پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کا آئینی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کا آئینی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم

لاہور، پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے تاریخی فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملکی پولٹری صنعت کے لیے ایک عظیم کامیابی اور بقا کی ضمانت قرار دیا ہے۔

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کی قیادت، جس میں چیئرمین عبدالباسط، سینئر وائس چیئرمین مسٹر غلام خالق اور وائس چیئرمین ملک محمد شریف شامل ہیں، نے اس فیصلے کو پاکستان کی پولٹری صنعت کی پائیدار ترقی اور استحکام کی جانب ایک اہم پیش پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پولٹری سیکٹر ملک میں سستی اور معیاری پروٹین کی فراہمی اور قومی غذائی تحفظ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محمد کریم خان آغا پر مشتمل بینچ نے اپنے فیصلے میں لاہور ہائی کورٹ کے سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 3 کے تحت پولٹری فیڈ تیار کرنے والے اداروں پر چار فیصد اضافی 4 فیصد "فردر ٹیکس” عائد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ اپنی مصنوعات ایسے پولٹری فارمرز کو فروخت کرتے ہیں جو قانون کے تحت سیلز ٹیکس رجسٹریشن سے مستثنیٰ ہیں۔

بے لوث خدمات پر خراجِ تحسین

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کی قیادت نے ڈاکٹر ایف۔ ایم۔ صابر کی بے لوث خدمات، مسلسل جدوجہد اور پولٹری صنعت کے مفادات کے تحفظ کے لیے ان کی انتھک کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صابر کی قانونی اور پالیسی سطح پر مسلسل حمایت اور رہنمائی اس تاریخی ریلیف کے حصول میں نہایت اہم ثابت ہوئی، خصوصاً ایسے وقت میں جب پولٹری فارمرز اور اس شعبے سے وابستہ کاروبار شدید معاشی دباؤ کا شکار تھے۔

حکومت سے ٹیکسز کے خاتمے کا مطالبہ

عدالت کے اس تاریخی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایسوسی ایشن نے اس امر پر بھی زور دیا کہ کئی مالیاتی اور ٹیکس سے متعلقہ بے ضابطگیاں اب بھی پولٹری صنعت پر بوجھ بنی ہوئی ہیں اور اس کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر دو اہم ٹیکس مسائل کا حل نکالے جو پیداوار، صارفین اور برآمدات کی مسابقتی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

ایسوسی ایشن نے ڈے اولڈ چکس پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکس پولٹری پیداوار کے ابتدائی مرحلے میں ہی پیداواری لاگت میں غیر ضروری اضافہ کرتا ہے، جس کا بوجھ براہِ راست کسانوں اور بالآخر صارفین پر منتقل ہوتا ہے۔

اسی طرح ایسوسی ایشن نے پراسیسڈ چکن پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس کے فوری خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق یہ بھاری ٹیکس ویلیو ایڈڈ پولٹری پراسیسنگ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، سپلائی چین کی جدیدکاری میں رکاووٹ بنتا ہے اور پراسیسڈ پولٹری مصنوعات کی برآمدات کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ نتیجتاً پاکستان قیمتی زرمبادلہ کمانے اور بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے اہم مواقع سے محروم ہو جاتا ہے۔

عدالتی فیصلے کی قانونی وضاحت

وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے نے زرعی شعبے کو حاصل استثنیٰ اور ٹیکس رجسٹریشن کی شرائط کے درمیان موجود ایک دیرینہ قانونی ابہام کو بھی دور کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا

"قانون کے تحت مستثنیٰ افراد کے لیے سیلز ٹیکس رجسٹریشن لازمی نہیں ہے۔ لہٰذا درخواست گزار، جو پولٹری فارمرز ہیں، رجسٹریشن کے پابند نہیں۔ ایسی صورت میں پولٹری فیڈ مینوفیکچررز کو فردر ٹیکس کی ادائیگی کا ذمہ دار قرار دینا، جس کا بوجھ بالآخر پولٹری فارمرز پر منتقل ہوگا، نہ صرف غیر منصفانہ ہوگا بلکہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے نظام کے بھی منافی ہوگا۔”

عدالت نے سیلز ٹیکس ایکٹ کی متعلقہ دفعات میں ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے واضح کیا کہ صرف اس بنیاد پر کہ خریدار مستثنیٰ پولٹری فارمرز ہیں، فیڈ مینوفیکچررز پر کسی قسم کی اضافی ٹیکس ذمہ داری یا تعزیری کارروائی عائد نہیں کی جا سکتی۔

صنعت کا مستقبل اور عزم

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے مطابق یہ فیصلہ ملک بھر میں موجود ہزاروں چھوٹے اور درمیانے درجے کے پولٹری فارمز کے تحفظ اور شعبے میں استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ایسوسی ایشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولٹری صنعت پاکستان میں سستے حیوانی پروٹین، روزگار کے مواقع اور زرعی ترقی کے اہم ترین ذرائع میں سے ایک ہے۔ اس نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ عدالت کے فیصلے کی روح کے مطابق غیر ضروری اور غیر منصفانہ ٹیکسوں کا خاتمہ کریں اور ایسا کاروبار دوست ماحول فراہم کریں جو سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، غذائی تحفظ اور برآمدات کے فروغ میں معاون ثابت ہو۔

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے امید ظاہر کی کہ وفاقی حکومت پولٹری سیکٹر کے لیے ٹیکس نظام کو معقول اور متوازن بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے گی تاکہ صارفین کو سستا پروٹین، صنعت کو پائیدار ترقی اور قومی معیشت کو برآمدات کے ذریعے مزید تقویت حاصل ہو سکے۔

شفیق احمد
پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن

جواب دیں