PVMC نے PPSC اشتہار 51/2025 پر اہم قانونی و تکنیکی اعتراضات اٹھا دیے
BS-16 کی جگہ BS-17 کی سفارِش، اہلیت صرف رجسٹرڈ RVMPs اور RAHGs تک محدود کرنے کا مطالبہ
پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل (PVMC) نے صدر پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ کی قیادت اور ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ڈاکٹر ارشد کی رہنمائی میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے اشتہار نمبر 51/2025 کے تحت ویٹرنری آفیسر (BS-16) اور ویٹرنری اسپیشلسٹ (BS-17) کی آسامیوں سے متعلق اہم قانونی و تکنیکی اعتراضات باضابطہ طور پر اٹھا دیے ہیں اور معاملہ PVMC ایکٹ 1996 کے تناظر میں نظرِ ثانی کے لیے چیئرمین PPSC اور متعلقہ حکام کو بھجوا دیا ہے۔ کونسل کا آفیشل مؤقف سیکریٹری/رجسٹرار ڈاکٹر شبنم فردوس کے دستخط سے سرکاری مراسلہ نمبر F.No. PVMC-11-2026/16291 مورخہ 8 جنوری 2026 کے ذریعے جاری ہوا، جبکہ خط کی قانونی و تکنیکی تفصیلات ڈپٹی رجسٹرار PVMC ڈاکٹر سردار ذارق خان نے ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز کو فراہم کیں۔
ڈاکٹر سردار ذارق خان نے بتایا کہ پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل نے اشتہار نمبر 51/2025 میں دی گئی ویٹرنری آفیسر (BS-16) اور ویٹرنری اسپیشلسٹ (BS-17) کی آسامیوں پر اہم قانونی اور تکنیکی اعتراضات اٹھاتے ہوئے چیئرمین PPSC کو باضابطہ مراسلہ ارسال کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ اشتہار موجودہ سروس رولز اور PVMC Act کے ساتھ مکمل ہم آہنگ نہیں۔
یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن (PVMA) ملتان ڈویژن کے صدر ڈاکٹر وسیم رفیق چوہدری نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے اشتہار نمبر 51/2025 میں سکیل، اہلیت اور رجسٹریشن سے متعلق متعدد بے ضابطگیوں کی بروقت نشاندہی کی۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ ویٹرنری آفیسر کی پوسٹ کو BS-16 میں مشتہر کیا گیا ہے اور اہلیت میں ایسے امیدوار بھی شامل ہیں جن کی PVMC رجسٹریشن سے مطابقت واضح نہیں۔ ڈاکٹر وسیم رفیق نے یہ معاملہ فوری طور پر ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز کے ساتھ شیئر کیا، جس پر VNV نے اشتہار، قواعد اور متعلقہ قانونی نکات کا تفصیلی جائزہ لے کر اسے صحافتی طور پر اجاگر کیا، جس کے بعد PVMC نے سرکاری سطح پر خط جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔
PVMC کے سرکاری مراسلے میں سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا کہ کونسل PVMC Act 1996 کے تحت قائم ایک قانونی ریگولیٹری ادارہ ہے، جس کا مینڈیٹ ویٹرنری پیشہ ورانہ تعلیم، اداروں کی منظوری اور ویٹرنری و اینیمل ہسبینڈری پروفیشنلز کی رجسٹریشن کو منظم کرنا ہے۔ مراسلے میں لکھا گیا کہ پانچ سالہ DVM (Doctor of Veterinary Medicine) اور چار سالہ B.Sc. (Hons) Animal Husbandry پوسٹ انٹرمیڈیٹ پروفیشنل ڈگریاں ہیں، جو سرکاری سروس اسٹرکچر میں کم از کم BS-17 میں تقرری کی اہل بناتی ہیں۔ اسی لیے ویٹرنری آفیسر کی پوسٹ کو BS-16 میں مشتہر کرنا طے شدہ سروس رولز، اہلیت کے معیار اور پروفیشنل ہم پلہی سے مطابقت نہیں رکھتا اور اس سے ویٹرنری پروفیشنلز کی سروس شناخت، مورال اور میرٹ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
مراسلے میں یاد دہانی کروائی گئی کہ PVMC اس سے پہلے بھی مورخہ 30 جنوری 2025 کے سرکاری خط نمبر PVMC/9-RVMP/2025/15894 کے ذریعے حکومت اور متعلقہ اداروں کو واضح طور پر آگاہ کر چکا ہے کہ صرف PVMC سے منظور شدہ اور رجسٹرڈ ویٹرنری ڈاکٹرز (RVMPs) اور رجسٹرڈ Animal Husbandry Graduates (RAHGs) ہی سرکاری و نجی شعبے میں کسی بھی ویٹرنری پوسٹ پر تقرری کے اہل ہیں۔ اسی تسلسل میں اب جاری کیے گئے نئے مراسلے میں PVMC Act 1996 کی دفعہ 19(1) کا متن بھی درج کیا گیا ہے، جس کے مطابق:
“کسی بھی موجودہ قانون کے برخلاف، صرف ایک رجسٹرڈ ویٹرنری پریکٹیشنر کو نجی یا سرکاری شعبے میں کسی بھی ویٹرنری عہدے پر فائز ہونے کی اجازت ہے۔”
PVMC نے واضح کیا کہ اس قانونی شق سے کسی بھی قسم کا انحراف براہِ راست PVMC Act 1996 کی خلاف ورزی شمار ہوگا۔ مزید برآں، کونسل کے اجلاس مورخہ 25 دسمبر 2024 کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے مراسلے میں دوٹوک الفاظ میں دہرایا گیا کہ صرف PVMC-رجسٹرڈ RVMPs اور RAHGs ہی کسی بھی ویٹرنری پوسٹ کے اہل ہیں اور کوئی دوسری ڈگری، خواہ وہ فیلڈ سے کتنی ہی متعلقہ کیوں نہ ہو، PVMC رجسٹریشن کے بغیر ویٹرنری عہدے پر تقرری کا متبادل نہیں بن سکتی۔
اسی قانونی اور تکنیکی بنیاد پر PVMC نے PPSC سے سفارش کی ہے کہ اشتہار نمبر 51/2025 کے تحت سیریل نمبر 543 میں ویٹرنری آفیسر کی اسامی کو BS-16 سے بڑھا کر BS-17 کیا جائے، تاکہ DVM اور B.Sc. (Hons) Animal Husbandry گریجوئیٹس کے تسلیم شدہ سرکاری سکیل کے ساتھ ہم آہنگی پیدا ہو سکے۔ مزید یہ کہ سیریل نمبر 543 اور 544 دونوں میں اہلیت کو صرف PVMC رجسٹرڈ DVM ویٹرنری ڈاکٹرز (RVMPs) اور رجسٹرڈ Animal Husbandry Graduates (RAHGs) تک محدود رکھا جائے اور ایسے تمام امیدوار جو PVMC رجسٹریشن کے بغیر کسی بھی دوسری ڈگری یا کوالیفکیشن کے حامل ہوں، انہیں نااہل قرار دیا جائے، کیونکہ ایسی تقرری براہِ راست PVMC Act 1996 کی دفعہ 19(1) اور قائم شدہ ریگولیٹری پریکٹس کی خلاف ورزی ہوگی۔
قانونی و تکنیکی تشریح PVMC کے ڈپٹی رجسٹرار ڈاکٹر سردار ذارق خان نے ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز سے خصوصی گفتگو میں کی۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کا مقصد کسی ادارے کو ہدف بنانا نہیں بلکہ ویٹرنری پروفیشن کے حقوق، سروس اسٹرکچر اور قانونی وقار کا تحفظ ہے۔ ان کے مطابق صدر PVMC پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ اور ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ڈاکٹر ارشد کی رہنمائی میں کونسل نے اشتہار، قوانین اور پچھلے فیصلوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ موقف اختیار کیا کہ ویٹرنری پوسٹس پر صرف PVMC رجسٹرڈ پروفیشنلز ہی تعینات ہو سکتے ہیں، اور BS-16 میں ویٹرنری آفیسر کی پوسٹ مشتہر کرنا نہ قانونی طور پر درست ہے اور نہ ہی پروفیشنل انصاف کے مطابق۔ ڈاکٹر سردار ذارق خان نے یہ بھی واضح کیا کہ PVMC آئندہ بھی رجسٹرڈ ویٹرنری اور اینیمل ہسبینڈری پروفیشنلز کے حقوق اور سروس اسٹرکچر کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرتی رہے گی۔
دوسری جانب PVMA ملتان ڈویژن کے صدر ڈاکٹر وسیم رفیق چوہدری نے ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز کے ذریعے اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف سکیل کا مسئلہ نہیں بلکہ ویٹرنری پروفیشن کے مستقبل، اس کے قانونی حق اور نوجوان گریجوئیٹس کے کیریئر کا سوال ہے۔ ان کے مطابق فیلڈ سطح پر PVMA کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر ایسی پالیسی یا اشتہار پر نظر رکھے جو پروفیشن کے سروس اسٹرکچر اور وقار کو متاثر کرے، جب کہ PVMC ادارہ جاتی سطح پر ریگولیٹری نگرانی اور قانونی تحفظ فراہم کرتی ہے، اور میڈیا بالخصوص Veterinary News & Views اس پورے عمل کو شفاف بناتا ہے۔
PVMC کے سرکاری مراسلے کی نقول صدر PVMC پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ، معزز وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکریٹری پنجاب، وزیر لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ پنجاب اور سیکریٹری لائیوسٹاک پنجاب کو بھی ارسال کی گئی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کونسل نے اس معاملے کو اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر اٹھایا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد اب ذمہ داری پنجاب حکومت اور PPSC پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اشتہار کی اصلاح کرتے ہوئے سکیل، اہلیت اور قانونی تقاضوں کو درست کریں، تاکہ ویٹرنری پروفیشنلز کے حقوق، میرٹ اور سروس اسٹرکچر کا مؤثر طور پر تحفظ ہو سکے۔ ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز اس اہم معاملے کی آئندہ پیش رفت پر مسلسل نظر رکھے گا اور پروفیشن سے متعلق ہر اہم ترقی سے قارئین کو بروقت آگاہ کرتا رہے گا۔