گومل یونیورسٹی میں ڈین فیکلٹی آف ویٹرنری سائنس کی تعیناتی — پی وی ایم سی رجسٹریشن لازمی قرار

گومل یونیورسٹی میں ڈین فیکلٹی آف ویٹرنری سائنس کی تعیناتی — پی وی ایم سی رجسٹریشن لازمی قرار

اسلام آباد / ڈیرہ اسماعیل خان — پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل (PVMC) نے اپنے تازہ مراسلے میں واضح کیا ہے کہ ملک کے کسی بھی ویٹرنری ایجوکیشن ادارے میں ڈین، پرنسپل یا سربراہ کی تقرری کے لیے PVMC کی باقاعدہ رجسٹریشن بنیادی اور قانونی تقاضا ہے۔ کونسل کے مطابق یہ شرط PVMC Act 1996 اور متعلقہ سروس رولز کے تحت لازمی ہے، جس کا مقصد ویٹرنری تعلیم کا معیار، پیشہ ورانہ نگرانی، اور ملکی و عالمی سطح پر ڈگری کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھنا ہے۔

اہم نوٹ: کسی بھی ویٹرنری ایجوکیشن ادارے میں ڈین، پرنسپل یا سربراہ کی تعیناتی صرف ایسے فرد کو دی جا سکتی ہے جو پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل کا باقاعدہ رجسٹرڈ ممبر ہو۔

گومل یونیورسٹی سے متعلق اطلاعات

موصولہ اطلاعات کے مطابق گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں فیکلٹی آف ویٹرنری سائنس کے موجودہ ڈین کے بارے میں یہ نشاندہی سامنے آئی ہے کہ وہ PVMC کے رجسٹرڈ ممبر نہیں ہیں۔ اگر یہ معلومات درست ہیں تو یہ صورتحال کونسل کے قوانین اور ویٹرنری ایجوکیشن کے مقررہ معیار کے خلاف تصور کی جا رہی ہے۔ PVMC کے مطابق غیر رجسٹرڈ فرد کو ویٹرنری ادارے کی سربراہی سونپنے سے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ ڈگری کی منظوری، طلبہ کے مستقبل اور ادارے کی ساکھ پر بھی براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔

PVMC نے اپنے مراسلے میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ویٹرنری تعلیم اور اس سے متعلقہ عہدوں کی ذمہ داریاں صرف انہی افراد کے سپرد کی جا سکتی ہیں جو قانونی طور پر رجسٹرڈ ویٹرنری پروفیشنلز ہوں اور جنہیں کونسل میں رسمی طور پر تسلیم کیا گیا ہو۔ کونسل کا کہنا ہے کہ ویٹرنری اداروں کی سربراہی ایسے افراد کے پاس ہونا ضروری ہے جو شعبے کی داخلی حرکیات، سائنسی تقاضوں اور تعلیمی ذمہ داریوں سے مکمل واقف ہوں۔

مراسلے کے بعد شعبے میں اس معاملے پر نمایاں بحث جاری ہے اور تعلیمی و پیشہ ور حلقے توقع کر رہے ہیں کہ گومل یونیورسٹی انتظامیہ PVMC کے تقاضوں کے مطابق تعیناتی سے متعلق اپنا باضابطہ موقف پیش کرے گی۔ کونسل نے تمام ویٹرنری اداروں کو یاد دہانی کرائی ہے کہ قانون کے مطابق تقرریاں یقینی بنائی جائیں تاکہ ملکی سطح پر ویٹرنری تعلیم کی شناخت، قانونی حیثیت اور پیشہ ورانہ وقار برقرار رہ سکے۔