چیلنجز، نئی بیماریوں، بایو سکیورٹی، اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس، خوراک کے معیار، ماحولیات اور جدید ٹیکنالوجی جیسے موضوعات پر مسلسل آگاہی اور تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بدقسمتی سے آگاہی مہمات چلانا نہ آسان کام ہے اور نہ ہی کم وسائل میں ممکن ہے۔ اس کے لیے مالی وسائل، فنی مہارت، افرادی قوت اور طویل المدتی منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے۔ یہ ذمہ داری صرف میڈیا یا کسی ایک ادارے پر نہیں ڈالی جا سکتی بلکہ پوری انڈسٹری کو اس میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صنعت کے بعض ادارے اور کمپنیاں سیمینارز، کانفرنسوں اور اشتہارات میں شعبے کی ترقی کے بلند بانگ دعوے تو کرتی ہیں، لیکن جب اجتماعی آگاہی مہمات، فارمرز کی عملی تربیت، تحقیقی معلومات کی ترویج، بیماریوں سے بچاؤ، بایو سکیورٹی کے فروغ اور قومی سطح پر مشترکہ اقدامات کی بات آتی ہے تو ان کا کردار بہت محدود دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ یہ بات تمام اداروں پر لاگو نہیں ہوتی، تاہم مجموعی طور پر عملی تعاون کی گنجائش اب بھی بہت زیادہ موجود ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک مضبوط پولٹری انڈسٹری صرف بہترین مصنوعات فروخت کرنے سے نہیں بنتی بلکہ علم، تحقیق، شفاف معلومات اور ذمہ دارانہ رہنمائی سے بھی مضبوط ہوتی ہے۔ جو ادارے اپنے کاروبار کے ساتھ ساتھ صنعت کی اجتماعی ترقی میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، وہی حقیقی معنوں میں اس شعبے کے مستقبل کو محفوظ بناتے ہیں۔
The Veterinary News & Views گزشتہ کئی دہائیوں سے پولٹری، لائیو اسٹاک، ڈیری، فشریز اور ویٹرنری شعبے میں معلومات، تحقیق، پالیسی مباحث، تربیتی سرگرمیوں اور صنعت کے مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان رابطے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ آگاہی پر ہونے والا ہر خرچ دراصل صنعت کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ایسوسی ایشنز، کمپنیاں، تعلیمی و تحقیقی ادارے، حکومتی محکمے اور میڈیا پلیٹ فارمز ایک مشترکہ قومی وژن کے تحت آگے بڑھیں۔ اگر ہم اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں، فارمرز تک درست معلومات پہنچائیں اور عملی تعاون کو فروغ دیں تو پاکستان کی پولٹری انڈسٹری نہ صرف اپنے موجودہ مسائل پر قابو پا سکتی ہے بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر مزید مضبوط مقام بھی حاصل کر سکتی ہے۔
پائیدار ترقی کا راستہ دعووں سے نہیں بلکہ مسلسل، مخلصانہ اور عملی کردار سے ہموار ہوتا ہے۔