ویٹرنری ادویات کے لیے DRAP کا ٹریک اینڈ ٹریس نظام کیا ہے؟ مکمل تفصیل، طریقہ کار، فائدے اور صنعت کی تیاری
دو جہتی بار کوڈ اور سیریلائزیشن کے ذریعے ادویات کی شناخت، سپلائی چین کی شفافیت، جعلی مصنوعات کی روک تھام اور عالمی معیار سے ہم آہنگی کی جانب اہم پیش رفت
اہم نکات
- DRAP ادویات کے لیے دو جہتی بار کوڈ اور سیریلائزیشن کے نفاذ کے عمل میں ہے۔
- اس نظام کے ذریعے دوا کے ہر پیک کو ایک منفرد ڈیجیٹل شناخت دی جائے گی۔
- جعلی، غیر معیاری، مشکوک اور غیر رجسٹرڈ ادویات کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔
- ویٹرنری فارماسیوٹیکل شعبے کو عالمی معیار، بہتر ٹریس ایبلٹی اور شفاف سپلائی چین کی طرف لے جانے میں یہ نظام اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
خبر کا خلاصہ
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے ادویات کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس، دو جہتی بار کوڈ اور سیریلائزیشن کے نظام پر پیش رفت ویٹرنری فارماسیوٹیکل شعبے کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس نظام کا مقصد ہر دوا کے پیک کو ایک منفرد شناخت دینا ہے تاکہ دوا کی تیاری، بیچ، مدت استعمال، رجسٹریشن، سپلائی چین اور مارکیٹ میں موجودگی کو بہتر انداز میں جانچا جا سکے۔
پاکستان ویٹرنری فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن کی طرف سے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ویٹرنری ادویات کا معیار براہ راست حیوانی صحت، لائیو اسٹاک پیداوار، پولٹری، ڈیری، فوڈ سیفٹی اور فارمرز کے اعتماد سے جڑا ہوا ہے۔
ٹریک اینڈ ٹریس نظام کیا ہوتا ہے؟
ٹریک اینڈ ٹریس نظام ایک جدید ڈیجیٹل نگرانی کا طریقہ ہے جس کے ذریعے کسی دوا کے ہر پیک کو ایک منفرد شناخت دی جاتی ہے۔ یہ شناخت عموماً دو جہتی بار کوڈ یا ڈیٹا میٹرکس کوڈ کی صورت میں پیکنگ پر درج کی جاتی ہے۔ جب اس کوڈ کو اسکین کیا جاتا ہے تو دوا سے متعلق بنیادی معلومات سامنے آتی ہیں۔
سادہ الفاظ میں، یہ نظام دوا کی ڈیجیٹل شناخت ہے۔ اس سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ دوا کس کمپنی نے بنائی، کس بیچ سے تعلق رکھتی ہے، کب تیار ہوئی، اس کی مدت استعمال کیا ہے، اور یہ سپلائی چین میں کہاں کہاں سے گزری۔
سیریلائزیشن کیا ہے؟
سیریلائزیشن کا مطلب ہے کہ دوا کے ہر پیک کو ایک منفرد نمبر دیا جائے۔ اگر کسی کمپنی نے ایک ہی دوا کے ایک لاکھ پیک تیار کیے ہیں تو ہر پیک کا نمبر الگ ہوگا۔ اس سے ایک ہی دوا کے دو پیک بھی ڈیجیٹل طور پر ایک جیسے نہیں رہتے۔
اس منفرد شناخت کی وجہ سے جعلی پیکنگ، نقلی کوڈ، مشکوک بیچ، زائد المیعاد اسٹاک یا غیر رجسٹرڈ مصنوعات کی نشاندہی زیادہ آسان ہو جاتی ہے۔
دو جہتی بار کوڈ کیسے کام کرتا ہے؟
دو جہتی بار کوڈ عام بار کوڈ کے مقابلے میں زیادہ معلومات محفوظ کر سکتا ہے۔ یہ چھوٹا سا کوڈ دوا کے پیک پر پرنٹ کیا جاتا ہے اور اسے اسکین کر کے دوا کی اصل شناخت دیکھی جا سکتی ہے۔
اس کوڈ میں عموماً دوا کا نام، کمپنی، بیچ نمبر، مدت استعمال، رجسٹریشن کی معلومات، منفرد شناختی نمبر اور دیگر متعلقہ تفصیلات شامل کی جا سکتی ہیں۔ جب یہ کوڈ اسکین ہوتا ہے تو نظام یہ جانچتا ہے کہ یہ پیک اصل ہے یا مشکوک، اس کا بیچ درست ہے یا نہیں، اور یہ مصنوعہ ریگولیٹری ریکارڈ سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔
یہ نظام عملی طور پر کیسے چلے گا؟
اس نظام کے تحت سب سے پہلے دوا بنانے والی یا درآمد کرنے والی کمپنی کو اپنی مصنوعات، رجسٹریشن، بیچ اور پیکنگ سے متعلق معلومات ڈیجیٹل نظام میں شامل کرنا ہوں گی۔ اس کے بعد ہر پیک پر دو جہتی بار کوڈ یا ڈیٹا میٹرکس کوڈ پرنٹ کیا جائے گا۔
جب دوا کمپنی سے ڈسٹری بیوٹر، ہول سیلر، ویٹرنری میڈیکل اسٹور یا مارکیٹ تک پہنچے گی تو اس کی نقل و حرکت کو اسکیننگ اور ریکارڈ کے ذریعے جانچا جا سکے گا۔ اس طرح کسی بھی مشکوک دوا کی صورت میں یہ معلوم کرنا آسان ہوگا کہ وہ پیک کہاں سے آیا، کس بیچ کا ہے اور کس سپلائی چین سے گزرا۔
| مرحلہ | عمل | مقصد |
|---|---|---|
| کمپنی کی سطح | مصنوعات، بیچ اور پیکنگ کی معلومات تیار کرنا | دوا کی بنیادی شناخت قائم کرنا |
| پیکنگ لائن | ہر پیک پر منفرد دو جہتی کوڈ لگانا | ہر پیک کو الگ شناخت دینا |
| سپلائی چین | ڈسٹری بیوشن اور مارکیٹ کی نقل و حرکت کا ریکارڈ | دوا کے سفر کو قابل نگرانی بنانا |
| معائنہ اور جانچ | کوڈ اسکین کر کے شناخت کی تصدیق | جعلی یا مشکوک دوا کی نشاندہی |
کیا یہ نظام پہلے سے کام کر رہا ہے؟
دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق DRAP ادویات کے لیے دو جہتی بار کوڈ اور سیریلائزیشن کے نفاذ کے عمل میں ہے۔ اگست 2025 میں DRAP نے فارماسیوٹیکل انڈسٹری سے مطلوبہ معلومات مقررہ تاریخ تک جمع کرانے کی ہدایت جاری کی تھی۔
جنوری 2026 میں DRAP نے اس نظام سے متعلق آگاہی اور تربیتی نشستوں کا بھی اعلان کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نظام مرحلہ وار نفاذ، صنعت کی تیاری، تکنیکی آگاہی اور ریگولیٹری عمل کے ذریعے آگے بڑھ رہا ہے۔
اہم وضاحت
محتاط اور درست خبر نویسی کے لیے یہ لکھنا بہتر ہے کہ یہ نظام نفاذ کے مرحلے میں ہے، جبکہ مکمل مارکیٹ سطح پر آپریشنل ہونے کے بارے میں حتمی دعویٰ صرف DRAP کے واضح سرکاری اعلان یا نوٹیفکیشن کے بعد ہی کیا جانا چاہیے۔
تربیت کب اور کہاں ہو رہی ہے؟
DRAP نے جنوری 2026 میں دو جہتی بار کوڈ، سیریلائزیشن اور فارماسیوٹیکل یونٹس کے معائنہ رپورٹنگ طریقہ کار سے متعلق آگاہی اور استعداد کار بڑھانے کی نشستوں کا اعلان کیا۔ دستیاب سرکاری معلومات میں پشاور سیشن کا ذکر بھی موجود ہے۔
ویٹرنری فارماسیوٹیکل اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ DRAP، متعلقہ صنعتی تنظیموں اور پاکستان ویٹرنری فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن کے ذریعے مستقبل کی تربیت، عملی رہنمائی اور نفاذ کے شیڈول سے باخبر رہیں۔
اس نظام کا قانونی اور ریگولیٹری پس منظر
DRAP کا بنیادی کردار پاکستان میں ادویات، طبی آلات، متبادل ادویات اور صحت سے متعلق مصنوعات کے معیار، حفاظت اور مؤثریت کو یقینی بنانا ہے۔ اسی مقصد کے تحت ادویات کی رجسٹریشن، لائسنسنگ، لیبلنگ، معائنہ، حفاظتی الرٹس، مارکیٹ نگرانی اور ریگولیٹری اقدامات کیے جاتے ہیں۔
دو جہتی بار کوڈ اور سیریلائزیشن کو اسی وسیع ریگولیٹری سوچ کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے، جس کا مقصد مصنوعات کو قابل شناخت، قابل تصدیق اور قابل نگرانی بنانا ہے۔
ویٹرنری ادویات کے لیے اس کا اسکوپ کیا ہے؟
اگرچہ DRAP کی سرکاری معلومات میں مجموعی طور پر فارماسیوٹیکل مصنوعات کا ذکر ہے، ویٹرنری ادویات بھی ریگولیٹری نظام کے دائرہ کار میں اہم حیثیت رکھتی ہیں۔ اس لیے ویٹرنری ادویات بنانے والی کمپنیاں، درآمد کنندگان، ڈسٹری بیوٹرز، ہول سیلرز، ویٹرنری میڈیکل اسٹورز اور متعلقہ سپلائی چین کو اس نظام کے لیے تیاری کرنی ہوگی۔
ویٹرنری شعبے میں اس نظام کا دائرہ خاص طور پر اینٹی بائیوٹکس، ویکسینز، حیوانی ادویات، پولٹری اور لائیو اسٹاک میں استعمال ہونے والی فارماسیوٹیکل مصنوعات، اور ان مصنوعات کی سپلائی چین تک پھیل سکتا ہے جہاں ریگولیٹری تقاضے لاگو ہوں۔
جعلی اور غیر معیاری ادویات کی روک تھام کیسے ہوگی؟
جعلی ادویات کی سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ وہ اصل کمپنی کی پیکنگ یا نام سے مشابہت رکھ سکتی ہیں۔ ٹریک اینڈ ٹریس نظام میں ہر پیک کی منفرد شناخت ہوتی ہے، اس لیے جعلی یا نقل شدہ پیک کو اسکیننگ کے ذریعے مشکوک قرار دیا جا سکتا ہے۔
اگر کوئی ایک ہی کوڈ متعدد پیکس پر استعمال کرے، کسی بیچ کی معلومات غلط ہو، یا کوئی ایسا پیک مارکیٹ میں ملے جو اصل ریکارڈ میں موجود نہ ہو، تو ریگولیٹری ٹیم اس کی نشاندہی کر سکتی ہے۔ اسی طرح زائد المیعاد، واپس منگوائی گئی یا مشکوک مصنوعات کی ٹریسنگ بھی آسان ہو سکتی ہے۔
چیک اینڈ بیلنس کا نظام کیا ہوگا؟
اس نظام کا چیک اینڈ بیلنس مختلف سطحوں پر کام کرے گا۔ کمپنی کی سطح پر ہر پیک کا کوڈ، بیچ، پیکنگ اور ڈیجیٹل ریکارڈ درست ہونا چاہیے۔ ڈسٹری بیوشن کی سطح پر مصنوعات کی نقل و حرکت کا ریکارڈ اہم ہوگا۔ مارکیٹ کی سطح پر اسکیننگ کے ذریعے مشکوک پیکس کی نشاندہی ہو سکے گی۔
| سطح | چیک اینڈ بیلنس |
|---|---|
| کمپنی | ہر پیک کا منفرد کوڈ، بیچ ریکارڈ، مدت استعمال اور لیبلنگ کی درستگی |
| ڈسٹری بیوشن | اسٹاک کی نقل و حرکت، رسیدیں، بیچ نمبر اور سپلائی چین کا ریکارڈ |
| ریگولیٹری معائنہ | کوڈ اسکیننگ، پیکنگ کی تصدیق، ریکارڈ کی جانچ اور مشکوک مصنوعات پر کارروائی |
| مارکیٹ نگرانی | جعلی، غیر معیاری، زائد المیعاد یا غیر رجسٹرڈ مصنوعات کی نشاندہی |
ویٹرنری فارما صنعت کو کیا تیاری کرنی چاہیے؟
ویٹرنری ادویات بنانے والی کمپنیوں کو اس نظام کے لیے اپنی مصنوعات کی مکمل فہرست، رجسٹریشن تفصیلات، بیچ کوڈنگ، پیکنگ ڈیزائن، لیبلنگ، دو جہتی بار کوڈ پرنٹنگ، سیریلائزیشن سافٹ ویئر، ڈیٹا مینجمنٹ اور اندرونی عمل کو منظم کرنا ہوگا۔
اداروں کو اپنی پیداواری، پیکنگ، کوالٹی کنٹرول، ریگولیٹری افیئرز، گودام اور ڈسٹری بیوشن ٹیموں کی تربیت بھی کرنی ہوگی تاکہ جب نظام عملی طور پر نافذ ہو تو تعمیل میں تاخیر نہ ہو۔
کمپنیوں کے لیے فوری تیاری
- تمام رجسٹرڈ مصنوعات کی تازہ فہرست تیار کریں۔
- ہر دوا کے پیک سائز، بیچ نمبر اور مدت استعمال کا ریکارڈ درست کریں۔
- پیکنگ لائن پر دو جہتی بار کوڈ پرنٹنگ کی صلاحیت پیدا کریں۔
- سیریلائزیشن اور ڈیٹا مینجمنٹ کے لیے داخلی نظام یا سروس فراہم کنندہ منتخب کریں۔
- معیار، پیداوار، گودام اور ریگولیٹری ٹیموں کی تربیت کریں۔
- مصنوعات واپس منگوانے کے طریقہ کار کو اپ ڈیٹ کریں۔
ویٹرنری ڈاکٹرز، فارمرز اور ڈیلرز کے لیے فائدہ
ویٹرنری ڈاکٹرز کے لیے یہ نظام اس لیے اہم ہے کہ وہ اصل اور مشکوک دوا میں فرق بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے۔ فارمرز کے لیے فائدہ یہ ہے کہ انہیں معیاری اور قابل تصدیق دوا ملنے کا اعتماد بڑھے گا۔ ڈیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز کے لیے فائدہ یہ ہوگا کہ ان کی سپلائی چین زیادہ منظم اور شفاف ہو گی۔
طویل مدت میں اس نظام سے حیوانی صحت، دودھ اور گوشت کی پیداوار، پولٹری کی کارکردگی، فوڈ سیفٹی اور ادویات کے ذمہ دارانہ استعمال میں بھی بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔
عالمی معیار سے ہم آہنگی کیوں ضروری ہے؟
دنیا کے کئی ممالک میں ادویات کی ٹریس ایبلٹی، منفرد شناخت، سیریلائزیشن اور سپلائی چین نگرانی کے نظام استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان کا مقصد جعلی ادویات کی روک تھام، مصنوعات کی واپسی کے عمل کو تیز کرنا، مریضوں اور صارفین کا تحفظ، اور ریگولیٹری شفافیت کو بہتر بنانا ہے۔
پاکستان میں اس طرز کے نظام کا نفاذ ویٹرنری فارماسیوٹیکل شعبے کو عالمی رجحانات سے قریب کر سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب لائیو اسٹاک، ڈیری، پولٹری اور فوڈ سیفٹی میں معیار اور ٹریس ایبلٹی کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ممکنہ چیلنجز
اس نظام کے نفاذ میں کچھ عملی چیلنجز بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں کے لیے ٹیکنالوجی کی لاگت، پیکنگ لائن کی اپ گریڈیشن، تربیت یافتہ عملے کی کمی، ڈیٹا کی درستگی، ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کی تیاری اور دور دراز مارکیٹوں میں اسکیننگ کا عمل اہم مسائل ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے ضروری ہے کہ DRAP، صنعتی تنظیمیں اور ویٹرنری فارماسیوٹیکل ادارے مشاورت، تربیت اور مرحلہ وار نفاذ کے ذریعے اس نظام کو عملی اور قابل عمل بنائیں۔
وی اینڈ ویوز انسائٹ
ویٹرنری ادویات میں ٹریک اینڈ ٹریس نظام صرف ایک ریگولیٹری ضرورت نہیں بلکہ اعتماد، شفافیت اور معیار کا نیا معیار بن سکتا ہے۔ اگر اس نظام کو مناسب تربیت، صنعت کی مشاورت، ڈیجیٹل تیاری اور مارکیٹ نگرانی کے ساتھ نافذ کیا جائے تو یہ پاکستان میں حیوانی صحت کے شعبے کے لیے ایک مثبت تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے۔
PVPA کا کردار کیوں اہم ہے؟
پاکستان ویٹرنری فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن ویٹرنری فارما صنعت کی نمائندگی کے حوالے سے اس عمل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ایسوسی ایشن DRAP اور صنعت کے درمیان رابطہ، تربیت، مشاورت، عملی مشکلات کی نشاندہی، اور تعمیل کے لیے رہنمائی فراہم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔
ویٹرنری ادویات کے شعبے میں معیاری، محفوظ اور قابل تصدیق مصنوعات کے فروغ کے لیے صنعت اور ریگولیٹر کے درمیان مثبت تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
نتیجہ
DRAP کا ٹریک اینڈ ٹریس، دو جہتی بار کوڈ اور سیریلائزیشن نظام ویٹرنری ادویات کے لیے شفافیت، جعلی ادویات کی روک تھام اور عالمی معیار کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس نظام سے دوا کے ہر پیک کی شناخت، بیچ کی معلومات، مارکیٹ میں موجودگی اور سپلائی چین کا ریکارڈ بہتر انداز میں دیکھا جا سکے گا۔
ویٹرنری فارماسیوٹیکل صنعت کے لیے اب ضروری ہے کہ وہ اس نظام کو محض ایک قانونی تقاضہ نہ سمجھے بلکہ اسے معیار، اعتماد اور مستقبل کی مارکیٹ ضرورت کے طور پر دیکھے۔
خبر میں شامل کیے جانے والے عہدیداران
- ڈاکٹر عاصم محمود خان، چیئرمین، پاکستان ویٹرنری فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن
- مسعود صادق چوہدری، سینئر وائس چیئرمین، پاکستان ویٹرنری فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن
- ڈاکٹر خالد اقبال، وائس چیئرمین ساؤتھ زون، پاکستان ویٹرنری فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن
- شعیب امجد، وائس چیئرمین نارتھ زون، پاکستان ویٹرنری فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن
متعلقہ خبریں
The Veterinary News & Views کو فالو کریں
مزید ویٹرنری، لائیو اسٹاک، پولٹری، ڈیری، زراعت اور ریگولیٹری اپ ڈیٹس کے لیے وی اینڈ ویوز کے ساتھ رہیں۔
DRAP #PVPA #VeterinaryPharma #AnimalHealth #VetNewsAndViews