
انگلستان سے خورشید خان کے قلم سے ڈاکٹر سید ابرار حسین شاہ گیلانی مرحوم کی یاد میں ، یاد رفتگان
گزشتہ ماہ 16 اپریل 2026 کو پروفیسر ڈاکٹر سید ابرار حسین شاہ گیلانی اس دنیا فانی سے رخصت ہو گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
میں ان کی نسبت کے ساتھ کچھ لکھنا چاہتا تھا۔ مگر قلم ساتھ نہیں دے رھا تھا۔ آج اچانک سے ایک چھوٹا سا مضمون باندھا ہے۔ جو پیش نظر ہے۔
اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ڈاکٹر سید ابرار حسین شاہ گیلانی مرحوم کا شمار پاکستان کے چوٹی کے اساتذہ اور محققین میں ہوتا تھا۔
جس زمانے میں ہم ان کے شاگرد تھے، اس وقت وہ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ ایڈوانس سٹڈیز کے منصب پر بھی فائز تھے۔ وہ ہمیں پہلے سمسٹر میں فزیالوجیکل کیمسٹری پڑھایا کرتے تھے۔ اپنی بے شمار ذمہ داریوں کے باعث وہ اپنے آفس میں جانے سے پہلے ، وہ ہماری کلاس صبح سویرے ساڑھے چھ بجے لیا کرتے تھے۔
وہ وقت کے پابند تھے اور ان خواہش ہوتی تھی طلبہ اس بات کو عملی طور پر سمجھیں کہ ساڑھے چھ کا مطلب چھ بج کر تیس منٹ ہوتا ہے ۔
ان کے پڑھانے کا انداز ایسا تھا سب طلبہ ان کی کلاس میں وقت سے پہلے کلاس میں موجود ہوتے ۔ وہ بڑی راونی سے شستہ انگریزی میں لیکچر دیا کرتے تھے۔
انہوں نے ہمیں فزیالوجیکل کیمسٹری کے اہم باب، کریبز سائیکل کو پڑھایا ۔
یہ کیمسٹری کا ایک پیچیدہ ری ایکشن ہے۔
جب ہم کھانا کھاتے ہیں، خاص طور پر گلوکوز (شکر)، کو جسم توڑ کر توانائی حاصل کرتا ہے۔ اس عمل میں توانائی ذخیرہ کرنے والے مالیکیول بنتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے۔
یہ ایک نہایت خشک موضوع تھا، جسے انہوں نے آسانی اور محبت سے ہمیں سمجھایا۔ اس زمانے میں اس سبجیکٹ کے عملی تجربات (پریکٹیکل) کروانے کے لیے ڈاکٹر بختیار شاہ صاحب زمہ داری سنبھالے ہوئے تھے۔
جامعہ میں بے شمار ٹیوٹوریل گروپس تھے، جہاں ڈاکٹر ابرار شاہ گیلانی کو بطور مہمان خصوصی بلایا جاتا تھا، جبکہ میں بھی اپنی فنکارانہ صلاحیتوں، یعنی ون مین شو کے ذریعے طلبہ کو محظوظ کرنے کے لیے وہیں موجود ہوتا تھا۔ میں اور میرا دوست حافظ طیب محمود پروگرام کے دوران طائف سناتے اور اس زمانے کے مشہور ٹی وی اور فلمی اداکاروں کی نقالی (ممکری) کیا کرتے تھے۔ ہم دونوں اس فنکاری کو “چُورل چلانا” کہتے تھے۔
ایسے ہی ایک پروگرام میں محترم ابرار حسین شاہ گیلانی بھی مدعو تھے۔ میں “چُورل چلانے” (ون مین شو) کے لیے اسٹیج پر گیا اور ایک لطیفہ سنایا۔ حاضرین میں سے ایک شرارتی لڑکے نے آواز لگائی: “کچھ نیا سناؤ!” اس پر میں نے برجستہ کہا: “ یار میں کوئی پروفیشنل تھوڑی ہوں۔ ٹیوٹوریل گروپ والوں کی دعوت پر آتا ہوں اور جو لطیفے ایک پروگرام میں سناتا ہوں، وہی دوسرے میں بھی۔
شاہ جی دیکھتے ہیں میں پھر آ گیا ہوں، اور میں سوچتا ہوں کہ استادِ محترم اس پروگرام میں بھی مہمانِ خصوصی بلا لیے گئے ہیں۔
شاہ جی کے احترام کی وجہ سے میرا تو ذہن ہی کام نہیں کرتا، نئے لطیفے کی اختراع کہاں سے کروں۔ میرے جیسے نالائقوں سے تو فزیالوجیکل کیمسٹری بھی پاس نہیں ہوتی۔ !”
اس پر استادِ محترم شاہ صاحب نے ہنستے ہوئے فرمایا: “فکر نہ کرو، محنت کرو، فزیالوجیکل کیمسٹری بھی پاس ہو جائے گی”۔”
یقیناً پروفیسر ڈاکٹر سید ابرار حسین گیلانی ایک شفیق و محبت کرنے والے استاد تھے۔ وہ ہمیشہ بے لوث ہو کر لوگوں کی رہنمائی، مدد اور حوصلہ افزائی کے لیے تیار رہتے تھے۔
وہ ایک اجلے نجیب و نفیس شخص تھے، جن کے چہرے پر ہمیشہ محبت اور مسکراہٹ سجی رہتی تھی۔ ان سے ملنے والا ہر شخص ان کے ساتھ احترام کا رشتہ قائم کر لیتا تھا۔
میں اور میرا روم میٹ خالد حسین لالہ زار کالونی والی مسجد میں جمع کی نماز پڑھنے گئے مسجد کے ممبر پر انہیں وعظ کرتا دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی۔
اساتذہ کے قبیلے میں ان کا اعلئ مقام تھا۔ اخروی زندگی میں بھی وہ اعلئ مقام پائیں گے کیونکہ وہ اخرت کی کامیابی سمیٹنے کا ہنر جانتے تھے۔
اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ درجات عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔