امریکہ میں لیبارٹری اینیمل ویٹرنری شعبے پر نئی رپورٹ، خواتین کی شرح 70 فیصد سے تجاوز

امریکہ میں لیبارٹری اینیمل ویٹرنری شعبے پر نئی رپورٹ، خواتین کی شرح 70 فیصد سے تجاوز

نئی امریکی رپورٹ کے مطابق لیبارٹری اینیمل ویٹرنری میڈیسن میں 70.3 فیصد خواتین خدمات انجام دے رہی ہیں، جبکہ اوسط سالانہ آمدنی 201,879 ڈالر ریکارڈ کی گئی

امریکہ میں لیبارٹری جانوروں کی ویٹرنری میڈیسن کے شعبے پر جاری ہونے والی ایک نئی جامع رپورٹ نے اس پیشے کے اندر ایک اہم رجحان کو نمایاں کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس شعبے میں کام کرنے والے ویٹرنری ماہرین میں خواتین کی واضح اکثریت موجود ہے اور ان کی شرح 70.3 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ لیبارٹری اینیمل ویٹرنری میڈیسن تیزی سے ایک ایسا تخصصی شعبہ بنتا جا رہا ہے جہاں خواتین نہ صرف بڑی تعداد میں موجود ہیں بلکہ تحقیق، انتظامی ذمہ داریوں اور کلینیکل خدمات میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

یہ رپورٹ “2025 Laboratory Animal Veterinarian Workforce Demographic and Salary Report” کے عنوان سے شائع کی گئی ہے، جسے امریکن کالج آف لیبارٹری اینیمل میڈیسن (ACLAM) اور امریکن سوسائٹی آف لیبارٹری اینیمل پریکٹیشنرز (ASLAP) نے امریکن ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن (AVMA) کے تعاون سے مشترکہ طور پر جاری کیا۔ رپورٹ میں امریکہ میں لیبارٹری اینیمل ویٹرنری ماہرین کی افرادی قوت، پیشہ ورانہ ساخت، تنخواہوں، مراعات اور مستقبل کے رجحانات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

یہ تفصیلی رپورٹ گزشتہ سال اپریل اور مئی میں کیے گئے ایک سروے پر مبنی ہے، جس میں 626 ویٹرنری ڈاکٹرز نے شرکت کی۔ یہ تمام شرکاء وہ ماہرین تھے جنہوں نے 2024 میں لیبارٹری اینیمل میڈیسن کو اپنا بنیادی پیشہ قرار دیا اور جو امریکہ میں اس شعبے سے عملی طور پر وابستہ تھے۔

رپورٹ کے مطابق 2024 میں لیبارٹری اینیمل ویٹرنری ماہرین کی اوسط سالانہ آمدنی 201,879 امریکی ڈالر رہی۔ اس سے پہلے 2022 میں یہ اوسط 181,291 ڈالر اور 2020 میں 167,989 ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مہنگائی کو مدنظر رکھنے کے بعد حقیقی آمدنی میں اضافہ اتنا نمایاں نہیں جتنا بظاہر اعداد و شمار سے محسوس ہوتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس شعبے میں کام کرنے والے ویٹرنری ماہرین کا اوسط پیشہ ورانہ تجربہ 14 سال ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ آمدنی پر اثر انداز ہونے والے بڑے عوامل میں پیشہ ورانہ تجربہ، ملازمت کی نوعیت اور ڈپلومیٹ اسٹیٹس شامل ہیں۔

نسلی و سماجی پس منظر کے اعتبار سے رپورٹ کے مطابق اس شعبے میں اکثریت سفید فام یا Caucasian ویٹرنری ماہرین کی ہے، جن کی شرح 74.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد ایشیائی 9.3 فیصد، افریقی نژاد امریکی یا سیاہ فام 6.6 فیصد، جبکہ ہسپانوی یا لاطینی پس منظر رکھنے والے افراد 5.8 فیصد ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ لیبارٹری اینیمل ویٹرنری ماہرین اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے تحت زیادہ تر وقت جانوروں کی لیبارٹری سہولیات کے انتظام و انصرام، کلینیکل میڈیسن اور سرجری کی خدمات، اور Institutional Animal Care and Use Committee (IACUC) سے متعلق امور پر صرف کرتے ہیں۔

ملازمت کے شعبوں کے لحاظ سے 2024 میں فعال طور پر کام کرنے والے 559 ویٹرنری ماہرین میں سے 55.81 فیصد اکیڈمیا، 20.04 فیصد انڈسٹری، اور 12.16 فیصد غیر منافع بخش اداروں یا ہسپتالوں میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ باقی افراد سول سروس اور پروفیشنل کنسلٹنسی جیسے شعبوں سے وابستہ پائے گئے۔

فل ٹائم کام کرنے والے ویٹرنری ماہرین کی میڈین سالانہ آمدنی 188,850 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ مختلف شعبوں میں آمدنی کا فرق بھی نمایاں رہا، جہاں سول سروس میں اوسط آمدنی 176,500 ڈالر جبکہ انڈسٹری میں 204,000 ڈالر تک ریکارڈ کی گئی۔

جغرافیائی اعتبار سے بھی آمدنی میں فرق دیکھا گیا۔ بڑے میٹروپولیٹن شہروں میں کام کرنے والے ماہرین کی میڈین آمدنی 196,100 ڈالر رہی، درمیانے درجے کے شہروں میں یہ 192,000 ڈالر جبکہ دیہی علاقوں میں 186,000 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق 29.9 فیصد ویٹرنری ماہرین کو اوسطاً 7,294 ڈالر کا بونس ملا، جبکہ 11.8 فیصد افراد کو اسٹاک آپشنز بھی دیے گئے جن کی اوسط مالیت 11,271 ڈالر تھی۔ مزید یہ کہ 27.2 فیصد ویٹرنری ماہرین کے پاس اضافی آمدنی کا دوسرا ذریعہ بھی موجود تھا۔

کام کے طریقہ کار کے حوالے سے زیادہ تر ویٹرنری ماہرین اداروں میں موجود ہو کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں، تاہم کچھ جگہوں پر ہائبرڈ اور ریموٹ ماڈل بھی اختیار کیے جا رہے ہیں۔ سروے کے مطابق 3.58 فیصد افراد چار دنوں پر مشتمل دس گھنٹے روزانہ کے شیڈول پر کام کرتے ہیں، 20.39 فیصد ہائبرڈ ماڈل اپناتے ہیں، جبکہ 2.86 فیصد مکمل ریموٹ انداز میں خدمات انجام دیتے ہیں۔

مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ صرف 3.24 فیصد ویٹرنری ماہرین نے اس شعبے کو چھوڑنے کا ارادہ ظاہر کیا، جبکہ 85.23 فیصد نے اسی یا اس سے بہتر عہدے پر کام جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کے علاوہ 6.13 فیصد افراد نے ریٹائرمنٹ یا کم ذمہ داری والے عہدوں کی طرف جانے کا عندیہ دیا۔

اپنے ادارے میں برقرار رہنے کی اہم وجوہات میں ملازمت کا مقام (22.84 فیصد)، ادارے کا ماحول (21.60 فیصد)، اور کام کی اہمیت (14.81 فیصد) شامل ہیں، جبکہ معاوضہ اور مراعات (13.89 فیصد) کو بھی اہم قرار دیا گیا۔ دوسری جانب ادارہ چھوڑنے کی سب سے بڑی وجہ کام کی جگہ کا ماحول یا ورک فورس کلچر (28.6 فیصد) سامنے آئی۔

رپورٹ کے تجزیے کی بنیاد پر ACLAM اور ASLAP کی ورک فورس ڈیموگرافک کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ اس شعبے میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع بڑھائے جائیں، ریزیڈنسی پروگراموں کے لیے درخواست دہندگان کی تعداد میں اضافہ کیا جائے، اور ویٹرنری ڈاکٹرز کو لیبارٹری اینیمل میڈیسن میں آنے کے لیے مزید ترغیبات فراہم کی جائیں۔

رپورٹ AVMA Store پر دستیاب ہے، جہاں یہ AVMA ممبران کے لیے مفت جبکہ غیر ممبران کے لیے 275 امریکی ڈالر میں فراہم کی جا رہی ہے۔