اعلیٰ تعلیم کی تبدیلی کے لیے پرعزم روڈ میپ کا اعلان

لاہور: پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے پانچ سالہ ’’گورننس و انسٹی ٹیوشنل ریفارمز اسٹریٹجک پلان/ایکٹیویٹی روڈ میپ (2025–29)‘‘ کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد گورننس کو ازسرنو ترتیب دینا، تعلیمی و تحقیقی معیار کو بلند کرنا اور پنجاب کی یونیورسٹیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔

ڈاکٹر اقرار احمد خان نے کہا کہ یہ منصوبہ ’’اعتماد، تخلیقی صلاحیت اور اہمیت‘‘ کی طرف ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ اسٹریٹجی میں معیار اور مقدار کے توازن کے ساتھ پی ایچ ڈی پیداوار، بین المضامینی تحقیق اور معاشرتی شمولیت پر زور دیا گیا ہے۔

سات ترجیحی نکات

چیئرمین کے مطابق منصوبہ سات ترجیحی نکات پر مبنی ہے:

گورننس اصلاحات اور ادارہ جاتی خودمختاری

معیار میں بہتری

تدریسی و تحقیقی جدت

کارکردگی سے منسلک فنڈنگ

سماجی شمولیت

ہیومن کیپیٹل ڈیولپمنٹ

ٹیکنالوجی پر مبنی بین الاقوامیت

انہوں نے کہا کہ 2027 تک سرکاری یونیورسٹیوں کے سینڈیکیٹ، بورڈز آف گورنرز اور قانونی ادارے میرٹ اور شمولیت کی بنیاد پر دوبارہ تشکیل دیے جائیں گے جبکہ 2026 تک وائس چانسلرز اور یونیورسٹیوں کے لیے احتسابی فریم ورک نافذ ہوگا۔

پروفیسر خان نے بتایا کہ 2026 تک تمام سرکاری اور نصف نجی اداروں میں outcome-based education، کوالٹی انہانسمنٹ سیلز اور اندرونی معیار کے دائرے قائم کیے جائیں گے۔ 2027 تک صوبائی سطح کا ہائر ایجوکیشن ڈویلپمنٹ ڈیش بورڈ بنایا جائے گا، جبکہ ہر سال 150 تحقیقی منصوبوں کو فنڈنگ دی جائے گی۔

2029 تک 200 سے زائد پروگراموں کو فنڈنگ

2026 تک 10 بین المضامینی ریسرچ کلسٹرز

بین الاقوامی اشاعتوں میں دوگنا اضافہ

پنجاب کی یونیورسٹیوں کو دنیا کی ٹاپ 300 سبجیکٹ رینکنگ میں لانا

500 فیکلٹی و طلبہ اسٹارٹ اپس کی معاونت

2028 تک ہر یونیورسٹی میں ISO/PNAC سرٹیفائیڈ لیبارٹریاں قائم کرنا

فنڈنگ اور سماجی کردار

انہوں نے کہا کہ 2027 تک سرکاری اداروں میں کارکردگی پر مبنی فنڈنگ ماڈل متعارف کرایا جائے گا، جس میں پسماندہ علاقوں کو ترجیح دی جائے گی۔ 2028 تک 70 فیصد پروگرامز میں سروس لرننگ کو شامل کیا جائے گا اور ہر سال ایک لاکھ طلبہ کو سماجی سرگرمیوں میں شریک کیا جائے گا۔

قیادت اور فیکلٹی ڈیولپمنٹ

چیئرمین نے بتایا کہ 2026 تک 100 وائس چانسلرز، پرو وائس چانسلرز اور ڈینز کو ٹریننگ دی جائے گی، جبکہ 2029 تک 10 ہزار اساتذہ تدریس اور ڈیجیٹل خواندگی میں پروفیشنل ڈیولپمنٹ مکمل کریں گے۔ مزید یہ کہ 300 بین الاقوامی اور ڈائسپورا اسکالرز کی میزبانی کی جائے گی۔

ڈیجیٹل پہلو

.تک 70 فیصد اداروں میں آن لائن و ڈسٹنس لرننگ کو بڑھائے گا ، PHEC 2028

2027 تک 5 لاکھ لرنرز کے لیے MOOCs اور عالمی ای-لرننگ پلیٹ فارمز کو

وسعت دے گا اور AI-enabled اسمارٹ کیمپس قائم کرے گا۔ 2029 تک کم

از کم 10 یونیورسٹیاں QS ٹاپ 500 میں شامل ہوں گی۔

آخر میں پروفیسر خان نے کہا کہ ’’یہ روڈ میپ محض انتظامی دستاویز نہیں بلکہ ایک عہد ہے کہ پنجاب کی یونیورسٹیوں کو علم، جدت اور سماجی ذمہ داری کا مرکز بنایا جائے‘‘۔