پولٹری فارمرز کی تربیت بیماریوں سے بچاؤ کا اصل راستہ

پاکستان کی پولٹری صنعت ملکی معیشت، روزگار، غذائی تحفظ اور عام صارفین کو سستی پروٹین فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس صنعت کی پائیدار ترقی صرف پیداوار بڑھانے سے ممکن نہیں بلکہ مرغیوں کی صحت، بیماریوں کی بروقت تشخیص، مؤثر بائیو سیکیورٹی، درست ویکسینیشن اور فارم مینجمنٹ کے اصولوں پر عمل درآمد سے وابستہ ہے۔

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن سدرن ریجن کے زیر اہتمام کراچی میں مرغیوں کی صحت اور بیماریوں سے حفاظت کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد ایک مثبت اور قابل تحسین قدم ہے۔ اس نوعیت کے پروگرام ظاہر کرتے ہیں کہ پولٹری صنعت کے نمائندہ ادارے اب علاج کے بجائے بیماریوں کی روک تھام، آگاہی اور عملی تربیت کی اہمیت کو زیادہ سنجیدگی سے سمجھ رہے ہیں۔

پولٹری فارمرز کو مسلسل تربیت کی ضرورت

موجودہ حالات میں پولٹری فارمرز کو سب سے زیادہ ضرورت مسلسل رہنمائی اور عملی تربیت کی ہے۔ مایکوپلازمہ، سانس کی بیماریاں، وائرل انفیکشنز، امیونوسپریشن، ویکسین فیلئر اور فارم سے فارم بیماریوں کی منتقلی جیسے مسائل صنعت کے لیے مسلسل چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

ان مسائل کا حل صرف ادویات کے استعمال میں نہیں بلکہ ایک منظم حفاظتی نظام میں موجود ہے۔ اگر فارمرز بیماریوں کی ابتدائی علامات، بائیو سیکیورٹی، ویکسینیشن، صفائی، وینٹی لیشن اور ریکارڈ کیپنگ کو بہتر انداز میں سمجھ لیں تو بڑے معاشی نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔

بائیو سیکیورٹی پر عملی توجہ ضروری

پولٹری فارم پر غیر ضروری آمد و رفت، آلودہ آلات، گاڑیوں، وزٹرز اور ورکرز کے ذریعے بیماریوں کی منتقلی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے فارمرز، فارم منیجرز اور فیلڈ اسٹاف کو بائیو سیکیورٹی کے عملی اصولوں پر باقاعدہ تربیت دینا ضروری ہے۔

فارم کے داخلی راستے، صفائی کا نظام، ڈس انفیکشن، حفاظتی لباس، وزٹر کنٹرول اور مردہ پرندوں کی محفوظ تلفی جیسے امور کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہی بنیادی اقدامات بیماریوں کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

بیماریوں کی بروقت تشخیص نقصان کم کر سکتی ہے

بیماری کی دیر سے تشخیص اکثر بڑے معاشی نقصان کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے پولٹری فارمرز کو بیماریوں کی مانیٹرنگ، ابتدائی علامات کی پہچان اور بروقت ویٹرنری ماہرین سے رابطے کے بارے میں تربیت دی جانی چاہیے۔

ایک مؤثر مانیٹرنگ سسٹم فارمر کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ کب بیماری کا خطرہ بڑھ رہا ہے، کب ویکسینیشن یا مینجمنٹ میں مسئلہ ہے اور کب فوری ماہر رائے کی ضرورت ہے۔

ویکسینیشن کے درست طریقہ کار پر آگاہی

پولٹری فارم پر ویکسینیشن صرف شیڈول کے مطابق ویکسین لگانے کا نام نہیں۔ اس کے لیے کولڈ چین، ویکسین کے محفوظ استعمال، درست وقت، درست طریقہ کار اور ویکسینیشن کے بعد مانیٹرنگ نہایت اہم ہیں۔

غیر مناسب یا تاخیر سے کی گئی ویکسینیشن نہ صرف غیر مؤثر ثابت ہو سکتی ہے بلکہ فارمر کے اعتماد اور سرمایہ دونوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس لیے ویکسینیشن پر عملی تربیتی سیشنز وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

فارم مینجمنٹ بیماریوں سے بچاؤ کی بنیاد

فارم ریکارڈ کیپنگ، فیڈ اور واٹر مینجمنٹ، وینٹی لیشن، امونیا کنٹرول، صفائی، ڈس انفیکشن اور مردہ پرندوں کی محفوظ تلفی جیسے بنیادی امور کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ یہی پہلو بیماریوں کی شدت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کو چاہیے کہ وہ اپنے ممبران، فارمرز، فارم منیجرز اور فیلڈ اسٹاف کے لیے باقاعدہ ورکشاپس، ٹریننگ سیشنز اور فیلڈ ڈیمانسٹریشنز کا سلسلہ شروع کرے تاکہ تربیت صرف لیکچر تک محدود نہ رہے بلکہ عملی سطح پر فارم تک پہنچ سکے۔

ایسوسی ایشن کا کردار مزید مضبوط ہونا چاہیے

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن صرف نمائندہ فورم کے طور پر نہیں بلکہ ایک عملی رہنمائی مرکز کے طور پر بھی اپنا کردار مضبوط کرے۔ سندھ اور بلوچستان سمیت ملک بھر کے پولٹری فارمرز کو جدید سائنسی معلومات، مقامی حالات کے مطابق مشورے اور بیماریوں کے بدلتے ہوئے رجحانات سے بروقت آگاہ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

کراچی میں ہونے والا سیمینار ایک مثبت آغاز ہے۔ اب اس سلسلے کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھانا چاہیے تاکہ پولٹری فارمرز بیماری آنے کے بعد نقصان اٹھانے کے بجائے بیماری سے پہلے بچاؤ کی حکمت عملی اختیار کر سکیں۔

صنعت کا محفوظ مستقبل مشترکہ نظام سے وابستہ ہے

پولٹری صنعت کا مستقبل اسی وقت محفوظ ہو گا جب فارمرز، ویٹرنری ماہرین، ایسوسی ایشنز، فیڈ کمپنیاں، ویکسین کمپنیاں اور پالیسی ساز ایک مشترکہ حفاظتی نظام کے تحت کام کریں گے۔

بیماریوں سے بچاؤ صرف ایک فارم کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری صنعت کی بقا، منافع، روزگار اور صارفین کو محفوظ خوراک کی فراہمی کا معاملہ ہے۔

ڈاکٹر خالد محمود شوق

جواب دیں