
برائلر فارمنگ میں ہر فلاک منافع نہیں دیتا۔ کبھی مارکیٹ ریٹ بہتر ہوتا ہے اور فارمر کو اچھا فائدہ مل جاتا ہے جبکہ بعض اوقات مرغی کم داموں میں فروخت ہوتی ہے اور فارمر کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں اصل سوال یہ نہیں ہوتا کہ مرغی کا وزن کتنا زیادہ کیا جائے بلکہ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ فی کلو لائیو ویٹ کی پیداواری لاگت کیسے کم کی جائے؟
کم ریٹ کے دنوں میں کامیاب فارمر وہی ہوتا ہے جو جذباتی فیصلوں کے بجائے حساب کتاب، ریکارڈ، بہتر مینجمنٹ اور درست وقت پر فروخت کی حکمت عملی اپنائے؟
فیڈ لاگت کو سمجھداری سے کنٹرول کریں
برائلر فارمنگ میں سب سے بڑا خرچ فیڈ کا ہوتا ہے۔ اس لیے فیڈ پر توجہ دینا ضروری ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سستی اور غیر معیاری فیڈ استعمال کی جائے۔ خراب فیڈ وقتی طور پر سستی لگتی ہے مگر اس سے وزن کم آتا ہے، ایف سی آر خراب ہوتا ہے، بیماری کا خطرہ بڑھتا ہے اور آخر میں نقصان زیادہ ہو جاتا ہے۔
فارمر کو چاہیے کہ اچھی کمپنی یا قابل اعتماد نیوٹریشنسٹ کے مشورے سے فیڈ فارمولا استعمال کرے۔ اسٹارٹر، گروور اور فنشر فیڈ کا صحیح استعمال کیا جائے۔ بڑے پرندوں کو ضرورت سے زیادہ مہنگی اسٹارٹر فیڈ دینا بھی لاگت بڑھا دیتا ہے۔
فیڈ کا ضیاع روکیں
اکثر فارمز پر فیڈ کا ضیاع ایک خاموش نقصان ہوتا ہے۔ فیڈر زیادہ بھرنے، غلط اونچائی، ناہموار فرش، گیلے لٹر اور خراب فیڈ لائن کی وجہ سے فیڈ ضائع ہوتی رہتی ہے۔ اگر روزانہ تھوڑی تھوڑی فیڈ بھی ضائع ہو تو فلاک کے آخر میں یہ ہزاروں روپے کا نقصان بن جاتی ہے۔
فیڈر کی اونچائی پرندے کی پشت کے برابر رکھیں، فیڈر کو مناسب حد تک بھریں، گیلے فیڈ کو فوراً نکالیں اور فیڈ لائن کی لیکیج روزانہ چیک کریں۔
بروڈنگ پر سمجھوتہ نہ کریں
پہلے سات دن برائلر کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اگر چوزہ پہلے ہفتے میں کمزور رہ جائے تو بعد میں بہترین فیڈ دینے کے باوجود کارکردگی مکمل واپس نہیں آتی۔ اچھی بروڈنگ سے چوزہ جلد فیڈ اور پانی لیتا ہے، وزن بہتر بنتا ہے، یکسانیت اچھی رہتی ہے اور آخر میں ایف سی آر بہتر آتا ہے۔
فارمر کو چاہیے کہ چوزہ فارم پر لانے سے پہلے شیڈ گرم، خشک اور صاف ہو۔ پانی تازہ ہو، ڈرنکرز یا نپلز آسانی سے دستیاب ہوں اور روشنی مناسب ہو۔
پانی کو فیڈ جتنا اہم سمجھیں
صاف پانی برائلر کی کارکردگی کے لیے بہت ضروری ہے۔ گندا پانی وزن کم کرتا ہے، بیماری کا دباؤ بڑھاتا ہے اور ادویات کے اخراجات میں اضافہ کر دیتا ہے۔ پانی کی لائنیں فلش کریں، ڈرنکرز صاف رکھیں اور لیکیج کو فوراً ختم کریں۔
گرمی کے موسم میں پانی کا درجہ حرارت اور دستیابی خاص طور پر چیک کریں کیونکہ ہیٹ اسٹریس کی صورت میں پرندہ فیڈ کم کھاتا ہے اور وزن کا بڑھنا رک جاتا ہے۔
بیماری اور اموات کو کم کریں
کم ریٹ کے دوران بعض فارمر ویکسین، صفائی یا بائیو سیکیورٹی پر خرچ کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر یہ سب سے خطرناک غلطی ہے۔ جو پرندہ بیس یا پچیس دن فیڈ کھا کر مر جائے وہ فارمر کے لیے سب سے بڑا نقصان ہے۔
فارم پر غیر ضروری لوگوں کا داخلہ بند کریں، مردہ پرندوں کو فوراً مناسب طریقے سے تلف کریں، لٹر خشک رکھیں، چوہوں اور جنگلی پرندوں کو کنٹرول کریں اور ویکسینیشن کا شیڈول ڈاکٹر کے مشورے سے مکمل کریں۔
اوور کراؤڈنگ سے بچیں
زیادہ چوزے ڈالنا بظاہر زیادہ پیداوار لگتا ہے لیکن اکثر صورتوں میں یہی نقصان کا سبب بنتا ہے۔ اوور کراؤڈنگ سے ہیٹ اسٹریس، گیلا لٹر، بیماری کا دباؤ، ناہموار وزن اور کمزور ایف سی آر پیدا ہوتا ہے۔ کم ریٹ کے دنوں میں یہ مسئلہ مزید خطرناک ہو جاتا ہے کیونکہ ہر اضافی نقصان منافع کو ختم کر دیتا ہے۔
فارمر کو چاہیے کہ شیڈ کی گنجائش کے مطابق چوزے ڈالے اور وینٹیلیشن کو ہر عمر کے مطابق ترتیب دے۔
درجہ حرارت اور وینٹیلیشن درست رکھیں
سردی میں کم درجہ حرارت کی وجہ سے مرغی فیڈ کا حصہ جسمانی گرمی برقرار رکھنے پر خرچ کرتی ہے جس سے ایف سی آر خراب ہوتا ہے۔ گرمی میں ہیٹ اسٹریس کی وجہ سے فیڈ کا استعمال کم ہو جاتا ہے اور اموات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اچھی وینٹیلیشن سے امونیا گیس کم ہوتی ہے، لٹر خشک رہتا ہے اور پرندے کی گروتھ بہتر ہوتی ہے۔ اس لیے پنکھے، پردے، کولنگ پیڈز اور ہوا کی آمد و رفت کو روزانہ کی بنیاد پر چیک کرنا چاہیے۔
فروخت کا وقت حساب سے طے کریں
جب مارکیٹ ریٹ کم ہو تو پرندے کو غیر ضروری طور پر زیادہ دن روکنا ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتا۔ ہر اضافی دن فیڈ کا خرچ بڑھاتا ہے۔ فارمر کو روزانہ یہ حساب کرنا چاہیے کہ پرندے کا اوسط وزن کتنا ہے، روزانہ فیڈ کا استعمال کتنا ہے، مارکیٹ ریٹ کیا ہے اور اگلے ایک دن کا اضافی خرچ کتنا بنے گا۔
کبھی تیس سے بتیس دن پر فروخت بہتر ہوتی ہے اور کبھی پینتیس دن تک رکھنا فائدہ دے سکتا ہے۔ فیصلہ اندازے سے نہیں بلکہ حساب سے ہونا چاہیے۔
ریکارڈ رکھنا لازمی ہے
جو فارمر ریکارڈ نہیں رکھتا وہ اصل نقصان کو سمجھ نہیں پاتا۔ ہر فلاک کا مکمل ریکارڈ ہونا چاہیے جیسے چوزے کی قیمت، فیڈ بیگز، ادویات کا خرچ، ویکسین کا خرچ، بجلی، گیس، لیبر، اموات، اوسط وزن، ایف سی آر اور سیل ریٹ۔
آخر میں یہ فارمولا ضرور لگائیں یعنی فی کلو پیداواری لاگت معلوم کرنے کے لیے کل خرچ کو کل لائیو ویٹ پر تقسیم کریں۔ اگر فارمر کو اپنی اصل فی کلو لاگت معلوم ہو جائے تو وہ مارکیٹ کے کم ریٹ میں بھی بہتر فیصلہ کر سکتا ہے۔
نتیجہ
کم داموں میں برائلر فروخت ہونا فارمر کے لیے مشکل صورتحال ضرور ہے مگر بہتر مینجمنٹ سے نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔ فیڈ کا ضیاع روکنا، بروڈنگ بہتر کرنا، اموات کم کرنا، پانی صاف رکھنا، بائیو سیکیورٹی سخت کرنا، وینٹیلیشن بہتر رکھنا اور فروخت کا وقت حساب سے طے کرنا فارمر کے لیے سب سے اہم اقدامات ہیں۔
اصل کامیابی مرغی کو صرف زیادہ وزن دینے میں نہیں بلکہ کم لاگت میں بہتر وزن اور بہتر ایف سی آر حاصل کرنے میں ہے۔ یہی طریقہ برائلر فارمر کو کم ریٹ کے مشکل حالات میں بھی مضبوط رکھ سکتا ہے۔