پی وی ایم سی کا فیڈ ملز، ویٹرنری کمپنیوں اور فارم مالکان کو رجسٹریشن کی تجدید کا آخری نوٹس

اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر)
پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل (PVMC) نے ملک بھر کی پولٹری و ڈیری فیڈ ملز، ویٹرنری مارکیٹنگ کمپنیوں اور فارم مالکان کو رجسٹریشن کی تجدید (Renewal) کے حوالے سے آخری نوٹس جاری کر دیا ہے۔ یہ نوٹس PVMC کی سیکرٹری/رجسٹرار ڈاکٹر شبنم فردوس کی جانب سے باقاعدہ مراسلت کے ذریعے جاری ہوا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق PVMC نے 30 جنوری، 26 مئی اور 4 اگست 2025 کو متعدد بار ان اداروں سے رجسٹریشن ریکارڈ اور تجدید کا عمل مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں، تاہم بہت سے اداروں نے ابھی تک مطلوبہ تعمیل نہیں کی۔

پی وی ایم سی نے نوٹس میں اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں بڑی تعداد میں غیر مستند افراد (Quacks) ڈاکٹر کا ٹائٹل استعمال کر رہے ہیں، غیرقانونی کلینکس چلا رہے ہیں اور ویٹرنری سائن بورڈز اور وزیٹنگ کارڈز کے ذریعے کسانوں اور لائیوسٹاک مالکان کو گمراہ کر رہے ہیں۔

۔ پی وی ایم سی کے مطابق اس صورتحال سے نہ صرف کسانوں اور فارم مالکان کو بھاری مالی نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ ملک کی مجموعی زرعی معیشت بھی منفی اثرات کا شکار ہو رہی ہے، جبکہ وزیراعظم کی پرفارمنس ڈلیوری یونٹ (PVMC) کو بھی ایسے معاملات پر مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر شبنم فردوس نے تمام متعلقہ کمپنیوں، فیڈ ملز اور فارم مالکان کو دوٹوک ہدایت جاری کی ہے

کہ وہ فوری طور پر اپنی رجسٹریشن کی تجدید مکمل کریں، بصورتِ دیگر پی وی ایم سی ایکٹ 1996 اور متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید کہا گیا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں ایسے کیسز سیکرٹری لائیوسٹاک، چیف سیکرٹری اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھجوائے جائیں گے تاکہ لائیوسٹاک سیکٹر کو غیر مستند اور غیر تربیت یافتہ افراد کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ پی وی ایم سی نے واضح کیا ہے کہ رجسٹریشن اور اس کی بروقت تجدید کا بنیادی مقصد ویٹرنری سروسز میں شفافیت کو یقینی بنانا، جعلی ڈاکٹرز کی سرگرمیوں کی روک تھام کرنا اور قومی لائیوسٹاک سیکٹر کا مؤثر تحفظ فراہم کرنا ہے۔ آخر میں کونسل نے تمام اداروں سے فوری جواب اور مکمل تعاون کی درخواست کی ہے۔