
تحریر: سہیل احمد
جب بھی انڈوں کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو صارفین خوش ہوتے ہیں، لیکن پاکستان میں کسی بھی پولٹری فارمر سے پوچھیں تو وہ آپ کو ایک مختلف حقیقت بتائے گا۔ یہ بظاہر ’’سستا انڈا‘‘ فارمر کو بہت مہنگا پڑ رہا ہے۔
آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟
چند سال پہلے پاکستان میں پولٹری فارمنگ ایک انتہائی منافع بخش کاروبار تھا۔ اچھے منافع نے بہت سے نئے سرمایہ کاروں کو اس شعبے کی طرف راغب کیا۔ نتیجتاً کیج ہاؤسز کی تعمیر اور لیئر پرندوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔ تاہم اس پہلو پر مناسب منصوبہ بندی نہیں کی گئی کہ اگر تمام سرمایہ کار ایک ہی وقت میں پیداواری صلاحیت بڑھائیں گے تو مارکیٹ پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ 2024 اور 2025 کے دوران چوزوں کی پلیسمنٹ میں بھی خاطر خواہ کمی نہیں آئی۔ عام طور پر سال کی پہلی ششماہی میں پلیسمنٹ زیادہ ہوتی ہے، لیکن اس مرتبہ یہ سلسلہ تقریباً مسلسل جاری رہا۔ زیادہ پلیسمنٹ کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں زیادہ مرغیاں انڈے دینا شروع کر دیتی ہیں، جبکہ مقامی مارکیٹ اتنی اضافی پیداوار جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
اس کے بعد برآمدات کے مسائل نے صورت حال کو مزید سنگین بنا دیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور بحری ترسیلی راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی انڈوں کی برآمدات متاثر ہوئیں، جبکہ مال برداری کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا۔ جو انڈے بیرونِ ملک برآمد ہونے تھے، وہ مقامی مارکیٹ میں ہی فروخت کے لیے موجود رہے، جس سے رسد بڑھی اور قیمتوں پر مزید دباؤ آیا۔
یہ مسائل قیمتیں مقرر کرنے، مصنوعی حد بندی یا گھبراہٹ میں فروخت کرنے سے حل نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے ہمیں درج ذیل عملی اقدامات کی ضرورت ہے:
لیئر فلاکس اور مجموعی پیداواری صلاحیت کی بہتر منصوبہ بندی کی جائے، تاکہ منافع بخش برسوں میں تمام فارمرز بیک وقت غیر ضروری توسیع نہ کریں۔
انڈوں کی گریڈنگ، پروسیسنگ اور کولڈ چین میں حقیقی سرمایہ کاری کی جائے، تاکہ ہماری برآمدات صرف کچے خول دار انڈوں تک محدود نہ رہیں۔
مقامی سطح پر فیڈ اور اناج کی پیداوار بڑھانے کے لیے معاون پالیسیوں اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے، تاکہ پیداواری لاگت کم کی جا سکے۔
اگر پولٹری فارمرز خاموشی سے یہ نقصانات برداشت کرتے رہے تو مستقبل میں ملک کو انڈوں کی فراہمی کے کہیں زیادہ بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آج فارمر کا تحفظ دراصل کل پاکستان کی غذائی سلامتی کا تحفظ ہے۔

اچھی خبر کیا ہے؟
پاکستان پہلے ہی سفید انڈوں کی معقول مقدار برآمد کر رہا ہے۔ بہتر گریڈنگ، معیار اور تازگی پر زیادہ توجہ دے کر ان برآمدات میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ایک اہم موقع براؤن انڈوں کی پیداوار میں بھی موجود ہے۔ براؤن ایگ لیئر فلاکس کی پلیسمنٹ سے افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کی نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے، جہاں براؤن انڈوں کی نمایاں طلب پائی جاتی ہے۔ پیداوار میں تنوع پاکستان کی پولٹری انڈسٹری کے لیے اپنی برآمدی منڈی اور عالمی تجارتی موجودگی بڑھانے کا ایک مؤثر موقع ثابت ہو سکتا ہے۔
آپ کے خیال میں موجودہ صورت حال آئندہ کس سمت جائے گی؟ پولٹری انڈسٹری سے وابستہ افراد اپنی آرا اور تجزیہ ضرور شیئر کریں۔