
رحیم یار خان میں پنجاب حکومت کے زیر انتظام کاٹن ریسرچ اسٹیشن خانپور کے ریسرچ فارم پر کپاس کی شاندار فصل نے مقامی ورائٹیز کی صلاحیت، جدید ریسرچ اور سائنسدانوں کی محنت کو نمایاں کر دیا ہے۔ موجودہ موسمیاتی تبدیلیوں اور زرعی چیلنجز کے باوجود فارم پر کاشت کی گئی کپاس صحت مند، بھرپور اور پیداوار کے لحاظ سے حوصلہ افزا دکھائی دے رہی ہے۔
ریسرچ فارم پر 23 مارچ کو ارلی کاٹن جبکہ یکم مئی کو لیٹ کاٹن کاشت کی گئی۔ ان تجرباتی کاشتوں میں باغ و بہار، سیم اسٹار اور دیگر سنگل جین ورائٹیز کے ساتھ ٹرپل جین میں RH 572 جیسی نئی ایلیٹ لائنیں بھی شامل ہیں۔ موجودہ فصل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مقامی سطح پر تیار کی گئی ورائٹیز موسمیاتی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر خانپور اسٹیشن کے سائنسدانوں نے CEMB لاہور کے تعاون سے PARB کے تحت ایک نیا تحقیقی منصوبہ بھی منظور کرایا ہے۔ اس منصوبے میں ویب تھری فیوژن جین یعنی فائیو جین ٹیکنالوجی شامل ہے۔ توقع ہے کہ یہ منصوبہ اگلے تین سالوں میں نیشنل ٹرائلز کا حصہ بنے گا، جس کے بعد پنجاب کے کسانوں کو حکومتی نرخوں پر سستا، معیاری اور بہتر پیداواری صلاحیت کا حامل بیج دستیاب ہو سکے گا۔
فارم پر پیسٹ مینجمنٹ کے لیے بھی قابل تحسین اقدامات کیے گئے ہیں۔ پوری فیلڈ میں فیرومون ٹریپس نصب کیے گئے ہیں جبکہ کیمیائی اسپرے کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے اور اسے صفر سے دو اسپرے تک محدود رکھا گیا ہے۔ فیلڈ میں پرندوں کی موجودگی اور گھونسلے اس بات کی علامت ہیں کہ فارم پر ماحول دوست زرعی مینجمنٹ کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
اس وقت 23 مارچ کی ارلی کاشت میں تقریباً 20 ٹینڈے چنائی کے قریب ہیں جبکہ فی پودا 40 سے 50 ٹینڈوں کا شاندار پوٹینشل موجود ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق خانپور اور رحیم یار خان کا بیلٹ کپاس کی بحالی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ مناسب حکومتی پالیسی کے ذریعے یہ خطہ پاکستان کی کپاس کی پیداوار میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔
زرعی حلقوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ رحیم یار خان، خانپور اور اس سے ملحقہ کپاس کے موزوں علاقوں کو باقاعدہ طور پر کاٹن زون یا کاٹن ویلی قرار دیا جائے۔ ماہرین کے مطابق کپاس کے روایتی علاقوں میں گنے کی تیزی سے بڑھتی ہوئی کاشت کپاس کی بحالی کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اس لیے حکومت کو واضح پالیسی کے تحت کاٹن بیلٹ میں سیزن کے دوران گنے کی کاشت پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔
اسی طرح حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ کپاس کے بنیادی پیداواری علاقوں میں موجود شوگر ملوں کو بتدریج دوسرے موزوں علاقوں میں منتقل کیا جائے تاکہ کسان دوبارہ کپاس کی کاشت کی طرف راغب ہو سکیں۔ اگر کپاس کے علاقوں کو مکمل پالیسی تحفظ فراہم کیا جائے تو پاکستان میں کپاس کی بحالی ممکن ہی نہیں بلکہ ناگزیر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خانپور کاٹن ریسرچ اسٹیشن کی موجودہ کارکردگی اس بات کا واضح پیغام ہے کہ اگر سائنسدانوں، کسانوں اور حکومت کو ایک مضبوط پالیسی کے تحت جوڑ دیا جائے تو یہ علاقہ پاکستان کی کپاس، ٹیکسٹائل اور زرعی معیشت کی تقدیر بدل سکتا ہے۔